پاکستان

جمہوریت سیکھنی ہے تو لاہور پریس کلب سے سیکھیں

فاروق سلہریا

9 جنوری کو لاہور پریس کلب نے اپنے سالانہ انتخابات کا انعقاد کیا اور اپنی قیادت کا انتخاب کیا۔ پائینیرز گروپ کے اعظم چوہدری صدر منتخب ہو گئے جبکہ سیکرٹری کے عہدے پر پروگریسو گروپ کے عبدالمجید ساجد کامیاب رہے۔

گذشتہ اتوار کو ہونے والے انتخابات ایک لحاظ سے منفرد تھے۔ غالباً پریس کلب کی تاریخ میں پہلی دفعہ ری پولنگ کرائی گئی۔ ہوا یوں کہ 26 دسمبر کو انتخابات ہوئے۔ گذشتہ چند سالوں سے لاہور پریس کلب کے انتخابات سال کے آخری اتوار کو منعقد ہوتے ہیں۔

26 نومبر کو ہونے والے انتخابات کے بعد گنتی کے دوران تنازعہ پیدا ہو گیا۔ یہ تنازعہ کسی سکینڈل سے کم نہیں تھا۔ کچھ لوگوں نے صحافیوں کا مذاق بھی اڑایا لیکن تنازعہ پیدا ہونے کے دو دن کے اندر اندر الیکشن میں حصہ لینے والے چاروں گروپوں نے متفقہ طور پر نہ صرف ری پولنگ کا فیصلہ کیا بلکہ انتخابی عمل کو شفاف بنانے کے لئے بھی کچھ نئے اقدامات کئے گئے۔ پہلی بار شناختی کارڈ کی شرط بھی لگائی گئی۔ اسی طرح بیلٹ پیپر نئے سرے سے ڈیزائن کیا گیا تا کہ گنتی کا طریقہ کار بہتر ہو۔

یوں گذشتہ اتوار کو یہ عمل ری پولنگ کی شکل میں بخوبی اپنے انجام کو پہنچا۔ تمام امیدواروں نے انتخابات کو خوشدلی سے تسلیم کیا۔

لاہور پریس کلب کے انتخابات کی خوبصورتی کو سمجھنا ہو تو مندرجہ ذیل تصویر سے اس کی وضاحت ہو تی ہے۔ اس تصویر میں تینوں صدارتی امیدوار: جاوید فاروقی، اعظم چوہدری اور بابر ڈوگر برابر کھڑے ہیں۔ تینوں آپس میں بھی دوست اور ساتھی ہیں۔ راقم جب ووٹ دینے پہنچا تو یہ تصویر بنائی۔ تینوں ہی راقم کے بھی دیرینہ دوست ہیں اور یقین کیجئے یہ ایک مشکل فیصلہ تھا کہ کسے ووٹ نہ دیا جائے۔

یہ درست ہے کہ لاہور پریس کلب کی انتخابی سیاست میں کچھ رجعتی رجحانات بھی امڈ آئے ہیں لیکن یہ بات انتہائی اہم ہے کہ لاہور پریس کلب یا دیگر پریس کلب سالانہ بنیادوں پر اپنے انتخابات منعقد کرتے ہیں۔ اگر آپ کو یہ بات سمجھنی ہو کہ ملک میں ہر فوجی آمریت کے خلاف ایک جمہوری تحریک جنم لیتی ہے اور آمریت کا دورانیہ دس سال تک ہی رہتا ہے تو اس کی وجہ ہی وہ گراس روٹس جمہوریت ہے جو پریس کلب، وکلا ایسوسی ایشنز، ٹریڈ یونینز اور بعض سماجی تحریکوں میں پریکٹس کی جاتی ہے۔

یہ ہے پریس کلب کے انتخابات کی اصل اہمیت۔

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔