خبریں/تبصرے

جی سی یو میرٹ پر ڈاکٹریٹ کی ڈگری دے، سفارش پر نہیں

فاروق طارق

گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور نے انوار احمد خان کو اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگری جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انوار احمد خان کوئی سرمایہ دار ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ’غنی گلاس‘ کے مالک ہیں۔



ان کی تعلیم کے لئے خدمات تو اس قابل نہیں کہ وہ ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری حاصل کریں اور وہ بھی پاکستان کے اس اعلیٰ ترین تعلیمی ادارے سے۔ البتہ ان کی کچھ خیراتی سرگرمیاں ضرور ہیں۔

وہ مفت کھانا کھلاتے ہیں غریبوں کو۔ یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ ایسا کرنے سے ٹیکس کتنا بچاتے ہیں اور سالانہ کتنا ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ اگر وہ خیرات کرتے بھی ہیں تو یہ اعزازی ڈگری کے لئے کوئی کوالیفیکیشن نہیں۔

اگر مفت کھانا کھلانے پر ڈاکٹریٹ کی ڈگری جاری کرنی ہے تو ملک ریاض اور مرحوم سیٹھ عابد زیادہ حقدار تھے۔

کہا جا رہا ہے کہ اس اعزازی ڈگری کے لئے گورنر پنجاب کی سفارش ہے۔ یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ گورنر پنجاب اس شخص کی سفارش کر رہے ہیں جس کی تعلیمی یا علمی خدمات کا کبھی سنا بھی نہ تھا۔

گورنمنٹ کالج یونیورسٹی نے اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگری دینی تھی تو مرحومہ عاصمہ جہانگیر کو دیتے، سلیمہ ہاشمی کو دیتے، نازش عطااللہ کو دیتے، حنا جیلانی کو دیتے،یا آئی اے رحمان کیا انہیں نظر نہیں آتے۔

ہمارا مطالبہ ہے کہ یہ فیصلہ واپس لیا جائے۔ ہم اس کے خلاف مہم چلائیں گے۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی سرمایہ داروں کو ’خیراتی کام‘ کرنے پر اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں جاری کرتا رہے۔

فارق طارق روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے جنرل سیکرٹری ہیں اور طویل عرصے سے بائیں بازو کی سیاست میں سرگرمِ عمل ہیں۔