دنیا

کسانوں کی کال پر ’بھارت بند‘: کاروبار زندگی منجمد، ٹریفک معطل

حارث قدیر

بھارتی کسانوں کی کال پر ’بھارت بندھ‘ کے نام سے ملک گیر ہڑتال کے باعث بھارت کے اکثریتی شہروں میں کاروبار زندگی منجمد اور ہر طرح کی ٹریفک کا سلسلہ معطل رہا۔ منگل کے روز ملک کے متعدد حصوں میں مظاہرین سڑکوں اور ٹرین کی پٹریوں پر بیٹھ گئے جس کی وجہ سے ٹریفک کا سلسلہ معطل ہو کر رہ گیا۔ احتجاجی کسانوں نے متعدد شہروں میں مارکیٹیں اور کاروبار بھی بند کروا دیئے۔ ملک بھر کی ٹریڈ یونینوں اور چوبیس سے زائد اپوزیشن جماعتوں نے کسانوں کے اس احتجاج کی حمایت کر رکھی تھی جس وجہ سے شہروں میں ہڑتال کو کامیاب کرنے میں مدد ملی۔

دارالحکومت نئی دہلی کا محاصرہ بھی بدستور جاری ہے۔ دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے بھی الزام عائد کیا ہے کہ انہیں پولیس نے گھر میں نظر بند کر دیا ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں بھارت کی شمالی ریاستوں سے آنیوالے کسان مسلسل بارہویں روز بھی مختلف شاہرات پر احتجاجی دھرنے میں موجود رہے۔

کسانوں کا یہ احتجاج بھارتی حکومت کی طرف سے متعارف کروائے گئے کسان مخالف قوانین کے خلاف ہے۔ پنجاب اور ہریانہ کے کسانوں نے 26 نومبر کو دہلی چلو مارچ کا آغاز کیا تھا۔ وہ یہاں رام لیلا کے تاریخی میدان میں اکھٹا ہو کر اپنا احتجاج ریکارڈ کرنا چاہتے تھے لیکن حکومت نے انھیں دہلی میں داخل ہونے سے روک دیا تھا اور واٹر کینن، آنسو گیس اور لاٹھی چارج کی وجہ سے کسانوں نے حکومت کی طرف سے مختص کردہ جگہ پر جانے سے بھی انکار کر دیا تھا۔

نئے قوانین زرعی اجناس کی فروخت، قیمت اور ذخیرہ کرنے کے حوالے سے موجود قواعد کو نرم کر دیں گے۔ انڈیا کے کسان ان قواعد کی وجہ سے دہائیوں تک آزادانہ مارکیٹ کی قوتوں سے محفوظ رہے ہیں۔ ان نئے قوانین سے نجی خریدار بھی مستقبل میں فروخت کے لیے ضروری اجناس ذخیرہ کر سکتے ہیں، جو کہ اس سے پہلے صرف حکومت سے منظور شدہ ایجنٹ ہی کر سکتے تھے۔

اس کے علاوہ ان میں ٹھیکے پر زراعت کے قواعد بھی بنائے گئے ہیں جس میں کسان کسی مخصوص خریدار کی طلب کو مدِنظر رکھتے ہوئے اپنی پیداوار میں تبدیلی کر سکتے ہیں۔ سب سے بڑی تبدیلی یہ ہے کہ کسان اپنی پیداوار براہِ راست نجی شعبے (زرعی کاروبار، سپرمارکیٹس اور آن لائن سودا سلف کی ویب سائٹس) کو مارکیٹ قیمتوں پر فروخت کر سکیں گے۔ زیادہ تر انڈین کسان اس وقت اپنی پیداوار کا زیادہ تر حصہ حکومت کے زیر انتظام تھوک منڈیوں میں امدادی قیمت پر فروخت کرتے ہیں۔ یہ منڈیاں مارکیٹ کمیٹیاں چلاتی ہیں جن میں کسان، بڑے زمیندار اور تاجر یا کمیشن ایجنٹ بھی ہوتے ہیں۔ ان ایجنٹوں کا کام اجناس کی فروخت کے لیے آڑھتی کا کام کرنا، ذخیرے اور نقل و حمل کا انتظام کرنا اور یہاں تک کے سودے بازی بھی ہے۔

تحریک کے مرکزی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ”اگر حکومت نے سرمایہ داروں کو قیمتوں کا تعین کرنے اور اجناس خریدنے کی اجازت دی تو ہم اپنی زمین اور اپنی آمدنی سے محروم ہو جائینگے۔ ہمیں سرمایہ داروں پر یقین نہیں ہے۔“

نئے قوانین سے تھوک منڈیاں اور امدادی قیمتیں ختم ہو جائیں گیں اور اگر کسان کسی نجی خریدار کی پیشکش کردہ قیمت سے مطمئن نہ ہوں تو وہ منڈی جا کر اسے فروخت نہیں کر سکیں گے اور نہ ہی منڈی کی قیمت کو بنیاد بنا کر خریدار سے بھاؤ تاؤ کر سکیں گے۔

وزیراعلیٰ پنجاب امریندر سنگھ نے ’بھارت بند‘کے ذریعے کسانوں کی طرف سے دکھائے گئے اتحاد نے کسان مخالف قوانین منسوخ کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ’’زرعی قوانین کسان مخالف ہیں اور انہیں سٹیک ہولڈرز سے کسی بحث کے بغیر متعارف کروایا گیا ہے۔ مرکز ان قوانین کو ختم کرنے اور تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نئی بات چیت کرنے کیلئے ملک بھر میں احتجاج کرتے کسانوں کے مطالبات پر توجہ دے۔ اگر میں ان کی جگہ ہوتا تو میں اپنی غلطی کو قبول کرنے اور قوانین کو کالعدم کرنے میں ایک منٹ بھی نہ لیتا۔“

Haris Qadeer

حارث قدیر کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولا کوٹ سے ہے۔  وہ لمبے عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں اور مسئلہ کشمیر سے جڑے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔