خبریں/تبصرے

ہندو طالبان کی ایما پر مسلمان کامیڈین اس لطیفے پر گرفتار جو انہوں نے سنایا ہی نہیں

لاہور (جدوجہد رپورٹ) بھارتی ریاست گجرات کے شہر جونا گڑھ سے تعلق رکھنے والے سٹینڈ اپ کامیڈین منور فاروقی گزشتہ 27 دنوں سے ان لطیفوں کی وجہ سے جیل میں ہیں جو انہوں نے سنائے ہی نہیں۔ انہیں رواں ماہ یکم جنوری کو شمالی بھارت کے شہر اندور سے برسراقتدار بی جے پی کے ایک سیاستدان کے بیٹے اور ہندو تنظیم کے لیڈر اکلویا گاڈ کی شکایت پر گرفتار کیا گیا ہے۔

پولیس نے منور فاروقی کو چار دیگر مزاح نگاروں کے ہمراہ گرفتار کیا اور ان پر مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے اور کورونا وبا کے پھیلاؤ کا سبب بننے کے امکانات جیسے الزامات لگائے گئے ہیں۔ اکلویا گاڈ نے صحافیوں کو بتایا کہ’’وہ ایسا بار بار کرتے ہیں۔ وہ ماضی میں ہندو دیوتاؤں اور دیویوں کے بارے میں بھی نازیبابیانات دیتے رہے ہیں۔“

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ جس وقت منور فاروقی کو گرفتار کیا گیا اس وقت انہوں نے پرفارمنس شروع ہی نہیں کی تھی۔ پولیس نے بھی اس بات کا اعتراف کیا کہ ان کے پاس ایسا کوئی ثبوت نہیں ہے اور شکایت کنندہ نے کچھ ایسے لطیفے کسی سے سن لئے تھے جن کی وہ تیاری کر رہے تھے۔

منور فاروقی کے وکیل انوشام سریواستو کا کہنا ہے کہ ”انہیں ان لطیفوں کیلئے گرفتار کیا گیا جو ابھی انہوں نے سنائے ہی نہیں تھے۔ منور نے ابھی اپنا شو شروع ہی نہیں کیا تھا۔ کسی جرم کے بارے میں آپ کا یہ خیال اور مفروضہ کہ یہ ہونے والا ہے جرم نہیں ہو سکتا۔ پولیس نے انہیں بغیر حقائق معلوم کئے گرفتار کر لیا“۔

دو مقامی عدالتوں نے منور فاروقی کو ضمانت دینے سے انکار کر دیا اور اب ہائی کورٹ ان کی نئی درخواست سن رہی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ انھیں رہا کرنے سے نقصِ امن کا خطرہ ہے تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ خطرہ کیوں ہے۔

ایک مصنف اور پوڈ کاسٹر امت ورما کہتے ہیں کہ ”اس سے کامیڈینز پر خوف طاری ہو جائے گا۔ انھیں سارا وقت خود کی نگرانی کرنی پڑے گی۔ سٹینڈ اپ کامیڈین اب شاید سیاست سے دور ہی رہیں۔“