پاکستان

آئی ایم ایف اور ’قومی سلامتی‘

لال خان

جب معاشی انہدام نوشتہ دیوار ہو تو حکمرانوں کے پاس جھوٹ، فریب اور منافقت کے سوا کچھ نہیں رہ جاتا۔ لیکن دلاسوں اور لاروں سے ستائے ہوئے عوام کے گھائل احساسات سنبھلتے نہیں ہیں۔ بھوک سے بلکتے بچے بہلتے نہیں۔ بیماروں کے درد زائل نہیں ہوتے۔ محرومی کا کرب کم نہیں ہوتا۔معاشرے میں بیگانگی، تلخی، ہیجان اور اضطراب بڑھتے ہی جاتے ہیں۔ محنت کشوں اور غریبوں پر مشتمل اس ملک کی اکثریتی آبادی تڑپ بھی رہی ہے اور غیض و غضب کی آگ میں جل بھی رہی ہے۔ حکمرانوں اور ان کے نظام سے انتقام کا لاوا شدت سے بھڑک رہا ہے۔

موجودہ حکومت ماضی کی تمام حکومتوں کی طرح عوام کو پھر قربانی دینے کا کہہ رہی ہے۔ وہی قربانیاں جو کبھی مذہب تو کبھی ملک کے نام پر مانگی جاتی ہیں۔ کبھی سا لمیت کا واسطہ دیا جاتا ہے تو کبھی حب الوطنی کی تلقین کی جاتی ہے۔ کبھی سارے ازالے اگلے جہانوں میں ہونے کی امید دلائی جاتی ہے تو کبھی تھوڑے عرصے بعد حالات کے سہل ہو جانے کی نوید سنائی جاتی ہے۔ لیکن یہ محنت کش عوام اتنے بھی سادہ نہیں ہیں جتنے ہمارے حکمران اور ان کے اہل قلم و دانش کو سمجھتے ہیں۔ تعلیمی نصاب بالعموم حکمران طبقات کے مفادات کے مطابق ہی ترتیب دئیے جاتے ہیں۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ بہت پڑھے لکھے افراد بہت جاہل بھی ہوسکتے ہیں اور سفید ان پڑھ بھی بڑی عقل و دانش کی بات کر جاتے ہیں۔ ہمارے ان پڑھ پرکھوں کے بہت سے اقوال صدیاں گزرنے کے بعد بھی ٹھوس معاشرتی سچائیوں کے طور پر آج زبان زدِ عام ہیں۔

2008ء کے معاشی کریش نے ہاروڈ سے لے کے آکسفورڈ اور سٹینفورڈ سے لے کے کیمبرج تک کی شہرہ آفاق یونیورسٹیوں کے اعلیٰ معیشت دانوں کی پیشین گوئیاں غلط ثابت کر دی تھیں۔ یہ لوگ سرمایہ داری کے عروج و زوال کے سائیکل کو ماضی کی داستان قرار دے چکے تھے۔ نومبر 2009ء میں ملکہ برطانیہ الزبتھ نے جب لندن سکول آف اکنامکس کا دورہ کیا تو تقریب میں موجودہ دنیا کے نوبل انعام یافتہ اور بے پناہ شہرت رکھنے والے ماہرینِ معاشیات سے پہلا سوال یہی کیاکہ”کیونکر آپ میں سے کوئی بھی اس اقتصادی زوال کی پیشین گوئی نہیں کرسکا؟“ ملکہ برطانیہ کو زیادہ تکلیف اس لئے بھی تھی کہ اس کریش میں اس کے اپنے درجنوں ملین پاؤنڈ ڈوب گئے تھے۔ ملکہ کے اس سوال کا جواب یہ دیا گیا کہ ”یہ ذہین ترین معیشت دانوں کی مشترکہ فکر اور سوچ (Collective Imagination) کی ناکامی ہے۔“

لیکن یہ جواز بھی غلط ہے۔مسئلہ یہ ہے کہ آج بڑے بڑے معیشت دانوں، پالیسی ساز وں اور ماہرین کی فکر و دانش اس لئے ناکام ہے کہ ان کا نظام خود اپنے تقاضوں اور قوانین پر پورا اترنے میں ناکام ہے۔ یہ تاریخی طور پر اس قدر متروک ہوچکا ہے کہ اس کو چلانے کی سعی کرنے والے خود ناکامی و نامرادی کا شکار ہو جاتے ہیں۔

پاکستان کی معیشت تو امریکہ اوریورپ کی معیشتوں سے بھی کہیں زیادہ پسماندہ، کمزور اور گلی سڑی ہے۔نئے ماہرین کو لا کے اور اقتصادی ٹیموں کو بدل بدل کے اسے بھلا کیسے درست کیا جاسکتا ہے؟

پاکستان کے ترقی پسند معیشت دان ڈاکٹر قیصر بنگالی اپنے مضمون میں اس ایسٹ انڈیا کمپنی کیساتھ موازنہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں، ”حفیظ شیخ جو گھاگ نیلام کنندہ ہے اور رضا باقر جو عالمی سرمائے کی پہلی صف کا جرنیل ہے‘ (آئی ایم ایف کے) اِس نئے حملے کی قیادت کریں گے۔اس کے بعد اور بھی آئیں گے۔تاریخ شاید اپنے آپ کو دہرانے والی ہے۔ لیکن اس میں ایک فرق ہے۔18ویں اور 19ویں صدی کے کردار برطانوی تھے جو برطانوی مفادات کے لئے عمل پیرا ہوئے اور آج کے کردار پاکستانی ہیں جو عالمی سرمائے کے مفادات کے لئے متحرک ہیں۔ زوال پذیر مغلیہ سلطنت کی طرح پی ٹی آئی کی”منتخب حکومت“ سکڑ کر ایک بڑھک بازی کرنے والا غیر متعلقہ وجودبن گئی ہے!“

آئی ایم ایف کی شرائط مزید ظلم ڈھائیں گی۔عمران خان صرف لارے ہی لگا سکتا ہے۔ لیکن کیا پہلی حکومتوں نے اس نظام زر کو چلانے اور طوالت دینے کے لئے کم ظلم کیے تھے؟ اور اس حکومت نے تو آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے سے پیشتر ہی اپنے 9 ماہ کے اقتدار میں حد کر دی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے یہ حکومت عمران خان کی قیادت میں محنت کشوں کے خلاف طبقاتی جنگ میں انتہائی بے رحمی سے برسرپیکار ہوچکی ہے۔ اب سامراجیوں کی جنگی تدابیر اور حربے اس بربریت کو مزید وحشت ناک بنا دیں گے۔

لیکن عوام کے لئے مسئلہ یہ بھی ہے کہ سیاست اور سماج پر مسلط قوتیں اس نظام سے باہر سوچنا تو درکنار‘تصور کرنے سے بھی سے گریزاں ہیں۔پیپلز پارٹی نے بھی آئی ایم ایف کے پیکیج لیے اور اس کی پالیسیاں مسلط کیں۔ نواز لیگ تو پارٹی ہی سرمایہ داروں، بڑے دوکانداروں اور ٹھیکیداروں کی ہے۔ اس کا تو شروع دن سے نصب العین ہی سرمایہ داری کی بقا ہے۔

تحریک انصاف نودولتیوں کی پارٹی ہے جو اس کے لیڈروں اور کارندوں کے کردار، افکار اور عادات و اطوار سے ظاہر ہوتا ہے۔ کرپشن اور احتساب کی نعرہ بازی کی آڑ میں لوٹ مار نے جتنی شدت اختیار کر رکھی ہے اس کی ملکی تاریخ میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔

آئی ایم ایف مخالف تحریک کا المیہ یہ ہے کہ بہت سے ترقی پسند معیشت دان اوردانشور اس سیٹ اپ پر تنقید تو کرتے ہیں لیکن اس نظام کا متبادل اسی کے ایک دوسرے طریقہ واردات ’ریاستی سرمایہ کاری‘یا ’کینیشینزم‘ وغیرہ کی شکل میں دیتے ہیں۔ اگر ریاستی سرمایہ داری حل ہوتی تویہ 1974ء کے بعد سے پوری دنیا میں زوال پذیر کیوں ہوتی؟ نہرو اور بھٹو کے ”سوشلزم“ کی ناکامی اسی ریاستی سرمایہ داری کی نامرادی کا نتیجہ تھی۔

ذرائع ابلاغ میں بھی اس نظام کی حدود میں رہتے ہوئے اصلاحات کی بات کرنے کی مکمل ”آزادی“ہے۔ کارپوریٹ مالکان کو بھی یہ پتا ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کے وجودکے برقرار رہنے سے ہی ان کی منافع خوری کے نئے نئے راستے نکل سکتے ہیں۔ اگر کسی چیز پر پابند ی تواس نظامِ سرمایہ کے خاتمے اور اس کے متبادل انقلابی سوشلزم کے پرچار پہ‘ جو دولت اور سرمائے کی طاقت کو توڑتاہے‘ جس میں نہ صرف آئی ایم ایف کو ملک بدر کیا جائے گا بلکہ تمام سامراجی مالیاتی اداروں و ممالک کے قرضے ضبط کرلیے جائیں گے۔ اس سے مشکلات بھی آئیں گی۔ پابندیاں بھی لگیں گی۔ سامراجیوں کے حملے کے امکانات کو بھی رد نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن پہلے کون سے حالاتِ زندگی بہتری کی طرف جا رہے ہیں؟ سماج کی خستہ حالی پابندیوں کے جبر اور قلت سے کچھ کم تو نہیں ہے۔

ایک سوشلسٹ انقلاب سے اوپر کے دس پندرہ فیصد کو تکلیف ضرور ہوگی لیکن معاشرے کی وسیع تر محنت کش آبادی کو نسل در نسل جن اذیتوں کا شکار بنایا گیا ہے اُن کا خاتمہ ضرور ہوکر رہے گا۔

Lal Khan

ڈاکٹر لال خان روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رُکن تھے۔ وہ پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین کے انٹرنیشنل سیکرٹری اور تقریباً چار دہائیوں تک بائیں بازو کی تحریک اور انقلابی سیاست سے وابستہ رہے۔