خبریں/تبصرے

سعودی عرب: 5 سال میں 800 پھانسیاں

عدنان فاروق

سعودی عرب انسانی حقوق کا قبرستان تو ہے ہی، مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل کے علاوہ اگر کوئی ملک امریکی سامراج کا کنٹونمنٹ کہلا سکتا ہے تو وہ سعودی عرب ہے۔ یوں اگر اس خطے میں انسانی حقوق پر سامراجی منافقت کا جائزہ لینا ہو تو اسرائیل کی فلسطین میں وحشت و بربریت کے علاوہ سعودی عرب کا ریکارڈ بھی دیکھنا چاہئے۔

انسانی حقوق کی وحشیانہ خلاف ورزی کی ایک شکل لوگوں کا سر عام سر قلم کیا جانا ہے۔ موجودہ بادشاہ، شاہ سلمان عبدالعزیز نے 2015ء میں اقتدار سنبھالا تو وعدہ کیا کہ وہ پھانسیوں کی سزا میں کمی کریں گے۔ عملاً اس کے الٹ ہوا ہے۔ جب سے وہ بر سر اقتدار آئے ہیں پھانسی کی سزا زیادہ بے رحمی سے استعمال کی گئی ہے۔

پچھلے پانچ سال میں 800 افراد کو پھانسی دی گئی۔ 2019ء بد ترین سال ثابت ہوا جب 187 افراد کو پھانسی دی گئی۔ گذشتہ سال اپریل میں تو پوری دنیا میں اُس وقت احتجاج ہوا جب ایک ہی ماہ کے اندر 37 افراد کو پھانسی دی گئی۔ اس کے برعکس 2009-2014ء کے دوران 423 افراد کو پھانسی دی گئی۔ تا دم تحریر بھی جن لوگوں کو پھانسی کی سزا ہو چکی ہے ان میں تیرہ نابالغ لڑکے بھی ہیں اور اکثر سزائیں سیاسی مخالفین کو دی گئی ہیں۔

اسے اتفاق تو نہیں کہا جا سکتا کہ اس بنیاد پرست وہابی ریاست کی اس خطے میں سب سے بڑی مخالف ریاست ایران ہے جہاں فرقہ مختلف ہے مگر حکومت بنیاد پرستوں کے پاس ہی ہے۔ وہاں بھی پھانسیاں معمول کی بات ہیں۔

اسی طرح ان دو ریاستوں کا یہ خوفناک ریکارڈ ان پاکستانیوں کو بھی دعوت فکر دیتا ہے جو یہ کہتے ہیں کہ دو چار کو لٹکا دو، سب ٹھیک ہو جائے گا۔ ان دونوں ممالک میں سر عام پھانسیاں کئی دہائیوں سے جاری ہیں مگر’جرم‘ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ اس کے برعکس اگر آپ بہت سے یورپی ممالک کو دیکھیں تو پتہ چلے گا کہ پھانسیاں اور وحشیانہ سزائیں بھی نہیں دی جاتیں اور معاشرے بھی قدرے پر سکون ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ مذہبی جنونی بھی جب سیاسی پناہ کے لئے اپنے ملک سے فرار ہوتے ہیں تو یورپ جاتے ہیں نہ کہ ایران اور سعودی عرب اور تو اور آیت اللہ خمینی نے بھی فرانس میں سیاسی پناہ لی تھی۔ منافقت گویا صرف سامراج کی لونڈی نہیں!

عدنان فاروق ایک صحافی اور ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹ ہیں۔