خبریں/تبصرے

عمران خان کے ’روادار‘ پاکستان میں اقلیتیں نشانے پر ہیں: ایسوسی ایٹڈ پریس

لاہور (جدوجہد رپورٹ) عالمی خبر رساں ادارے ایسوی ایٹڈ پریس نے گذشتہ روز پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کی صورت حال پر ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ عمران خان کے بنائے جا رہے ’روادار‘پاکستان میں گذشتہ ایک ماہ اقلیتوں کے لئے بہت سخت تھا اور آنے والے دنوں میں ان کے لئے نئی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔

نامہ نگار کیتھی گینن کی اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پشاور میں ایک مسیحی شخص کو اس لئے جان سے مار دیا گیا کہ اس نے ایک مسلم محلے میں گھر لینے کی جرات کہ جبکہ ایک پادری، ہارون صادق، ان کی اہلیہ اور بارہ سالہ بچے کو تشدد کے بعد گاؤں سے نکال دیا گیا۔ خواجہ آصف پر مندر کی تعمیر کی حمایت کرنے پر توہین مذہب کے مقدمے کا ذکر بھی کیا گیا ہے جبکہ اسامہ بن لادن کو عمران خان کی طرف سے شہید کہنے پر بھی بات کی گئی ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ کرونا پھیلنے کے بعد بھی تبلیغی جماعت کے اجتماع پرپابندی نہیں لگی نہ ہی مسجدیں بند ہوئیں حالانکہ سعودی عرب نے بھی اس کے بر عکس اقدامات کئے۔

رپورٹ میں صحافی زاہد حسین کا بیان شامل کیا گیا ہے، جن کا کہنا ہے کہ”عمران خان روادار پاکستان بنانا چاہتے ہیں مگر مصیبت یہ ہے کہ ان کے اقدامات کی وجہ سے انتہا پسند مضبوط ہوئے اور لگتا ہے کہ انتہا پسند کوئی بھی بات ریاست سے منوا سکتے ہیں“۔

ایسوسی ایٹڈ پریس نے عمران خان سے بھی رابطہ کیا مگر ان کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا البتہ وزارت مذہبی امور کے ترجمان عمران صدیقی نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ اقلیتوں کو پاکستان میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ ’جارحانہ‘ مولوی تو ہر مذہب میں ہوتے ہیں۔