خبریں/تبصرے

سپین: شہنشاہ کی توہین کے الزام میں کاتالونیا کے ’ریپر‘ کو جیل بھیج دیا گیا

لاہور (جدوجہد رپوورٹ) ہسپتانوی پولیس نے کاتالونیہ کے ’ریپر‘ پابلو ہاسل کو گرفتار کیا ہے۔ انہیں ایک گانا گانے اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ’ٹویٹس‘ کرنے کی وجہ سے سزا سنائی گئی ہے۔ پابلو ہاسل پر الزام ہے کہ انہوں نے پرتشدد کارروائیوں کو فروغ دینے، شہنشاہ کی توہین اور دہشتگردی کی ستائش پرمبنی اقدامات کئے ہیں۔

ٹیلی سور کے مطابق منگل کے روز درجنوں سکیورٹی اہلکار للیڈا یونیورسٹی کے ریکٹوریٹ میں داخل ہوئے جہاں جمعہ کے روز سے پابلو ہاسل نے اپنے آپ کو بند کر رکھا تھا۔ جمعہ کے روز انکو رضاکارانہ طور پر گرفتاری دینے کی آخری تاریخ تھی۔

گرفتاری کے موقع پر پابلو ہاسل کا کہنا تھا کہ ”وہ سارے جبر کے باوجود بھی ہمیں توڑ نہیں سکیں گے۔“ 2014ء اور 2016ء کے درمیان پابلو ہاسل نے ایک گانا لکھا تھا سوشل نیٹ ورکس پر پیغامات شائع کئے تھے جن میں انہوں نے کہا تھا کہ ہسپتانوے ادارے، پولیس اور بادشاہت فسطائی، جارحانہ اور اذیت ناک ہیں۔

پابلو ہاسل کے شائع کردہ کچھ جملوں میں ”پولیس کیمروں کے سامنے بھی تشدد کرتی ہے۔ وہ یہ چھپانے کا بہانہ کرتے ہیں کہ بہت سارے لوگ آج فسطائی بادشاہت کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے صحافیوں کو بھی مارا، پیٹا اور پڑوسیوں کو ریاستی دہشت گری کا جواب دینے کیلئے منظم ہونا چاہیے“ وغیرہ شامل تھے۔

اپنی رائے کے اظہار کی وجہ سے پابلو ہاسل کو 9 ماہ قید، عوامی عہدے پر فائز ہونے سے 6 ماہ کی نااہلی اور کم از کم 30 ہزار امریکی ڈالر جرمانے کی سزا سنائی گئی ہے۔ ٹیلی سور کے مطابق ریپر کو ملنے والی اس سزا کی وجہ سے اظہار رائے کی حدود پر ایک وسیع بحث شروع ہو چکی ہے۔ بائیں بازو کی جماعت پوڈیموس نے ریپر کیلئے معافی کا مطالبہ کیا ہے۔ پوڈیموس کے مطالبے پر فلمساز پیڈروالموڈوور اور گلوکارہ جان مانوئل جیسی شخصیات نے بھی حمایت کی ہے۔

Roznama Jeddojehad
+ posts