خبریں/تبصرے

لاہور: سکالرشپس کیلئے پشتون طلبہ کا دھرنا آٹھ روز سے جاری

لاہور (یونس، رہنما پشتون سٹوڈنٹس کونسل) پاکستان کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات یعنی فاٹا کو پچیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے صوبہ خیبر پختونخواہ کا حصہ بنا دیا گیا۔ مئی 2018ء میں دس سالہ منصوبہ بنایا گیا جس میں فاٹا کے لوگوں کو بہت ساری مراعات دی گئیں۔ اس میں آئندہ دس سالوں کے لئے ملک کی مختلف یونیورسٹیوں میں فاٹا کے طلبہ کے لئے مخصوص نشستیں رکھی گئیں اور یہ عہد کیا گیا کہ ان طلبہ سے کوئی فیس وصول نہیں کی جائے گی۔ یہ سلسلہ دو سال تک جاری رہا مگر حال ہی میں بہاوالدین زکریا یونیورسٹی ملتان اور اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کی انتظامیہ نے ان ریزرو سیٹوں کو یکسر ختم کر دیا اور یہ جواز پیش کیا کہ ان کے پاس فنڈز نہیں اس لئے وہ سابقہ فاٹا کے طلبہ کو مزید ریزرو سیٹس نہیں دے سکتے۔ ستم ظریفی دیکھئے کہ مذکورہ یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز طلبہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آپ لوگ وفاقی یا صوبائی حکومتوں سے فنڈز لے کر آئیں تاکہ ہم آپ کو فری تعلیم دے سکیں۔

اس سب سے مجبور ہو کر طلبہ کو ملتان سے لاہور آنا پڑا اور انہوں نے لاہور میں گورنر ہاوس کے سامنے دھرنا دیا جو تاحال جاری ہے۔ کئی روز دھرنا دینے کے باوجود ان کے مطالبات اب تک تسلیم نہیں کئے گئے اور گورنر نے ایک مبہم فیصلے کے ذریعے دھرنا ختم کرنے کی کوشش کی مگر طلبہ بضد رہے اور دھرنا نہ ختم کرنے پر ڈٹ گئے۔ نوجون نسل قوم کا سرمایہ ہوتی ہے، ترقی یافتہ ممالک نوجوانوں میں پوشیدہ صلاحیتوں کو نکھارنے پر اپنی توانائی صرف کر دیتے ہیں مگر پاکستان میں نوجوان نسل اپنے حقوق مانگنے کے لئے در بدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔