خبریں/تبصرے

اسقاط حمل کا قانونی حق: پولینڈ کے بعد ارجنٹینا میں بھی خواتین کے عوامی مظاہرے

لاہور (جدوجہد رپورٹ) ارجنٹینا میں ہزاروں خواتین نے کانگریس کے سامنے قانونی، محفوظ اور مفت اسقاط حمل کی ضمانت کیلئے قانون لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ احتجاج کرتی ہزاروں خواتین سبز رومال لہرا رہی تھیں۔ یہ احتجاج صدر البرٹو فرنیندس کی جانب سے اسقاط حمل کو قانونی قرار دینے کا بل پیش کرنے کے بعد کیا گیا ہے۔

قانونی، محفوط اور مفت اسقاط حمل کے حق کیلئے مہم چلانے والی کارکنان نے ”قانونی اسقاط حمل 2020ء“ کے عنوان سے ایک بڑا پرچم بھی آویزاں کیا۔

ٹیلی سور کے مطابق مہم کی ایک رکن ماریا کانسٹینٹ نے کہا کہ ”ہم صدر فرنیندس کی جانب سے بل پیش کرنے کے اقدام کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ یہ بل اسقاط حمل کے حق کیلئے تحریک کا ہی تسلسل ہے، ماضی میں بھی اسقاط حمل کیلئے ایک بل قومی مہم کی جانب سے پیش کیا گیا تھا۔ اس بل کو 70 اراکین اسمبلی کی حمایت حاصل ہے۔“

مظاہرین نے ”اسپتال میں قانونی اسقاط حمل“ اور ”چرچ اور ریاست الگ الگ ایشوز“ کے نعرے لگاتے ہوئے شہر کے اہم راستوں پر مارچ کیا۔

مہم کی رکن یانینا والڈرون نے کہا کہ ”آج ہم ملک کے پچاس بڑے شہروں کی سڑکوں پر نکلیں گے۔ ہمیں یقین ہے کہ جدوجہد کے کہ سارے سال بیکار نہیں رہے۔ ہم نے 2018ء میں لاکھوں کی تعداد میں احتجاج کئے ہیں۔ آج ہم وبائی کیفیت کی وجہ سے لاکھوں افراد کو طلب نہیں کرتے، لیکن ہم جانتے ہیں کہ 2020ء میں ارجنٹینا میں محفوظ اور مفت اسقاط حمل کے حق کو قانونی حیثیت حاصل ہو گی۔

پولینڈ میں بھی اسقاط حمل کے حق کے لئے ہزاروں خواتین نے احتجاجی مظاہرے کئے ہیں۔