پاکستان

یہ مارچ ہے نہ لانگ ہے

فاروق سلہریا

عمران خان نے جمعہ کے روز جو نام نہاد لانگ مارچ لاہو سے شروع کیا تھا وہ رینگتا ہوا، تا دم تحریر گوجرانوالہ بھی نہیں پہنچ پایا۔ پہلے چار دن میں یہ بالکل واضح طور پر نظر آ رہا ہے کہ یہ لانگ مارچ نہ لانگ ہے نہ مارچ۔

بعض اطلاعات کے مطابق، کسی موقع پر اگر ہجوم کی تعداد بڑھی بھی تو پانچ سات ہزار سے زیادہ نہیں تھی۔ ادہر، ہر شام کو یہ ’مارچ ‘ ختم کر دیا جاتا ہے۔ مرکزی قائدین عام کارکنوں کو فٹ پاتھ پر چھوڑ کر اپنے آرام دہ محلوں کو لوٹ جاتے ہیں۔

یاد رہے کہ اس مارچ کو، مارچ شروع ہونے سے پہلے ہی، بھر پور میڈیا کوریج مل رہی تھی۔ مارچ شروع ہونے کے بعد بھی بھر پور میڈیا کوریج مل رہی ہے۔ بعض چینل بضد ہیں کہ مارچ میں لوگوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔ ’بڑ ی تعداد‘ سے کیا مراد ہے: ہزاروں، لاکھوں، کروڑوں؟ اس کی کوئی وضاحت نہیں دی جاتی لیکن جب ہجوم دکھایا جاتا ہے تو تمام تر بیک گراؤنڈ میوزک اور نیوز اینکرز کی چیخ و چکار کے، شرکائے مارچ کی تعداد دو چار ہزار سے زیادہ کہیں دکھائی نہیں دی۔

یوں ایک مرتبہ پھر یہ ثابت ہوا کہ تحریک انصاف کے حامی عمران خان کو ووٹ دینے نکل سکتے ہیں، جلسوں میں آ سکتے ہیں مگر لانگ یا شارٹ مارچ کی سختیاں نہیں جھیل سکتے بالخصوص جب پولیس تشدد کا بھی خوف ہو تو قوم یوتھ گھر سے نہیں نکلتی۔

بات سیدھی سی ہے: تحریک انصاف ظالموں کی مظلومیت کا اظہار ہے۔ یہ مڈل کلاس کی جماعت ہے جس کی قیادت بلا کا بدعنوان سرمایہ دار اور زمیندار طبقہ کر رہا ہے۔ اس طبقے اور اس کی جماعت کا فلسفہ ہے کہ مظلوم کے گلے پڑ جاؤ اور ظالم کے پاؤں۔

عمران خان کا سارا ریڈیکل ازم بھی اگلے چند دنوں میں جھاگ کی طرح بیٹھ جائے گا۔ فوج کھل کر ان کی مخالفت میں سامنے آ گئی ہے۔ اگر فوج منقسم تھی اور اس کے بعض دھڑے عمران کی پشت پناہی کر رہے تھے تو یہ زیادہ دیر نہیں چلے گا۔ ڈی جی آئی ایس آئی کی پریس کانفرنس اس بات کا اظہار تھی کہ فوج نے اپنی صفیں از سر نو درست کی ہیں۔ بلاشبہ یہ پریس کانفرنس فوج کے نروس ہونے کی بھی علامت تھی لیکن یہ اس بات کا برملا اظہار تھا کہ اب یہ لڑائی براۂ راست تحریک انصاف اور فوج میں ہے۔

یہ بات تحریک انصاف میں شامل الیکٹیبلز بھی جانتے ہیں۔ مزید یہ کہ پریس کانفرنس کے بعد، یا شائد پہلے ہی، کچھ بندو بست کئے جا چکے ہوں گے۔

اس لئے قوی امکان ہے کہ تحریک انصاف میں توڑ پھوڑ ہو گی۔ فیصل واوڈا ایک غیر اہم مگر علامتی ابتدا ہے۔ عمران خان کو مزید نا اہلیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان صفحات پر پہلے بھی کہا گیا تھا کہ اگلی حکومت عمران خان کی نہیں بنے گی۔ پھر یہ بات دہرائی جا رہی ہے۔ اس لئے لانگ مارچ تھوڑا سا لانگ بھی ہوتا تو فرق نہیں پڑنا تھا۔

سیاست سے لا علمی کا نتیجہ ہے کہ عمران خان نے اس لانگ مارچ کی شکل میں اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی مار لی۔

لانگ مارچ بارے سوشلسٹ موقف کیا ہونا چاہئے

یہ لانگ مارچ حکمران طبقے کی آپسی لڑائی کا بے ہودہ اظہار ہے۔ اس لانگ مارچ کا کوئی ترقی پسندانہ پہلو نہیں ہے۔ اگر کسی کو لگتا ہے کہ عمران خان فوج کے خلاف اور سول بالا دستی کی لڑائی لڑ رہا ہے تو اسے قریبی ماہر نفسیات سے فوری رابطہ کرنا چاہئے۔ عمران خان فسطائی سوچ پر مبنی ایک سیاسی پراجیکٹ ہے جو اپنی سرشست، طبقاتی بنت، سماجی بنیاد اور نظریاتی لحاظ سے جمہوریت دشمن ہے۔

بطور سوشلسٹ ہمارا موقف ہے لانگ مارچ ہونا چاہئے: سول بالا دستی کے لئے، طبقاتی سماج کے خاتمے کے لئے، مفت تعلیم اور صحت کے لئے، با عزت روزگار، مہنگائی کے خاتمے، ماحولیات کی تباہی روکنے کے لئے، پدر سری اور سامراج کے خلاف، عالمی قرضوں کی منسوخی کی خاطر۔ لانگ مارچ ہونا چاہئے کہ آمریت، عدالتی بدعنوانی، سماجی عدم مساوات، سامراج، عالمی جنگیں پاکستان کے محنت کشوں کو منظور نہیں۔

یہ مارچ تحریک انصاف کرے گی نہ پی ڈی ایم۔ یہ مارچ پاکستان کے عوام کریں گے۔ ابھی نہیں…مگر ایک دن وہ کریں گے ضرور۔

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔