اداریہ

قصور تا خیر پور: عبرتناک سزا نہیں مثالی اقدامات بچوں کا جنسی استحصال روک سکتے ہیں

اداریہ جدوجہد

ریاستی مشینری ہو، حکومتی ادارے ہوں یا میڈیا…پاکستان میں بچوں کے مسائل پر بات نہ ہونے کے برابر کی جاتی ہے۔ بد قسمتی سے پاکستانی بچے طرح طرح کے ظلم، استحصال، تشدد، نا انصافی، محرومی اور جبر کا شکار ہیں۔

بچے اپنا خیال نہیں رکھ سکتے۔ اپنی حفاظت نہیں کر سکتے۔ انہیں طرح طرح کے خطرات لاحق ہوتے ہیں۔ ان کی بے شمار ضروریات ہوتی ہیں: خوراک، علاج، تعلیم، تفریح، محبت اور خوشی ان میں سے چند ایک بنیادی ضروریات ہیں۔ بچہ کسی بھی طبقے کا ہو اس کا حق ہے کہ اس کی یہ بنیادی سی ضروریات پوری ہوں۔

یہاں یہ صورت حال ہے کہ پاکستان آج تک چائلڈ لیبر ہی ختم نہیں کر سکا۔ تقریباً ہر متمول گھر میں آپ کو چائلڈ لیبر نظر آئے گی۔ ہر دوسرے چوک میں بھیک مانگتے ہوئے بچے دکھائی دیں گے۔ فیکٹریاں، کیفے اور ورکشاپس چائلڈ لیبر سے بھری پڑی ہیں۔

پاکستانی بچے وہ بدقسمت مخلوق ہیں جن کی ایک بڑی تعداد اسکول تک نہیں جاپاتی۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ لاکھوں بچے مدرسے بھیج دئے جاتے ہیں۔ ادھر سرکاری سکولوں اور مدرسوں کا فرق ہی ختم ہو چکا ہے۔ دونوں جگہ بچے شدید جسمانی تشدد کا شکار بنتے ہیں۔ اس تشدد کی ایک انتہائی بدترین شکل جنسی استحصال ہے۔

اسکول اور مدرسے تو غیر محفوظ ہیں ہی، گھرو ں اور گلی محلے میں بھی بچے محفوظ نہیں۔ اس کی ایک تازہ اور ہولناک مثال خیر پور میں سامنے آئی جہاں ٹیوشن سنٹر چلانے والا ایک سابقہ استاد نہ صرف بچوں سے زیادتی کا جرم کر رہا تھا بلکہ بچوں کی ویڈیوز بھی بناتا رہا۔ کئی ہولناک انکشافات پچھلے تین دن سے سامنے آئے ہیں۔ سن کر دل کانپ جاتا ہے۔

اس سے قبل ہم قصور کے حوالے سے ہولناک واقعات بارے سن چکے ہیں۔ جب قصور کی کم سن بچی زینب ظلم و بربریت کا شکار ہوئی تو عبرت ناک سزا کا مطالبہ ہوا۔ اس وقت کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف، جو پنجاب میں پولیس مقابلوں کے بانی اور عبرت ناک سزا کے فلسفے پر یقین رکھتے ہیں، نے مطالبے پر عمل کرایا۔ زینب کے مجرم کو پھانسی ہوئی مگر اس کے بعد سے بے شمار ہولناک واقعات سامنے آ چکے ہیں۔

گویا عبرتناک سزا سے کوئی فرق نہیں پڑا۔ پڑ بھی نہیں سکتا تھا۔ عبرتناک سزائیں جرم کو مزید متشدد بنا دیتی ہیں۔ سزا ملنی چاہئے۔ ضرور ملنی چاہئے مگر سزا سے کم از کم بچوں کے جنسی استحصال کو روکنا نا ممکن ہے۔ اس لئے اب عبرت ناک سزا کا راگ الاپنا بند ہونا چاہئے اور ایک نئی بحث شروع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ نئے اقدامات کئے جا سکیں۔

اس مسئلے کو کئی سطح پر ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے یہ کہ ریاست اور معاشرے کو اس مسئلے کو تسلیم کر کے ایک نئی بحث شروع کر نا ہو گی۔ تحقیق کرنا ہو گی۔ آنکھیں پھیر لینے سے مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ نئی قانون سازی کرنا ہو گی۔ ریاست کو بجٹ میں اس کے لئے بھاری رقم رکھنا ہو گی۔

کام کا آغاز گھر اور اسکول سے کرنا ہو گا۔ سب سے پہلے بچوں کو اور والدین کو تربیت دینا ہو گی۔ بچے کو پتہ ہونا چاہئے کہ اس کو کوئی بھی چھو نہیں سکتا۔ مغرب کے اسکولوں میں سختی سے منع ہے کہ استاد بچے کو چھو نہیں سکتا۔ بچوں کو چوتھی یا پانچویں جماعت سے جنسی استحصال اور اس سے نپٹنے کے لئے تربیت دی جاتی ہے۔ اسکولوں میں بچوں کو تربیت دی جائے کہ جنسی تشدد سے کیسے بچنا ہے۔ بہت سے بچے اسکول ہی نہیں جا تے۔ ان تک بھی پہنچنا ہو گا۔ میڈیا کو کردار ادا کرنا ہو گا۔ اسی طرح ہر قصبے اور شہر میں ایک سرکاری ہیلپ لائن ہونی چاہئے جہاں بچے شکایت کر سکیں۔

ماں باپ کو سکھانے کی ضرورت ہے کہ بچوں کو بالغوں کی صحبت میں اکیلے نہیں چھوڑنا چاہے کچھ بھی ہو جائے۔ استاد، رشتہ دار، محلے دار یا مولوی صاحب کسی پر بھی بچے کے حوالے سے بھروسہ نہیں کرنا۔ یہ سب باتیں بچے کو خود بھی پتہ ہونی چاہئے۔

شعور، تربیت، نئے اقدامات اور نئی سہولیات کی مدد سے… معاشرے، خاندان، حکومت اور ریاست کی عملی شرکت سے ہی یہ ظلم روکا جا سکتا ہے۔ ایک ایٹمی طاقت اگر اپنے بچوں کی حفاظت نہیں کر سکتی تو ایسی ریاست کی ترجیحات کتنی شرمناک ہیں، کہنے کی ضرورت نہیں۔