خبریں/تبصرے

فیس بک 5.7 ارب ڈالر کی خاطر بی جے پی کی جیب میں؟

لاہور (جدوجہد رپورٹ) وال سٹریٹ جرنل نے 14 اگست کی اشاعت میں انکشاف کیا ہے کہ فیس بک کی بھارت میں پبلک پالیسی کی سربراہ انکھی داس نے اندرونی طور پر چار بی جے پی ارکان کے نفرت بھرے پیغام کی نشاندہی کے باوجود ان چاروں کی پوسٹس فیس بک سے نہیں ہٹائیں۔

اس رپورٹ نے بھارت میں زبردست اسکینڈل کو جنم دیا ہے۔ کانگرس رہنما راہول گاندھی نے کہا ہے کہ فیس بک بی جے پی کے کنٹرول میں ہے۔

ادھر کانگرس کے رہنما اور رکن پارلیمنٹ ششی تھرور نے کہا ہے کہ وہ انفارمیشن ٹیکنالوجی بارے پارلیمانی کمیٹی میں اس مسئلے کو زیر بحث لائیں گے۔

بی جے پی نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ الٹا فیس بک پر ہندو مذہب اور بی جے پی کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ فیس بک نے امبانی خاندان کی ایک وینچر ’ریلائنس جیو‘میں 5.7 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی تھی۔ کہا جا رہا ہے کہ اس سرمایہ کاری کو بچانے کے لئے فیس بک کسی طور بی جے پی کو ناراض نہیں کرنا چاہتی۔