نقطہ نظر

ہمیں کیسی جمہوریت چاہئے؟

حاتم خان

انسانی سماج کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو یہ سماج روز اول سے نہ ایسا تھا اور نہ ہی ابد تک اس نے ایسا رہنا ہے۔ یہی صورتحال ریاستوں کے کردار کی بھی ہے۔ مختلف نظاموں مثلاً قدیم اشتراکی نظام، غلام دارانہ نظام اور جاگیر دارانہ نظام سے ارتقا پذیر ہوتے ہوئے انسانی سماج آج یہاں تک پہنچا ہے جو کہ سرمایہ دارانہ نظام ہے۔ پچھلے تمام نظاموں سے لے کر سرمایہ دارانہ نظام تک حکمرانوں نے عام لوگوں پر ظلم و بربریت اور جبر کے ذریعے اپنے اقتدار کو قائم رکھا۔ ماضی کی نسبت آج یقینی طور پر سماج بہت ہی ترقی یافتہ ہے اور انسان نے سائنس و ٹیکنالوجی کو اتنا آگے بڑھایا ہے کہ اس سے دنیا کو یکسر بدلا جا سکتا ہے۔ مگر دیکھنا یہ ہو گا کہ اس نظام اور اس کے ذرائع پیداوار پہ قبضہ کس قوت کا ہے؟

ایک مارکسی ہونے کے ناتے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ایک چھوٹے سے پہیے کی ایجاد سے لے کر دیو ہیکل مشینری تک، عمارتوں سے لے کر پختہ سڑکوں تک اور بنجر زمین پہ ہل چلا کر انہیں سرسبز و شاداب کھیت بنانے تک جتنی بھی محنت ہے وہ کسی ایک فرد یا حکمران طبقے کی نہیں بلکہ سماجی محنت ہے۔ اس کی ایک چھوٹی سی مثال اگر ہم ایک کار کی لے لیں تو ایک کار کے ٹائر بنانے سے لے کر اس کے انجن اور پھر اس کے باڈی فریم تک سینکڑوں مزدوروں کی محنت لگتی ہے۔ اس لئے سماجی محنت کو رد کرتے ہوئے ہم کبھی بھی اس بات کو نہیں مانیں گے کہ دنیا کی اس جدید شکل میں کسی جادوئی یا دیو مالائی قوت کا ہاتھ ہے۔

لیکن سرمایہ دارانہ نظام کے اندر پھر انہی محنت کشوں کا استحصال کیا جاتا ہے۔ ان کو کام کرنے کی اجرت اتنی ہی دی جاتی ہے کہ وہ اگلے روز تک زندہ رہ سکیں اور اگلے روز پھر وہ خود کو ایک جنس کی مانند سرمایہ دار کے ہاتھوں فروخت کریں۔ پھر یہی سرمایہ دار ان محنت کشوں کی قوت محنت پہ ڈاکہ ڈال کر مسلسل اس سے منافع بٹور رہے ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام میں مختلف نظام حکومت ہوتے ہیں جو اس نظام کے خدمت گزار بنے ہوئے ہیں۔ کہیں آمریت ہے تو کہیں جمہوریت۔ لیکن پاکستان جیسے پسماندہ ملک میں کسی ایک نظام کا نام نہیں لیا جا سکتا کیونکہ یہاں نہ ہی جاگیرداری تاریخی طور پر ارتقا پذیر ہو سکی اور نہ ہی سرمایہ داری۔ یہاں شروع دن سے ہی نحیف جمہوریت رہی ہے اور اس سے کہیں زیادہ آمریتوں نے نظام حکومت سنبھالا ہے اور اب بھی یہی ملی جلی صورتحال ہے۔

ہمارے تعلیمی اداروں میں جو نصاب پڑھایا جاتا ہے اس میں ہمارے اہل علم و دانش یہ باور کراتے نہیں تھکتے کہ مغربی جمہوریت ایک بہترین نظام ہے، جس میں انسان کو خوراک، پانی، گھر، تعلیم اور علاج جیسی بنیادی سہولیات مفت فراہم کی جاتی ہیں اور اس سب کی ذمہ دار ریاست ہوتی ہے۔ لیکن یہ نہیں بتاتے کہ مغرب میں لوگوں نے ان بنیادی حقوق کے لئے جنگیں لڑی ہیں پھر جا کر کہیں یہ حقوق حاصل ہوئے ہیں۔ یہاں جمہوریت کے ارتقا کو ایسے پڑھایا جاتا ہے جیسے ظالم و جابر حکمرانوں کے دلوں میں فوراً رحم جاگ گیا اور انہوں نے یہ حقوق پلیٹ میں رکھ کر کہا ہو کہ ’سپردم ماخویش‘ کہ ہم یہ حقوق آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ یہ سماج طبقاتی کشمکش کا سماج ہے اور تاریخ بھی طبقاتی کشمکش و طبقاتی جدوجہد سے بھری پڑی ہے۔ غریب طبقے نے ہمیشہ ان حقوق کے حصول کے لئے جنگ لڑی ہے۔ جب ان ظالموں نے ظلم کے پہاڑ ڈھا دیئے تو غلاموں نے اپنے آقاؤں کی، محکوموں نے اپنے حکمرانوں کی، رعایا نے اپنے بادشاہوں کی گردنیں اڑائی ہیں، ان کے تخت گرائے ہیں اور تاج بھی اچھالے ہیں۔ تب جا کہ لوگوں کو نام نہاد ان کے بنیادی حقوق ملے ہیں۔ لیکن یہ تاریخ جوکہ عام لوگوں کی محنت کشوں کی تاریخ ہے کبھی نصاب میں نہیں پڑھائی جاتی۔ قصہ مختصر یہ کہ آج کے ہمارے حکمران جو جمہوریت کی بقا کے لئے نکلے ہوئے ہیں اور اتحاد بنائے ہوئے ہیں اس کو دیکھنے کی ضرورت ہے کہ وہ کونسی جمہوریت اور کس کی جمہوریت کے لئے نکلے ہیں۔ بیشتر صورتوں میں جمہوری حکمرانوں نے آمروں سے بھی زیادہ جبر و استحصال کیا ہے کیونکہ یہاں جمہوریت کے ہوتے ہوئے مہنگائی بڑھی، روزگار چھینا گیا ہے، تعلیم کا حق چھینا گیا۔ مختلف پارٹیوں کے حکمرانوں نے (جو کبھی ایک دوسرے کے دشمن ہوا کرتے تھے) مل کر جس جمہوریت کی بحالی تحریک کا اتحاد بنایا ہوا ہے وہ انہی حکمران طبقوں کے لئے ہے جہاں ان کو اور ان کی اولادوں کو تعلیم، روزگار اور علاج جیسی ہر قسم کی آزادی حاصل ہے۔ حکمرانوں کی اس جمہوریت میں غریب طبقے کے لئے سوائے ٹھوکروں اور محرومیوں کے اور کچھ نہیں۔ مملکت خداداد پاکستان کے آئین و قانون میں جن حقوق کا ذکر کیا گیا ہے حقیقت میں ان کا کوئی وجود نہیں اور گھر جیسی بنیادی سہولت کا تو غریب سوچ ہی نہیں سکتے کیونکہ یہاں کے قبضہ خوروں اور پراپرٹی ڈیلروں نے رئیل اسٹیٹ کا جو بازار گرم کر رکھا ہے اس میں ان کی اپنی ہی من پسند قیمتیں ہیں جن پر ریاست کی کوئی روک تھام نہیں اور وہ کر بھی نہیں سکتی۔ کیونکہ یہ ایک کالی معیشت کا روپ دھار چکی ہے۔ اس ملک کا کاروبار چل ہی اس کالی معیشت پہ رہا ہے۔ یہاں ہم انقلابیوں کا ہی فریضہ بنتا ہے کہ ان حکمرانوں کے چہرے پہ دوہرے نقاب کو ہٹا کر ان کے حقیقی چہروں کو عیاں کریں۔ یہ پی ڈی ایم کی جو تحریک ہے صرف بورژوا اور پیٹی بورژوا حکمرانوں کی بقا کے لئے ہے نہ کہ عام لوگوں کے لئے۔ اس اتحاد میں موجود تمام پارٹیوں نے ہمیشہ اقتدار میں رہ کر محنت کشوں کا استحصال کیا ہے اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔ آج پی ڈی ایم کے اس اتحاد کے پیچھے وہ مفادات ہیں جن کے لئے اکثر یہ ایک دوسرے سے زور آزما تھے۔ یہ سب حربے صرف عام عوام کو دھوکہ دینے کے لئے آزمائے جاتے ہیں کیونکہ ان کے آپسی اتحاد اور لڑائیاں صرف اور صرف یہاں کے وسائل کو لوٹنے کے لئے ہوتی ہیں۔ جس طرح مارکس نے کہا تھا کہ سرمایہ دارانہ نظام کی جمہوریتوں میں عام لوگوں کو صرف یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ ووٹ کے ذریعے ان نئے حکمرانوں کا انتخاب کریں جو اقتدار میں آ کر ان کا استحصال کریں گے۔ ہم یہ دعوے کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ اس سرمایہ دارانہ نظام میں یہ اتحادی حکومت یا کوئی ایک پارٹی اقتدار میں آ بھی جائے تو بھی وہ یہاں کے محنت کشوں کا کوئی ایک مسئلہ بھی حل نہیں کرسکتی۔ جیسے مارکسی استاد کامریڈ لال خان نے کہا تھا کہ سرمایہ دار اگر کوئی ایک مسئلہ بھی حل کرتے ہیں تو ہمارے آگے مزید 20 مسئلے لا کھڑے کرتے ہیں۔ لیکن یہاں اگر ضرورت ہے تو صرف اور صرف اس اتحاد کی ہے جو یہاں کے محنت کشوں، کسانوں اور طالب علموں کا اتحاد ہو۔ جو بغیر کسی قوم، نسل، رنگ، مذہب اور جنسی فرق کے ہو اور وہ اس اتحاد کے ذریعے اس سرمایہ دارانہ نظام کو اکھاڑ کر پھینک دیں اور اس کے مقابلے میں ایک سوشلسٹ سماج کی تعمیر کریں۔ جہاں کی جمہوریت اور حکومت حقیقی بنیادوں پر عام لوگوں اور محنت کشوں کی ہو گی اور وہاں انسان حقیقی بنیادو ں پر اک انسان ہو گا۔ جہاں وہ ایک ایسا سماج تعمیر کرے گا جو کہ غربت، محرومی، لا علاجی اور ناخواندگی جیسی غلاظتوں سے پاک ہو گا۔

حاتم خان کراچی سے قانون کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور ریولوشنری سٹوڈنٹس فرنٹ کراچی کے رہنما ہیں۔