پاکستان

’باپ کا پیسہ‘: پروفیسروں کو تنخواہ نہیں مل رہی، بشری بی بی روحانی یونیورسٹیاں بنوا رہی ہیں

صحرا نورد

29 مئی کو روزنامہ جنگ میں شائع ہونے والی ایک خبرکے مطابق اسلامیہ کالج پشاور کی 110 سالہ تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ نہ صرف سٹاف کو پوری تنخو اہ نہیں مل رہی بلکہ سابق ملازمین کی نصف پنشن بھی ادا نہیں کی جائے گی۔

اس سے قبل یہ خبریں آ چکی ہیں کہ پشاور یونیورسٹی میں پروفیسر حضرات سمیت سارے عملے کی پوری تنخواہیں ادا نہیں ہو سکیں۔ اس حکومت نے مسلسل ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کا بجٹ کم کیا ہے (حالانکہ بشریٰ بی بی کی بہن کو اسی ایچ ای سی میں بھاری تنخواہ پر نوکری ضرور دی گئی۔ اس کے لئے پیسے موجود تھے)۔

ادہر سائنس اور ٹیکنالوجی کے وزیر، جو خود بھی خیبر پختونخواہ سے تعلق رکھتے ہیں دو دن پہلے خوشی خوشی ٹویٹ کرتے پائے گئے کہ ان کی وزارت ملک بھر میں روحانی یونیورسٹیاں قائم کر رہی ہے اور یہ اقدام بشریٰ بی کے کہنے پر اٹھایا گیا ہے۔

سوچنے کا مقام ہے کہ کیا وزیر اعظم کی بیوی کے کہنے پر اس طرح کا اقدام اٹھایا جا سکتا ہے؟ یا ملک کو روحانیات اور جادو ٹونے پر ٹیکس دہندگان کا پیسہ خرچ کرنا چاہئے؟ یا یہ کہ جس حکمران طبقے کے اپنے بچے ولایت میں پڑھ رہے ہوں، وہ پاکستان کے محنت کش طبقے کے بچوں کو جادو ٹونے میں کیوں مبتلا رکھنا چاہتے ہیں؟ ان ’روحانی ریسرچ سنٹرز‘ سے ڈگریاں لینے کے بعد یہ بے چارے گریجویٹس نوکری کرنے کہاں جائیں گے؟

سب سے اہم بات: بقول عمران خان ’کیا یہ باپ کا پیسہ ہے‘ جو یوں توہم پرستیوں کی تکمیل پر لٹایا جا رہا ہے؟