سوچ بچار

کرونا سے صحتیابی پر مولانا طارق جمیل کے نام پولیو بارے خط

فاروق سلہریا

مولانا صاحب! آداب۔

انتہائی خوشی کی بات ہے کہ آپ کرونا ایسے خوفناک مرض کا شکار ہو کر صحت یاب ہو گئے۔ اس سے بھی زیادہ خوشی کی بات ہے کہ آپ نے اس سال کے شروع میں، جب اس وبا نے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا، کرونا بارے جو بیانات دئے، اپنے تازہ ویڈیو بیان میں آپ نے ان بیانات پر نہ صرف توبہ کی ہے بلکہ لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ احتیاط سے کام لیں۔

عمومی طور پر مشہور لوگ اپنی غلطی کا اعتراف کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔ آپ نے ایک مختلف مثال قائم کرتے ہوئے دوسروں کو بھی راستہ دکھایا ہے۔ یہ امید افزا بات ہے۔

اسی امید افزائی سے شہ پا کر آپ سے درخواست ہے کہ پولیو ویکسین بارے بھی اپنے خیالات پر نظر ثانی کیجئے۔ جس طرح آپ کرونا وائرس بارے غلط تھے، ویسے ہی آپ پولیو ویکسین کی مخالفت کرنے میں ظالمانہ حد تک غلط ہیں کیونکہ آپ نے کرونا وائرس کی مخالفت غیر سائنسی بنیادوں پر کی تھی اور پولیو ویکسین کی مخالفت بھی غیر سائنسی بنیادوں پر کرتے آئے ہیں۔

اس سے بھی زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ ڈپٹی کمشنر فیصل آباد کی مداخلت پر آپ نے اپنے خاندان کے بچوں کی پولیو ویکسینیشن تو کرا لی مگر کبھی بھی کھل کر یہ بیان جاری نہیں کیا کہ طالبان پولیو قطرے پلانے والی بہادر خواتین پر حملے ترک کر دیں۔

کچھ عوام دشمن اور گھٹیا شہرت کے بھوکے افراد اِن دنوں مختلف سازشی نظریات پھیلا کر کرونا کی ویکسین بارے بھی شکوک و شبہات پھیلا رہے ہیں۔ فیصل رضا عابدی اور زید حامد اس کی دو مثالیں ہیں۔ کرونا وکٹم ہونے کے ناطے، امید ہے آپ فیصل رضا عابدی اور زید حامد جیسے ان افراد کی اس شرمناک حرکت پر بھی ایک کھرا موقف اختیار کریں گے۔

مولانا! آپ بظاہر اُمہ کا درد رکھتے ہیں۔ ہسپتال سے واپسی پر، آج کل آپ اپنی صحت کی بحالی کے لئے اپنے گھر تک ہی محدود ہوں گے تو ذرا اُمہ بارے بھی سوچئے گا کہ گذشتہ سات آٹھ ماہ کے دوران ’کفار‘ نے کرونا وائرس کے توڑ کے لئے درجنوں ویکسین تیار کر ڈالیں۔ یہی نہیں۔ اربوں روپے اس وائرس پر تحقیق کے لئے مختص کئے۔ ہر نوع کی تحقیق کی اور یہ سلسلہ ابھی جاری ہے۔

مجھے یقین ہے جب اس تحقیق کے نتیجے میں تیار ہونے والی مختلف نوع کی یہ ویکسینزمسلم ممالک میں پہنچیں گی تو زید حامد سے لے کر سلطان اردگان تک، سب ان سے مستفید ہوں گے۔

افسوس مگر اس بات کا ہے کہ جب یورپ، امریکہ، چین اور کیوبا میں ویکسین تیار کی جا رہی تھی ہمارے ہاں سازشی نظریات پھیلائے جا رہے تھے، یاکرونا وائرس کے وجود سے انکار کیا جا رہا تھا۔ سب سے شرمناک بات یہ ہے کہ جب مسلم دنیا میں مسلمان وینٹی لیٹر نہ ہونے کی وجہ سے داعی ملک عدم ہو رہے تھے، عرب سلطان امریکہ سے اربوں ڈالر کا اسلحہ خرید رہے تھے حالانکہ یہی اربوں ڈالر اگر تحقیق پر خرچ ہوئے ہوتے تو آج مسلم ممالک کرونا ویکسین کے لئے مغرب کے آگے بھکاری بن کر نہ کھڑے ہوتے۔

سوچئے گا۔

یہ بھی سوچئے گا کہ کیوبا جیسا غریب مگر مہذب اور غیور ملک اب تک کرونا کی تین ویکسین تیار کر چکا ہے۔ تیس سے زائد ملکوں میں کیوبا کے ہزاروں ڈاکٹر اور نرسیں کرونا سے لڑنے کے لئے، انٹرنیشنل ازم کے جذبے سے سرشار، زندگیاں خطرے میں ڈالے، بر سر پیکار ہیں۔

آپ خود بھی ڈاکٹر ہیں۔ آپ کی تبلیغی جماعت میں ہزاروں ڈاکٹر ہیں۔ ان کی اکثریت ایسی ہے کہ عام پاکستانی ان کی فیس بھی ادا نہیں کر سکتا۔ یہ تبلیغی ڈاکٹر چالیس روزہ ہر سال لگاتے ہیں مگر یہ حضرات کیوبا کے ڈاکٹروں کی طرح، دوسرے ممالک تو کجا، پاکستان کے پسماندہ علاقوں میں بھی کبھی نہیں گئے اور تو اور عام پاکستانی ان کی فیس تک ادا نہیں کر سکتا۔ معلوم نہیں یہ کس منہ سے مسیحا کہلاتے ہوں گے۔

تبلیغی جماعت کے ان ڈاکٹر ارکان سے کہئے گا کہ وہ بھی کرونا اور کیوبا سے کچھ سبق سیکھیں۔ اگلے سال چالیس روزہ تبلیغ کے علاوہ بلوچستان کا رخ بھی کریں جہاں وہ چالیس روزہ میڈیکل کیمپ لگائیں۔

ذرا یہ بھی سوچئے گا کہ بطور ایک ارب پتی انسان صحت کی جو سہولتیں آپ کو میسر ہیں وہ پاکستان کے بائیس کروڑ لوگوں کو میسر نہیں۔ جنرل قمر باجوہ سے لے کر نواز شریف اور عمران خان تک آپ کی بات غور سے سنتے ہیں۔ حکمرانوں کو بھی کبھی تبلیغ کیجئے کہ پاکستان کے بدقسمت لوگوں تک کم از کم صحت کی سہولت ہی پہنچا دیں۔ سی ایم ایچ جیسی سہولتیں نہ سہی، میو ہسپتال جیسی ہی سہی۔

اب اجازت چاہوں گا۔ اپنا بہت خیال رکھئے گا۔ امید ہے جلد ہی کرونا کی ویکسین پاکستان میں دستیاب ہو گی۔ خود بھی اس دوا سے استفادہ کیجئے گا اور عام شہریوں تک اس کی بلا معاضہ رسائی کو یقینی بنانے کے لئے پاکستان کے عام شہریوں کا ساتھ دیجئے گا۔

مخلص۔

فاروق سلہریا

Farooq Sulehria

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔