نقطہ نظر

بطور سوشلسٹ میں نسل پرستوں کے بت گرانے کے خلاف ہوں

فاروق سلہریا

میں مجسمے چاہے وہ نسل پرستوں کے ہی کیوں نہ ہوں، گرانے کے بالکل اسی طرح خلاف ہوں جس طرح میں کتابیں جلانے کے خلاف ہوں چاہے وہ ہٹلر کی ’میری جدوجہد‘ ہی کیوں نہ ہو۔ میری یہ سوچ پچھلے تیس سال میں مختلف واقعات کے نتیجے میں تشکیل پائی ہے۔ پہلا واقعہ تھا بابری مسجد پر ہندو طالبان کا وحشیانہ حملہ۔

جب بابری مسجد گرائی گئی تو میں گورنمنٹ کالج لاہور میں بی اے کا طالب علم تھا۔ ہندو مذہبی جنونیوں کے اس شرمناک اقدام کا جواب پاکستان کے مذہبی جنونیوں نے بھی انتہائی شرمناک انداز میں دیا: ملک بھر میں مندروں پر حملے کئے گئے۔

ملک میں نواز شریف کی حکومت تھی۔ اُن دنوں نواز شریف کو لاڈلے کا درجہ حاصل تھا اس لئے نہ صرف مذہبی جنونیوں بلکہ ہندو دشمن بیانیئے کو ریاستی سرپرستی پورے زور و شور سے حاصل تھی۔

جس روز پاکستان میں مندر نشانے پر تھے میں لاہور کے جین مندر کے پاس سے گزرا۔ اِس عمارت میں اُن دنوں ایک اسکول تھا۔ یہ جگہ بطور عبادت گاہ استعمال ہی نہیں ہو رہی تھی۔ میں نے دیکھا چند نوجوان عمارت کے بلند و بالا گنبد پر چڑھے ہوئے عمارت پر ہتھوڑے برسا رہے ہیں۔ جین مندر کے عین سامنے لا کالج کا ہاسٹل تھا۔ ممکن ہے یہ نوجوان اسی ہاسٹل سے آئے ہوں۔ میں نوجوانوں کی حرکت پر اس لئے بھی خوفزدہ ہو گیا کہ وہ خود عمارت کے ساتھ نیچے گر سکتے تھے۔

اگلے روز میں نے اخبار میں پڑھا کہ جین مندر گراتے ہوئے چند مظاہرین ہلاک اور زخمی ہو گئے۔ ان نوجوانوں میں سے ایک شخص کا ہلکا سا خاکہ آج بھی میرے ذہن میں موجود ہو۔ یہ واقعہ آج بھی میرے ذہن پر نقش ہے۔

بابری مسجد پر کتنا عرصہ ہی بحث ہوتی رہی۔ یہ لفظ ہندو مذہبی جنونیت کے لئے ایک محاورہ او رحوالہ بن گیا۔

انہی دنوں میں ’جدوجہد گروپ‘ کا حصہ بن گیا۔ یہ گروپ ماہنامہ (بعد ازاں ہفت روزہ) مزدور جدوجہد شائع کرتا تھا۔ ہمارے میگزین ایڈیٹر شعیب بھٹی تھے۔ ایک روز بابری مسجد پر بات کرتے ہوئے میں نے ان سے پوچھا کہ بطور سوشلسٹ ہمارا موقف کیا ہونا چاہئے؟

میرے سوال کی وجہ یہ تھی کہ ہمارے سوشلسٹ دوست بھی بابری مسجد کی تباہی کے خلاف تھے اور مولوی بھی۔ میں ایک کم علم مگر پر جوش نوجوان طالب علم کے طور پر، جو مولویوں کے شدید خلاف تھا، اس بات پر جھنجھلایا ہوا تھا کہ سوشلسٹ اور جماعت اسلامی کے موقف میں کوئی فرق ہی نہیں ہے۔

شعیب بھٹی کے مختصر سے جواب نے، علاوہ اور بہت سی باتوں کے، اس مسئلے پر بھی میری سوچ کا رُخ متعین کر دیا۔ شعیب بھٹی کا جواب تھا: ”ہم سوشلسٹ تخریب پر نہیں، تعمیر پر یقین رکھتے ہیں“۔

بابری مسجد کے افسوسناک واقعہ کے چند سال بعد طالبان نے بامیان میں بدھا کے مجسموں پر دھاوا بول دیا۔ اُن دنوں میں خود’مزدور جدوجہد‘کے مدیر کے طور پر کام کر رہا تھا۔ ہم نے کھل کر’مزدور جدوجہد‘میں بامیان کے تاریخی بدھا مجسموں کی تباہی پر طالبان کی مذمت کی۔

ان دو واقعات سے میں نے ایک اہم سبق یہ بھی سیکھا کہ سوشلسٹ موقف یونیورسل ہوتا ہے۔ اگر کوئی موقف یونیورسل نہ ہو تو سمجھیں وہ موقف نہیں موقع پرستی ہے۔

بامیان بدھا کی تباہی پر پاکستانی حکمران طبقے اور مذہبی جنونی جماعتوں یا نوائے وقت جیسے اخبارات کا موقف تضادات سے بھر پور تھا۔ لیکن بابری مسجد یا بامیان بدھا پر سوشلسٹ موقف لینا آسان تھا۔ انسانی تہذیب کے دو عظیم فن پاروں (بابری مسجد اور بامیان بدھا) پر حملہ آور مذہبی جنونی تھے۔ اتوار کے روز برطانیہ کے شہر میں ایڈورڈ کولسٹون کا مجسمہ گرایا گیا جو غلاموں کی تجارت کرنے والا ایک مکروہ کردار تھا اور اس کا مجسمہ گرانے والا وہ ہجوم تھا جو نسل پرستی کے خلاف کرونا کے باوجود سڑک پر نکلا تھا۔ اس کی مخالفت کیسے ہو سکتی ہے؟

میرا موقف: بطور سوشلسٹ ہمارا موقف یونیورسل ہونا چاہئے۔ اگر برسٹل کے ہجوم کا، درست طور پر، یہ خیال ہے کہ کولسٹون کا مجسمہ ظلم کی علامت ہے لہٰذا اس کے مجسمے کو گرا دیا جائے تو پھر یہ حق بی جے پی کو کیوں حاصل نہیں ہے؟ بی جے پی کا بھی یہ دعویٰ (جسے ثابت کرنا کافی مشکل ہے) کہ بابری مسجد ہندووں کی مقدس جگہ پر بنائی گئی تھی۔ طالبان بھی اپنے مذہبی عقیدے کے مطابق بتوں اور مجسموں کو غلط سمجھتے ہیں۔ جمہوری طور پر جو حق برسٹل کے ہجوم کو حاصل ہے، وہ بی جے پی اور طالبان کو بھی حاصل ہے۔

نسل پرستوں کے مجسمے گرانے کی بحث برطانیہ میں چند سال قبل بھی چھڑی تھی۔ ہوا یوں کہ آکسفورڈ یونیورسٹی کے کچھ طلبہ سیسل رہوڈز کا مجسمہ گرانا چاہتے تھے۔ اتفاق سے میں ان دنوں اسکول آف اورینٹل اینڈ افریقن اسٹڈیز (سواس) میں پڑھ رہا تھا۔ ہماری یونیورسٹی کے کچھ طالب علم اور اساتذہ اس بحث میں پیش پیش تھے اور مجسمے گرانے کے حق میں تھے۔ اتفاق سے جو اکیڈیمکس اس بحث میں پیش پیش تھے، وہ خود کو پوسٹ کلونیل کہتے ہیں۔

مجھے ان حضرات کی ترقی پسندی سمجھ میں نہیں آ رہی تھی۔ خود وہ ہندوستان سے آ کرسواس (SOAS) میں نوکری کر رہے تھے جو بنا ہی سامراجی مقاصد کے لئے تھا (یہ الگ بات ہے کہ اب اس ادارے کو لیفٹ ونگ سمجھا جاتا ہے)، مگر سامراجی مجسمے گرانا چاہتے تھے۔

اگر سامراج کی علامتیں گرانی ہیں تو پھر سواس بھی گرا دیا جائے مگر سواس گرانے سے ہمارے انقلابی پروفیسروں کی نوکری بھی چلی جائے گی اس لئے مجسمے گرانا ٹھیک ہے مگر سواس قائم رہنا چاہئے۔

رہوڈز کے نام پر آکسفورڈ یونیورسٹی سکالر شپ بھی دیتی ہے۔ امریکہ کا فل برائٹ سکالر شپ تیس ہزار سے زائد لوگ لے چکے ہیں۔ سینیٹر فل برائٹ ایک لبرل انسان تھے۔ ان کا موازنہ رہوڈز کے ساتھ نہیں کیا جا سکتا مگر فل برائٹ سکالر شپ کو امریکی سامراج اپنی سافٹ پاؤر بڑھانے کے لئے استعمال کرتا آیا ہے۔ مجسمہ شکن انقلابیوں سے پوچھنا تھا: رہوڈز اور فل برائٹ سکالر شپس پر تیسری دنیا کے جن ہونہار طالب علموں نے ڈگریاں حاصل کیں، کیا ان کی ڈگریاں بھی واپس لینی ہیں یا ان کی ڈگریاں حلال ہیں؟

سامراجی مجسمے گرانے والوں سے میرا یہ سوال بھی ہے کہ سارا لندن بلکہ برطانیہ سامراجی لوٹ مار سے بنا ہے، کیا یہ بہتر نہ ہو گا کہ مجسمے گرانے سے پہلے برطانوی نو آبادیات کی دولت واپس کی جائے اور پھر مجسمے گرائے جائیں؟

جنوبی ایشیا اور افریقہ سے یورپ اور امریکہ منتقل ہونے والے انقلابی پوسٹ کلونیل پروفیسروں سے میں یہ بھی پوچھنا چاہتا ہوں کہ کلونیل ازم اپنی نوآبادیات میں بہت سی اچھی بری چیزیں چھوڑ گئی ہے۔ بری والی وراثت کو تو با آسانی ختم کرنے کا کہا جا سکتا ہے مگر انگریزی زبان کا کیا کرنا ہے؟ گورنمنٹ کالج لاہور یا کنگ ایڈورڈز میڈیکل کالج کا کیا کرنا ہے؟ گرانا ہے یا بچانا ہے؟

میرا موقف بالکل واضح ہے: اگر آپ سرمایہ داری اور سامراجی معاشی نظام کے خاتمے پر یقین نہیں رکھتے تو سامراجی مجسمے گرانا منافقت کے سوا کچھ نہیں۔

مجسمے گرانے پر ہم نے روزنامہ جدوجہد میں ایک خبر دو دن قبل شائع کی تھی۔ یہ خبر پڑھئے اور دیکھئے کہ مجسمے گرانے کا کام کس قدر تضادات کا شکار ہے۔

تو پھر ان مجسموں کا کیا کیا جائے؟

میرے پاس کوئی حتمی جواب نہیں ہے۔ شائد ایسا کوئی جواب ممکن بھی نہ ہو۔ ممکن ہے اس سوال کے بہت سارے جواب ہوں۔ ایک ممکنہ حل یہ ہے کہ ان مجسموں پر ایک متبادل تختی لگا دی جائے جو ان کے بارے میں ان کی سامراجی تاریخ کو اجاگر کرے۔

ایک اور حل اردو کے عظیم مارکس وادی شاعر ساحر لدھیانوی نے اپنی نظم ’تاج محل‘ میں دیا ہے۔

تاج محل کو محبت کی علامت سمجھا جاتا ہے مگر ساحر لدھیانوی کہتے ہیں کہ ایک جابر بادشاہ کے پاس دولت تھی اس نے تاج محل بنوا دیا تا کہ ثابت کر سکے کہ اس کی محبت بہت بڑی تھی مگر جن مزدوروں نے تاج محل بنایا، جن کے پیٹ بھی خالی تھے اور جیب بھی، ان کو بھی تو کسی سے محبت تھی، ان کی محبت مغل بادشاہ کی محبت سے کیونکر کم سمجھی جائے؟

تو کیا انقلابیوں کو تاج محل جانا چاہئے کہ اس کا بائیکاٹ کرنا چاہئے؟ ساحر کا جواب تو ہے: ’میری محبوب کہیں اور ملا کر مجھے‘۔ یعنی بائیکاٹ [ویسے ایک فلمی گیت میں ساحر نے تاج محل کا بائیکاٹ کرنے کی بجائے اس کو خراج عقیدت بھی پیش کیا ہے]۔

کیا یہ لازم ہے کہ تاج محل کی یاترا جہانگیر اور ممتاز کی محبت کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے کی جائے؟

تاج محل اس دور کے کاریگروں کے نام بھی تو منسوب کیا جا سکتا ہے جن کے فن اور محنت نے تعمیر کا یہ نادر نمونہ تخلیق کیا۔

لندن قیام کے دوران میں چند مرتبہ چرچل کے مجسمے کے پاس سے گزرا۔ مجھے یہ مجسمہ کبھی اچھا نہیں لگا لیکن مجھے کبھی یہ خیال نہیں آیا کہ اسے گرا دیا جائے۔ مجھے ایسا کوئی بھی جذبہ ہندتوانہ یا طالبانہ سا محسوس ہوتا۔

تین سال قبل میں اپنی نو سالہ بیٹی کے ہمراہ اس مجسمے کے پاس سے گزرا۔ میری بیٹی نے پوچھا یہ کس کا مجسمہ ہے؟ میرا جواب تھا: ایک نسل پرست احمق کا۔

میری بیٹی نے مجسمے کو ٹھدا مارا اور میری انگلی تھام کر آئس کریم پارلر کی طرف چل پڑی۔

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔