خبریں/تبصرے

’کشمیر والا‘ کے بانی ایڈیٹر فہد شاہ بغاوت اور دہشتگردی کے الزام میں گرفتار

راولاکوٹ (جدوجہد رپورٹ) بھارت کے زیر انتظام جموں کشمیر کے معروف صحافی فہد شاہ کو دہشت گردی اور بغاوت کے قوانین کے تحت گرفتار کر لیا گیا ہے۔

فہد شاہ جموں کشمیرمیں مقبول نیوز ویب سائٹ ’کشمیر والا‘ کے بانی اور ایڈیٹر ہیں۔ انہیں گزشتہ جمعہ 4 فروری کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب انہیں وادی کشمیر کے جنوبی ضلع پلوامہ کے ایک پولیس اسٹیشن میں طلب کیا گیا تھا۔

33 سالہ فہد شاہ متعدد بین الاقوامی جریدوں کیلئے کشمیر سے رپورٹنگ کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے بلاگ کو ایک نیوز ویب سائٹ میں تبدیل کیا جو چند ہی سال میں انتہائی مقبول نیوز ویب سائٹبن چکی ہے۔ بھارتی زیر انتظام جموں کشمیرمیں ریاستی دباؤ اور دھمکیوں کے باوجود فہد شاہ اور ان کی رپورٹنگ ٹیم نے بھارتی فوج کے مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو کور کرنا جاری رکھاہوا تھا۔

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ 5 جنوری کو ’کشمیر والا‘ کے ساتھ منسلک رپورٹر سجاد گل کو بھی پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔ سجاد گل کو ایسے معاملات پر رپورٹنگ کرنے کے الزام میں گرفتار کیاگیا تھا، جنہیں مقامی حکومت مسائل کا موجب سمجھتی ہے۔

بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر کی پولیس کے انسپکٹر جنرل وجے کمار نے صحافیوں کو بتایا کہ ”فہد شاہ کے خلاف گزشتہ 3 سے 4 سال کے دوران دہشت گردی کی تعریف کرنے، جعلی خبریں پھیلانے اور لوگوں کو اکسانے کے الزام میں 3 مقدمات درج ہیں، جن میں سے ایک کی بنیاد پر انہیں گرفتار کیا گیا ہے۔“

پولیس نے انہیں غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کیلئے نافذ کئے گئے ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت حراست میں لیا گیا ہے۔ مذکورہ قانون کے غلط استعمال کے ذریعے بے گناہ شہریوں کو دبانابھارتی زیر انتظام جموں کشمیر میں ایک معمول بن چکا ہے۔

کشمیر والا کے مطابق فہد شاہ کو 10 دن کی حراست میں رکھا گیا ہے۔ یو اے پی اے کے تحت پولیس کو کسی بھی شخص کو بغیر کسی الزام کے 6 ماہ تک حراست میں رکھنے کا حق حاصل ہے اور اس قانون کے تحت گرفتار شخص کی ضمانت حاصل کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ فہد شاہ پر اگر جرم ثابت ہوا تو انہیں عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

فہد شاہ پر الزام ہے کہ انہوں نے پلوامہ میں ایک سکیورٹی فورسز کے انکاؤنٹر سے متعلق شائع کی جانیوالی خبر میں مارے جانے والے مبینہ عسکریت پسندکے اہل خانہ کا موقف بھی شامل کیا تھا۔ اہل خانہ نے الزام عائد کیا تھا کہ بھارتی فوج نے بے گناہ شہری کوہلاک کر کے اسے عسکریت پسند قرار دیا ہے۔

ادھر کشمیر پریس کلب کو بھی حکومت کے حامی صحافیوں کی طرف سے بغاوت کے بعد پولیس نے یکطرفہ طور پر گزشتہ ماہ بند کر دیا تھا۔ کشمیر پریس کلب کئی دہائیوں سے اس خطے میں صحافیوں کا گھر رہا ہے۔

ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا نے فہد شاہ کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے) اور رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز (آر ایس ایف) نے بھی فہد شاہ کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔