خبریں/تبصرے

’تیسری دنیا کے قرضوں کو منسوخ کیا جائے‘

لاہور (جدوجہد رپورٹ) گذشتہ روز پاکستان کسان رابطہ کمیٹی نے لاہور پریس کلب کے باہر علامتی احتجاج کیا۔ احتجاج کے شرکا نے پلے کارڈ ز اٹھا رکھے تھے جن پر ایشیا میں بڑھتے ہوئے قرضوں کے خاتمے جیسے مطالبات کا ذکر کیا گیا تھا۔ یہ مظاہرہ ’ایشیائی عوامی تحریک برائے قرض و ترقی‘کے تعاون سے منظم کیا گیا تھا۔

اس موقع پر ضیغم عباس نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ایشیائی ممالک کی اکثریت اپنی آبادی کی بنیادی ضروریات پورا کرنے میں ناکام ہو رہی ہے جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ قرضوں کی ادائیگی کے ایک گھناؤنے چکر میں پھنسے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا ”کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک کرونا وبا کی وجہ سے شدت اختیار کرنے والے بحرانوں کی لپیٹ میں ہیں اور گزشتہ دو سالوں میں لاکھوں افراد غربت کا شکار ہوگئے ہیں۔ صرف ایشیائی ممالک کے عوامی بیرونی قرضوں کا حجم 1.23 ٹریلین امریکی ڈالر ہے جن میں سے 750 ارب ڈالر نجی قرض دہندگان اور 482 ارب ڈالر سرکاری قرض دہندگان جیسے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ، عالمی بینک اور دیگر حکومتوں پر واجب الادا ہیں“۔

اس موقع پر پاکستان کسان را بطہ کمیٹی کی نمائندہ صائمہ ضیا نے کہا کہ ”جی سیون ممالک دنیا کے سب سے بڑے تاریخی گرین ہاؤس گیس ایمیٹرز میں شامل ہیں اور گلوبل وارمنگ اور آب و ہوا کے بحران کے بنیادی طور پر ذمہ دار ہیں“۔

دریں اثنا، ایشیائی عوامی تحریک برائے قرض و ترقی (اے پی ایم ڈی ڈی) نے آج فلپائن میں جرمن سفارت خانے کے قریب احتجاج کیا اور ایشیائی ترقی پذیر ممالک سے دعویٰ کیے گئے قرضوں کی علامتی طور پر تردید کی۔ مظاہرین نے مارچ 2022ء تک ایشیا کے قرضوں کی نمائندگی کرنے والے غیر ملکی قرضوں کا ایک نقلی بل پھاڑ دیا جس کی مالیت ایک ٹریلین امریکی ڈالر سے زیادہ تھی۔

انڈونیشیا، بھارت، بنگلہ دیش اور نیپال میں بھی اے پی ایم ڈی ڈی کے اراکین نے گذشتہ روز احتجاجی مظاہرے کئے۔ اے پی ایم ڈی ڈی کی مربوط سرگرمی دنیا بھر میں 24 سے 28 جون تک ہونے والے مظاہروں کاحصہ ہے۔ یہ مظاہرے جرمنی کی میزبانی میں جاری جی 7 سربراہ اجلاس کے وقت ہو رہے ہیں۔

اے پی ایم ڈی ڈی کی کوآرڈینیٹر لیڈی ناپیل نے کہا کہ ہماری حکومتیں لوگوں کی ضروریات کے مقابلے میں قرضوں کی کی ادائیگیوں پر زیادہ خرچ کرتی ہیں اور اب بھی قرض لینے کی دوڑ جاری رکھے ہوئے ہیں کیونکہ جی سیون ممالک قرضوں کی مالی معاونت اور قرضوں کی تخلیق کے حل کو آگے بڑھا رہے ہیں۔

Roznama Jeddojehad
+ posts