خبریں/تبصرے

لندن میں نسل پرستوں کے مجسمے ’حفاظتی تحویل‘ میں، نیوزی لینڈ میں جان ہملٹن کا مجسمہ مسمار

لاہور (جدوجہد رپورٹ) آج ہفتہ وار چھٹی کے موقع پر لندن میں نسل پرستی کے خلاف مظاہرے متوقع ہیں اور ان مظاہروں کے پیش نظر بہت سے مجسموں کے گرد، ان کی توڑ پھوڑ روکنے کے لئے، لکڑی کی دیواریں بنا دی گئی ہیں۔

جن مجسموں پر حملے کی توقع کی جا رہی ہے ان میں سابق وزیر اعظم ونسٹن چرچل کا مجسمہ بھی شامل ہے۔ برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن نے کئی ٹویٹ کئے ہیں جس میں انہوں نے چرچل کو اپنا ہیرو قرار دیا ہے۔

وزیر اعظم جانسن کا کہنا ہے کہ چرچل نے ایسی باتیں ضرور کیں جنہیں آج اچھا نہیں سمجھا جاتا مگر وہ ایک ہیرو تھے۔ چرچل دوسری جنگ عظیم کے دوران برطانیہ کے وزیر اعظم تھے اور فاشزم کے خلاف قائم ہونے والے اتحاد کے اہم رہنما۔

آکسفورڈ یونیورسٹی میں بھی طلبہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ سیسل رہوڈز کا مجسمہ ہٹایا جائے۔ ادھر کیمبرج یونیورسٹی میں طلبہ نے رونالڈ فشر کے مجسمے پر سیاہی مل دی۔ فشر کو یوجینکس کا ماہر مانا جاتا ہے۔

دریں اثنا، نیوزی لینڈ کے شہر ہملٹن میں جان ہملٹن کا مجسمہ مسمار کر دیا گیا ہے۔ جان ہملٹن پر 1860ء کی دہائی میں یہاں کی مقامی آبادی کے قتل عام کا الزام ہے۔ اسی طرح امریکی ریاست نیو جرسی کے شہر کیمڈن میں کرسٹوفر کولمبس کا مجسمہ گرا دیا گیا ہے۔