خبریں/تبصرے

نگورنو کاراباخ میں 25 سال بعد بدترین جھڑپیں، درجنوں ہلاک

لاہور (جدوجہد رپورٹ) اتوار کے روز نگورنو کاراباخ میں آرمینیا اور آذربائیجان کے مابین تقریباً پچیس سال بعد ایک مرتبہ پھر بد ترین جھڑپیں ہوئیں جو پیر کے روز بھی جاری رہیں۔ رائٹرز کے مطابق پیر کے روز 29 افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔

اس سے قبل اتوار کے روز بھی نگورنو کاراباخ کی انتظامیہ نے کہا تھا کہ اس کے 31 شہری ہلاک ہوئے۔

نگورنو کاراباخ پر آرمینیا اور آذربائیجان، دونوں اپنا حق جتاتے ہیں اور سوویت روس کے انہدام کے بعد اس علاقے پر قبضے کے لئے دونوں ممالک میں کئی سال جنگ جاری رہی۔

آرمینیا کی مدد سے نگورنو کاراباخ نے آذربائیجان سے علیحدگی اختیار کر لی اور نوے کی دہائی سے وہ ایک خودمختار علاقہ ہے۔

خطرہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ جنگ پھیل سکتی ہے کیونکہ ترکی کھل کر لسانی بنیادوں پر آذر بائیجان کی حمایت کر رہا ہے جبکہ آرمینیا کا روس سے دفاعی معاہدہ ہے۔ رائٹرز کے مطابق روس اور ترکی اس جنگ میں ملوث ہو سکتے ہیں جس کے نتیجے میں جنگ پھیل سکتی ہے۔