خبریں/تبصرے

لاہور: ’کشمیر یکجہتی مارچ‘ میں سینکڑوں افراد کی شرکت

لاہور (ناصر اقبال نمائندہ لیفٹ فرنٹ) گزشتہ روز لاہور لیفٹ فرنٹ اور عورت مارچ کے زیر اہتمام مشترکہ طور پر منظم کیے جانے والے ’کشمیر یکجہتی مارچ‘ میں بائیں بازو کے سینکڑوں کارکنوں نے شرکت کی۔ یہ مارچ لبرٹی چوک سے شروع ہوا۔

لاہور کا لبرٹی چوک اور مین بلیوارڈ آزادی کے نعروں سے گونج اٹھے۔ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد جوش و خروش سے کشمیر پر سامراجی تسلط اور کشمیر کی تقسیم کے خلاف نعرے لگاتی رہی۔ مارچ میں عورتوں کی ایک قابلِ ذکر تعداد نے بھی شرکت کی۔

اس موقع پر لاہور لیفٹ فرنٹ کے کنوینر فاروق طارق نے خطاب کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ کشمیر کے کمیونسٹ رہنما محمد یوسف تاریگامی سمیت تمام چار ہزار مقید رہنماؤں اور کارکنوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ آج بھارت اور پاکستان کا بایاں بازو کشمیر کی تقسیم کے خلاف ایک جیسا نقطہ نظر پیش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بائیں بازو نے دونوں اطراف کشمیریوں  سے یکجہتی کے مظاہرے منظم کیے ہیں اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ فاروق طارق نے کشمیری نوجوان رہنما شہلا رشید کو ہندو مذہبی جنونیوں کی طرف سے دی گئی دھمکیوں کی بھی شدید مذمت کی۔

مارچ سے خطاب کرنے والوں میں جموں کشمیر سٹوڈنٹس کونسل کے عثمان، جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے شہریار ذوالفقار، این ایس ایف کی پوروا مسعود، عورت مارچ کی فاطمہ رزاق، عوامی ورکرز پارٹی گلگت بلتستان کے حیدر بیوک، جائنٹ ایکشن کمیٹی کی بشریٰ خالق، آل پاکستان ٹریڈ یونین فیڈریشن کی روبینہ جمیل، پاکستان مزدور کسان پارٹی کے کامریڈ عرفان اور تیمور رحمان بھی شامل تھے۔

مارچ میں حنا جیلانی اور امتیاز عالم سمیت درجنوں دیگر نمایاں شخصیات نے بھی شرکت کی۔ مارچ میں لاہور لیفٹ فرنٹ سے منسلک پارٹیوں کے علاوہ نیشنل پارٹی، پاکستان پیپلزپارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔

اس موقع پر لاہور لیفٹ فرنٹ کا مندرجہ ذیل اعلامیہ بھی جاری کیا گیا:

”ہم ترقی پسند بائیں بازو کے افراد اور تنظیمیں جو آج 20 اگست 2019ء کو لبرٹی چوک لاہور میں ’کشمیر یکجہتی مارچ‘ میں شریک ہیں کشمیر کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ کشمیرپر غیر آئینی قبضہ، کشمیر کی یک طرفہ تقسیم اور توڑ پھوڑ، جموں کشمیر میں غیر معمولی ملٹرائزیشن کے اقدامات‘ کشمیر کے عوام کی مرضی و منشا کے خلاف اٹھائے گئے ہیں اور یہ جابرانہ اقدامات اقوام متحدہ کے چارٹر، سکیورٹی کونسل کی قراردادوں، انسانی حقوق کے عالمی ڈیکلیریشن، سوک رائٹس کے عالمی کنونشنز کی تمام شقوں کو پامال کرتے نظر آتے ہیں۔

”ہم کشمیر کے خصوصی سٹیٹس کو یکطرفہ طور پر ختم کرنے، آرٹیکل370 کو آئین سے یکطرفہ طورپر مٹانے اور کشمیر کے مختلف حصوں پر بھارتی تسلط اور یونین علاقہ قرار دینے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ ہم ہندوشاونزم کو فروغ دینے، فاشسٹ ہتھکنڈوں کو استعمال کرنے اور بھارتی ریاست کے سیکولر اور جمہوری کردار کو مذہبی بنانے کی کوششوں کے شدید خلاف ہیں۔ یہ اقدامات بھارت میں بسنے والی مذہبی اقلیتوں، خصوصی طورپر مسلمانوں اور عیسائیوں کی نسلی صفائی کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ ہم کشمیر میں دو ہفتوں سے جاری کرفیو کے خلاف باہر نکلنے والے مظاہرین، جلسے جلوسوں پر ریاستی جابرانہ اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہیں اور کشمیری کے عوام کے جمہوری آئینی حقوق کی پامالی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ ہم کشمیر میں میڈیا پر لگائی پابندیوں کے فوری خاتمے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

”کشمیری مظاہرین پر پیلٹ گن کے استعمال، عورتوں بچوں کو ہراساں کرنے کے مسلسل و اقعات، کمیونیکیشن کے تمام ذرائع کو منقطع کرنے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہیں اور اس کا شکار ہونے والوں سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ ہم مودی حکومت کی جانب سے جنگی جنون اور نیوکلیئر ہتھیاروں کے استعمال کی گفتگو کی شدید مذمت کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس قسم کے حالات میں کچھ بھی ممکن ہوسکتا ہے اور انسانی تاریخ کا ایک اورتاریخی المیہ رونما ہوسکتا ہے۔

”پاکستانی اور بھارتی حکومتیں کشمیر کے مسئلہ کو حل کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ اب بھارتی حکمرانوں نے کشمیر پر قبضے کے ذریعے اس کو حل کرنے کی جو کوشش کی ہے وہ اس مسئلہ کو مزید گھمبیر اورپیچیدہ بنا رہی ہے۔ کشمیر کے مسئلے کا اصل حل کشمیریوں کے پاس ہے۔ کشمیر کے عوام کو دونوں اطراف اپنی خود ارادیت کا حق حاصل ہونا چاہیے اور وہ خود ایک جمہوری ریفرنڈم کے ذریعے فیصلے کریں کہ وہ آزاد رہنا چاہتے ہیں یا بھارت و پاکستان میں کسی ایک کا چناؤ چاہتے ہیں۔ کشمیری عوام کو حق خودارادیت کے علاوہ علیحدگی کا حق بھی ملنا چاہیے۔ تقسیم شدہ کشمیر کے علاوہ گلگت بلتستان بھی ایک واضح سٹیٹس کے بغیر موجود ہے۔ ہم گلگت بلتستان کے عوام کی خواہشات کے مطابق اس خطہ میں جمہوری و قومی حقوق کے حامی ہیں۔

”ہم مطالبہ کرتے ہیں کرفیو فوری ختم کیا جائے۔ کمیونی کیشن بحال کی جائیں۔ کشمیر کے تمام علاقوں سے افواج کو واپس بلایا جائے۔ ملٹرائزیشن کی دوڑ ختم کی جائے۔ کشمیری عوام کے تمام بنیادی انسانی جمہوری حقوق کی بحالی اور ان کی زندگی کے دفاع کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ کشمیر کے تمام علاقوں میں انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں، اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی مانیٹرنگ کمیٹی اور مبصرین کو وزٹ کرنے اور ان کا جائزہ لینے کی فوری اجازت ہونی چاہیے۔ تقسیم شدہ کشمیر کے تمام حصوں سے ملٹرائزیشن کا عمل روکا جائے۔ افواج کا وہاں سے انخلا کیاجائے۔ ہم دنیا بھر کی حکومتوں اور عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے کشمیریوں کے حق خودارادیت و علیحدگی کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے استصواب رائے کے جمہوری اہتمام کے اقدامات کرنے میں مدد کریں۔

”ہم بھارت اورپاکستان کی حکومتوں کو کشمیر کے ایشو پر جنگی جنون بڑھانے کے اقدامات کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس ایشو کا ایک پرامن حل نکالنے کی جستجو کی جائے۔ ہم ریاستی و نان ریاستی عناصر کی جانب سے کراس بارڈر دہشت گردی کے ہر قسم کے واقعات کے سدباب کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ہم کشمیری عوام کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم ان کے حق خودارادیت اور علیحدگی کے حق کے ساتھ مکمل اظہار یکجہتی کرتے ہیں۔ ان کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا مکمل اختیار ہونا چاہیے۔

”آج کے اس کشمیر مارچ کو لاہور لیفٹ فرنٹ اور عورت مارچ نے مشترکہ طورپر منظم کیا ہے جبکہ اس مارچ کو منظم کرنے میں سیفما، جوائٹ ایکشن کمیٹی فار پیپلز رائٹس، جموں کشمیر سٹوڈنٹس کونسل، جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن اور پروگریسو سٹوڈنٹس کولیکٹو کا تعاون شامل ہے۔ اس کے علاوہ لاہور لیفٹ فرنٹ کی ممبر تنظیموں عوامی ورکرز پارٹی، پاکستان مزدور کسان پارٹی، پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین، انقلابی سوشلسٹ تحریک، کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان، حقوق خلق موومنٹ کے کارکنان نے اس مارچ کی تنظیم سازی میں بھر پور حصہ لیا اور شرکت کی۔ ان کے علاوہ آل پاکستان ٹریڈیونین فیڈریشن، پنجاب یونین آف جرنلسٹس اور تمام ترقی پسند نوجوانوں اور شخصیات بھی آج کے مارچ میں شریک ہوئیں۔“