سوچ بچار

لاہور ایک بڑا سا منڈی بہاولدین بن چکا ہے

طارق اقبال

قصہ کچھ یوں ہے کہ پچھلی صدی کے چوتھے عشرے میں اردو کے صاحب طرز ادیب کرشن چندر کو کسی وجہ سے ایک رات اس خادم کی جنم بھومی یعنی کہ منڈی بہاولدین میں گزارنی پڑی۔

میرے شہر کی آب و ہوا، لوگوں کی ملنساری اور علم و ادب کی چاہت نے اس عظیم ادیب پر لافانی نقش چھوڑے۔ اس کا اظہار انہوں نے اپنے ایک انٹرویو میں کیا جب ان سے صحافی نے پوچھا کہ کیا کبھی آپ نے لاہور میں بوریت محسوس کی، تو کرشن چندرنے فی البدیہہ جواب دیا: اگر کوئی شخص لاہور میں رہ کر بورہوتا ہے تو اس کیلئے بہتر ہے کہ وہ منڈی بہاولدین چلا جائے۔

اس خادم نے پچھلی صدی کے نویں عشرے کا بیشتر عرصہ تعلیم کے حصول اور پھر معاش کیلئے لاہور میں گزارا اور لاہور کی علمی، ادبی، سیاسی اور فنکارانہ سرگرمیوں سے خوب فیض اٹھایا۔

ان دنوں جب بھی منڈی بہاولدین جاتا تو کرشن چندر کے حوالے سے اپنے دوستوں اور اہل علم لوگوں کو ان کی کم مائیگی پر خوب بدھ اٹھاتا اور لطف اندوز ہوتا۔

وقت کا پہیہ بدلتے دیر نہیں لگتی۔ کئی لوگوں کو انکے کہے اورکئے کی سزا زندگی میں ہی مل جاتی ہے۔

خادم تقریباً دو دہائیوں بعد پھر پاپی پیٹ کی خاطر لاہور میں پچھلے ایک ماہ سے مقیم ہے اور شب و روز غور و خوص کے بعد اس نتیجے پر پہنچ گیاہے کہ اب لاہور لاہور نہیں رہا، ایک بڑا سا منڈی بہاولدین بن چکا ہے۔