خبریں/تبصرے

علی وزیر کی درخواست ضمانت مسترد، پی ٹی ایم قیادت نام لینے سے گریزاں

لاہور (نامہ نگار) کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت نمبر 2 نے ممبر قومی اسمبلی علی وزیر کی درخواست ضمانت مسترد کر دی ہے جبکہ اسی کیس میں گرفتار پی ٹی ایم کے دیگر 5 ساتھیوں کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔

بدھ کے روز تقریباً چار گھنٹے کی طویل سماعت کے بعد عدالت نے دو گھنٹے کا وفقہ لیا جس کے بعد کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے علی وزیر کی درخواست ضمانت مسترد کئے جانے کا اعلان کیا جبکہ نوراللہ، محمد شیر، شیر ایوب، بصیر اور حسن کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم سنا دیا گیا ہے۔

ادھر پی ٹی ایم کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے حال ہی میں کی جانیوالی پریس کانفرنس کے بعد سوشل میڈیا پرترقی پسند حلقوں کی جانب سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں کی جانیوالی پریس کانفرنس پی ٹی ایم کے ایک رہنما کی رہائی کے مطالبہ کیلئے کی جا رہی تھی۔ بائیں بازو کے ایک معروف جریدے ایشین مارکسسٹ ریویوکی رپورٹ کے مطابق پریس کانفرنس میں خطاب کرنے والوں میں تحریک کی اعلیٰ قیادت موجود تھی اور علی وزیر کے ساتھ ایف آئی آر میں نامزد ہونے والے ممبر قومی اسمبلی بھی موجود تھے۔ تاہم اس پریس کانفرنس میں علی وزیر کا ذکر نہیں کیا گیا اور نہ ہی پریس کانفرنس کیلئے آویزاں کئے گئے بینر پر علی وزیر کا نام تحریر کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ علی وزیر پی ٹی ایم کے سب سے مقبول رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں اور پی ٹی ایم سے وابستہ قومی اسمبلی کے 2 ممبران میں سے ایک ہیں۔ جس مقدمہ میں علی وزیر گرفتار ہیں اسی مقدمہ میں پی ٹی ایم سے وابستہ دوسرے ایم این اے محسن داوڑ بھی نامزد ہیں، محسن داوڑ بھی منظور پشتین کے ہمراہ مذکورہ پریس کانفرنس میں موجود تھے لیکن اس سب کے باوجود علی وزیر کا نام اس پریس کانفرنس میں کہیں شامل نہیں تھا۔

ایشین مارکسسٹ نے اس عمل کو قابل تشویش اور باعث حیرت قرار دیتے ہوئے یہ سوال اٹھایا ہے کہ ایسا کون ہے جو پی ٹی ایم قیادت کو علی وزیر کا نام لینے سے روک رہا ہے۔