Ammar Yasir

[molongui_author_box]

جہالت کی نفسیات

جہالت کی نفسیات جانور والی ہوتی ہیں۔ جانور کا زمان و مکان اسی حد تک محدود (یا وسیع) ہوتا ہے جس حد تک اس کی نظر جاتی ہے۔ اس کے برعکس،انسان اپنے سماجی تعلقات کی بنیاد پر۔۔۔جس میں زبان بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔۔۔انسان اپنے وقت (حاضر) کے علاوہ دیگر وقتوں (ماضی و حال) بارے بھی جانتا یا سوچتا ہے۔

یہ بیانئے کی جنگ نہیں ہے: ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ

مظاہرین جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اور نجی ملیشیاؤں کے خاتمے کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔ ابتدائی طورپر بالاچ کی لاش کے ساتھ تربت احتجاج جاری رہا، لیکن حکومت نے مطالبات پر کوئی توجہ نہیں دی۔ ریلی کی شکل میں کوئٹہ کی طرف بڑھتے ہوئے مظاہرین کی بھی کوئی شنوائی نہیں ہوئی اور حکومت نے احتجاجی مارچ میں حصہ لینے والوں کی گرفتاریوں، من گھڑت مقدمات کے اندراج اور 44سرکاری ملازمین کو روزگار سے برطرف کر کے سخت رد عمل ظاہر کیا۔

یوگا

آپ بھی یوگ کے آسن سیکھئے۔ اس پر عمل کیجئے۔ پورے ایک سو بیس آسنوں کا حال میری کتاب’یوگ! کیوں اور کیسے‘ میں درج ہے۔ قیمت پانچ روپے۔ ملنے کا پتہ۔ آوارہ یوگی۔ پوسٹ بکس نمبر420شکار پور۔ سندھ۔

گلوبلائزیشن اور میڈیا سامراج: مدیر جدوجہد کا 5 دسمبر کو ہائبرڈ سیمینار

یہ مقالہ ’گلوبلائزیشن کے عہد میں میڈیا سامراج: ہندوستان،پاکستان کا مقدمہ‘ کے موضوع پر ہے۔ اس سیمینار کا اہتمام سودرتورن یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغیات و میڈیا اسٹڈیز نے کیا ہے۔ یہ سیمینار سالانہ لیکچر سیریز کا حصہ ہے جس کا اہتمام شعبہ ابلاغیات و میڈیا اسٹڈیز کرتا ہے۔

جان جاناں: محبت ریاست سے زیادہ طاقتور

معروف مارکسی نظریہ دان اور فورتھ انٹرنیشنل کے رہنما، ارنسٹ مینڈل، کا ایک مشغلہ تھا جاسوسی ادب پڑھنا۔ ایک بار انہوں نے جاسوسی ادب بارے ایک تفصیلی مضمون لکھا جس میں جاسوسی ادب کا مارکسی جائزہ لیا گیا۔ یہ طویل مضمون ان کی آن لائن آرکائیو میں موجود ہے۔
اپنے مضمون میں انہوں نے ایک دلچسپ نتیجہ یہ اخذ کیا کہ جاسوسی ادب میں ابتدائی طور پر پرائیویٹ طور پر کام کرنے والے جاسوس کیس حل کرتے تھے۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب سرمایہ داری کا ابھار ہو رہا تھا۔ ایک بار جب سرمایہ دارانہ ریاستیں مستحکم طور پر قائم ہو گئیں تو مسٹر ی کیس کو حل کرنے کا کام جاسوسی ادب میں بھی زیادہ تر ریاست یعنی پولیس یا سی آئی ڈی طرح کے اداروں نے سنبھا ل لیا۔

’مارکس سے خائف لوگ‘

’مارکس سے خائف لوگ‘ ایک انتہائی دلچسپ کتاب ہے، جو پاکستانی سماج، اسکی سیاست، ریاست، پاپولر کلچر اور صحافت کا مارکسی نقطہ نظر سے تجزیہ کرتی ہے۔ مختلف تبصروں کے اس مجموعے کے مصنف عامر رضا کا کمال یہ ہے کہ وہ دقیق تھیوریٹکل سوالوں پر بحث کوانتہائی آسان اور عام فہم زبان میں پیش کرتے ہیں، یا یوں کہیں کہ یہ کتاب مصنف کی گہری سماجی نظراور داستان گوئی کی باکمال صلاحیتوں کا ایک خوبصورت امتزاج ہے۔ جس میں حکمران طبقات کی طرف سے تخلیق کردہ بیانیوں کو ڈی کنسٹرکٹ کرتے ہوئے مذہب، نظریے اورسیاست کو پرکھنے کا ایک متبادل نقطہ نظرپیش کیا گیا ہے۔

بھٹو کو کیوں قتل کیا گیا؟

سنئے پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین کے سیکرٹری جرنل قمر الزماں خان کا تجزیہ و تبصرہ بعنوان ’بھٹو کو کیوں قتل کیا گیا؟‘

نابلس میں اسرائیلی فوج نے 10 فلسطینیوں کو ہلاک کر دیا

اسرائیلی فوج نے کہا کہ فورسز اب نابلس شہر میں کام کر رہی ہیں، تاہم انہوں نے تفصیلات فراہم نہیں کی۔ عینی شاہدین نے بیان کیا کہ اسرائیلی فوجیوں نے اندھا دھند فائرنگ کی۔ فورسز گھروں میں موجود لوگوں پر گولیاں چلا رہی تھیں۔
فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ اسرائیل اس طرح کام کر رہا ہے کیونکہ اس کا جوابدہ نہیں ٹھہرایا جا رہا ہے اور فلسطینیوں کا قتل عام کر رہا ہے۔