دنیا

جب انٹر کانٹی نینٹل کے غیر معمولی مہمانوں کے بچے جنت کی تلاش میں کابل کو جہنم بنا دیتے

یاسمین افغان

پیر 18 اکتوبر 2021ء کو آس پاس کے تمام محلوں سے دور پہاڑی کے اوپر واقع مشہور کابل انٹر کانٹی نینٹل ہوٹل نے دنیا کے سب سے غیر معمولی مہمانوں کا استقبال کیا: ان خود کش حملہ آوروں کے خاندان جو کامیابی کے ساتھ اپنی جیکٹ دھماکے سے اڑانے میں کامیاب ہوئے۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ خودکش حملوں میں خود ہوٹل انٹر کانٹی نینٹل کو کئی بار نشانہ بنایا گیا۔ ہوٹل پر ہونے والے ہر حملے میں افغانوں کی جانیں گئیں اور درجنوں زخمی ہوئے۔ ان غیر معمولی مہمانوں کی میزبانی بھی یکساں طور پر ایک غیر معمولی میزبان ’سراج الدین حقانی‘نے کی۔طالبان کے قائمقام وزیر داخلہ سراج الدین حقانی ایف بی آئی کو مطلوب ہیں۔ ان کے سر پر 10 ملین ڈالر کا انعام رکھا گیا ہے۔ انہیں خودکش حملوں کے مشن کے پیچھے ماسٹر مائنڈ سمجھا جاتا تھا۔

قائم مقام وزیر داخلہ نے 10000 افغانی (100 ڈالر) کے انعام اور زمین کے ایک ٹکڑے کا اعلان کیا۔ اس غیر حقیقی تقریب سے اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ طالبان ان خودکش حملوں کے ذریعے کافروں کو شکست دینے میں کامیاب رہے۔ انہوں نے مدرسوں سے نو عمر بچوں کو بھرتی کرنے کی طالبان کی حکمت عملی کے بارے میں بات کی، یہاں تک کہ اگر بعض اوقات والدین اپنے بچوں کو حملوں سے روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ طالبان کمانڈروں نے پیغمبر اسلام کو خواب میں دیکھا اور خواب میں پیغمبراسلام نے انہیں ہدایت کی کہ اسی انٹر کانٹی نینٹل ہوٹل میں کیسے داخل ہوں۔ حقانی نے دعویٰ کیا کہ صرف بدری فورس (حقانی نیٹ ورک) نے 1050 خودکش حملے کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ”ذرا تصور کریں کہ دوسری رجمنٹوں کے ذریعے کتنے حملے کئے گئے ہونگے۔“

انہوں نے ’کافروں‘ کی ہلاکتوں کی تفصیل کا حوالہ دیا لیکن خودکش حملوں میں ہلاک ہونے والی افغان جانوں کا کوئی تخمینہ پیش نہیں کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ 20 سالوں کے دوران افغان ان خودکش حملہ آوروں کا بنیادی شکار تھے۔

اس تقریب کے بعد ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے افغانوں نے غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ خودکش حملہ آوروں کے لیے ہر جگہ ایک ہدف تھا: سڑکوں سے شادی ہالوں تک، زچگی کے ہسپتالوں سے یونیورسٹیوں اور اسکولوں سے بازاروں اور مساجد تک، یہاں تک کہ نماز جنازہ کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

کابل کی رہائشی اور دو خودکش حملوں کی گواہ ”زرمینہ“ (فرضی نامی) نے مجھ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”میں بے حس ہوں۔ میں نہیں جانتی کہ کیسے رد عمل دوں۔ ہم خودکش حملوں کے باوجود زندہ رہے تاکہ ہمارے قاتل اپنی فتح اور ہم پر ان کے حملوں کا جشن منائیں۔“

زرمینہ کے بھائی نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ”میرا دماغ ماؤف ہو رہا ہے۔ میں جرمن سفارت خانے کے قریب خودکش حملے سے بال بال بچ گیا۔ مجھے ابھی تک ڈراؤنے خواب آتے ہیں۔ روئے زمین پر دنیا ان سب کے بارے میں کیسے خاموش ہے؟“

صوبہ وردک کے صدر مقام میدان شہر کی سابق میئر ظریفہ غفاری افغانستان کے طالبان کے ہاتھوں سقوط کے بعد جرمنی فرار ہو گئی تھیں۔ انہوں نے انٹر کانٹی نینٹل ہوٹل میں منعقدہ ایونٹ سے متعلق ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ”میرا دل خون کے آنسو رو رہا ہے، شاید میرے والد کے قاتل بھی ان میں شامل ہوں گے جو اس ہال میں بیٹھے ہیں اور اس نے میرے اہل خانہ اور ہماری زندگیوں کے ساتھ جو کچھ کیا ہے اس کی اسے قیمت دی جا رہی ہے۔ مجھے جو تکلیف ہے، مجھے یقین ہے کہ یہ ان سب کے لیے یکساں ہے جو ان دہشت گردوں کے ہاتھوں ہلاک، زخمی اور معذور ہوئے ہیں۔“

فیس بک کے ایک صارف نور کابلی نے تبصرہ کیا کہ ”وہ خودکش حملہ آوروں کو زمینیں تقسیم کر رہے ہیں جنہیں انہوں نے قتل کیا اور جواپنے خاندانوں کو تکلیف میں چھوڑکر چلے گئے، وہ کیا تقسیم کر رہے ہیں، وہ ان کے زخموں پر نمک چھڑک رہے ہیں۔“

ایک اور فیس بک صارف رضیہ رومن مرزائی نے تبصرہ کیاکہ ”ہم ایسے بد نصیب لوگ ہیں، ہمارے قاتلوں کو ہمارے ہی ملک میں انعامات دیے جا رہے ہیں۔“

17 اگست 2019ء کو کابل میں دبئی شہر شادی ہال پر ہونے والے خودکش حملوں میں 80 سے زائد افغان ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوئے۔

کابل کے رہائشی نادر (فرضی نام) بتاتے ہیں کہ ”ہم نے اپنی آزادی، حقوق اور آوازیں کھو دی ہیں اور اب دہشت گردوں کا ایک گروپ اپنے خودکش حملہ آوروں کا جشن منا رہا ہے۔ ان خودکش حملہ آوروں کا نشانہ افغان تھے۔ انہوں نے ہر جگہ حملہ کیا اور افغانوں کو بے رحمی سے قتل کیا۔“

کابل کے ایک اور رہائشی نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ”کابل نہ صرف افغانستان بلکہ پوری دنیا کا مہلک ترین شہر تھا۔ ہم خودکش حملوں کے مسلسل خوف میں رہتے تھے اور اب انہیں نہ صرف سڑکوں، دفاتر اور ہر جگہ پر روزانہ کی بنیاد پر دیکھنا پڑتا ہے بلکہ ان کی تقریبات کو بھی دیکھنا پڑتا ہے۔“

بین الاقوامی تنظیموں کے سرکاری اداروں میں کام کرنے والے افغانوں کے لیے یہ ایک عام معمول تھا کہ خودکش حملوں کی صورت میں محفوظ رہنے کے لیے سیکورٹی کی مشقیں کی جائیں۔ ملازمین بالخصوص خواتین کو فلیٹ اور پائیدار جوتے پہننے کی ترغیب دی گئی تھی کیونکہ حملے کی صورت میں بچنا آسان ہوتا۔

ایک بین الاقوامی تنظیم کے سٹاف ممبر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ”ہم بہت زیادہ دباؤ میں کام کر رہے تھے کیونکہ ہر صبح جب ہم اپنے گھروں سے نکلتے تھے تو ہم سوچتے تھے کہ دروازے پر کیا جانیوالا الوداع آخری الوداع تھا اور ہم زندہ گھر واپس نہیں آئیں گے۔“

سابق حکومت کے ماتحت ایک اور خاتون ملازم نے بتایا کہ ”ہر خودکش حملے کے بعد یہ جان کر کہ آپ ٹھیک ہیں اور پھر گھبرائیں کہ پہلے کس کو فون کریں کہ وہ ٹھیک ہیں یا نہیں۔ کوئی بھی ان لمحوں کے خوف کا تصور بھی نہیں کر سکتا، نہ ہی فون کالز کا جواب نہ آنے کے کرب کو محسوس کر سکتا ہے۔“

مزار شہر کی ایک رہائشی فارمیا نے مجھے بتایا کہ ”افغانوں، متاثرین کے اہل خانہ اور ہم سب کو اس درد اور خوف کیلئے کون جواب دہ ہے، جس سے ہم سب گزشتہ 20 سالوں سے گزرے ہیں۔ سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ دنیا پہلے ہی افغانستان میں اپنی دلچسپی کھو چکی ہے۔“

ذاتی طور پر میں بہت سے افغانیوں کو جانتی ہوں جو اب بیرون ملک ہیں اور محفوظ ممالک میں رہ رہے ہیں لیکن خودکش حملوں کا خوف انہیں اب بھی پریشان کر رہا ہے۔ صدمے اور نفسیاتی اثرات اب بھی بہت سے لوگ محسوس کرتے ہیں۔ ان کے ساتھ میری متعدد مرتبہ ہونے والی گفتگو کے دوران بہت سے لوگوں نے بیان کیا کہ وہ کس طرح ہجوم والے علاقوں سے خوفزدہ ہیں، وہ کس طرح ٹرین یا بس میں سوار ہونے سے ڈرتے ہیں، کس طرح وہ بازاروں میں جانے سے ڈرتے ہیں کیونکہ یہ سب خودکش حملوں کی یادوں کو متحرک کرتا ہے۔

یہاں تک کہ ایمبولینسوں کا سائرن انہیں کابل کے ان تاریک دنوں میں واپس لے جاتا ہے جب انٹر کانٹی نینٹل کے غیر معمولی مہمانوں کے بچے جنت کی تلاش میں کابل کو جہنم بنا دیتے تھے۔

’یاسمین افغان‘ صحافی ہیں۔ وہ ماضی میں مختلف افغان نیوز چینلوں کے علاوہ بی بی سی کے لئے بھی کام کر چکی ہیں۔ سکیورٹی صورتحال کی وجہ سے ان کا قلمی نام استعمال کیا جا رہا ہے۔