خبریں/تبصرے

سری لنکا میں انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف مزاحمت جاری ہے: روکی فرنانڈو

قیصر عباس

سری لنکا میں انسانی حقوق کے معروف کارکن ر وکی فرنانڈو(Ruki Fernando) نے کہا ہے کہ ان کے ملک میں جاری ناانصافیوں اور انسانی حقوق کی مسلسل پامالی کے خلاف بھرپور مزاحمت جاری ہے جس کو عالمی پیمانے پر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر ملکی مسائل کے حل کے لئے تعاون اور اقدامات انتہائی اہم ہیں لیکن ضروری ہے کہ ملک میں جاری احتجاجی تحریکوں کو بھی مضبوط کیا جائے۔

ر وکی فرنانڈو سری لنکا میں اقلیتوں کے حقوق کے علم بردار اور امن مذاکرات کے کارکن کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ امریکہ میں ساؤتھ ایشیا ڈیموکریسی واچ، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور سدرن متھوڈسٹ یونیورسٹی کے تعاون سے ہونے والے ایک ویبینار میں انہوں نے اپنے ملک میں نسلی اور مذہبی اقلیتوں کے خلاف غیر انسانی رویوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ”موجودہ حکومت سول وار کے بعد ملک کی اقلیتوں کو یکساں حقوق دینے میں سنجیدہ نہیں ہے اور اقوام متحدہ کی سفارشات پر عمل کرنے سے انکار کر رہی ہے۔“

ملک میں موجودہ صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ ”برسر اقتدار طبقہ جمہوری اداروں کو کمزور کر رہا ہے۔ مقننہ، عدالتوں او ر سرکاری محکموں کو ان کے اختیارات نہیں دئے جا رہے۔ ملک میں مختلف حلقوں کو جمہوری حقوق سے محروم کر کے مزاحمت کے تمام راستوں کو محدود کیا جا رہا ہے۔ مخالف سیاسی پارٹیوں، صحافیوں اور وکلا کی آزادی ظہار ختم کی جا رہی ہے اور سول تنظیموں اور ماحولیاتی اداروں کو بزور خاموش کیا جاتا ہے۔“

ان کے مطابق ملک کی اقلیتوں کو اکثریت کے ما تحت رکھنے کے لئے ہر قسم کے حربے آزمائے جا رہے ہیں۔ مذہبی اقلیتوں، ہندوؤں، مسلمانوں اور عیسائیوں کو ریاستی تعصب کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ملک کے دوسرے اقلیتی گروپس کا استحصال جاری ہے جن میں قیدیوں، محنت کشوں، غیر ملکی مزدوروں، کسانوں اور تعمیراتی کارکنوں کے حقوق کو پوری طرح سلب کیا جا رہا ہے۔

ملک کے ترقیاتی منصوبوں میں ماحولیاتی تحفظ کو نظر انداز کرتے ہوئے جنگلوں کی کٹائی کا کام جاری ہے جس سے نہ صرف جانوروں کو خطرہ درپیش ہے بلکہ انسانی آبادیوں پر جانوروں کے حملوں کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔

روکی فرنانڈو کے مطابق فوجی افسران کے خلاف انسانی حقوق کی پامالیوں کے واقعات کو نظر انداز کر کے انہیں کھلی چھوٹ دی جا رہی ہے۔ حکومت کے کئی شعبوں میں دفاعی اداروں کے افسران کو تعینات کیا جا رہا ہے جس سے جمہوری روایات و مساوات کی خلاف ورزیوں میں تیزی آئی ہے۔

ویبینار میں ساؤتھ ایشیا ڈیموکریسی واچ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر قیصر عباس، بورڈ ممبر عمبرین خان کے علاوہ رٹگرز یونیورسٹی کی کرشانتی دھرما راج پر مشتمل ایک پینل نے عنوان پر سوالات کئے۔ پروگرام کی نظامت سدرن متھڈسٹ یونیورسٹی میں انسانی حقوق کے ڈائریکٹر رک ہیلپرن (Rick Halperin) نے کی۔

سوالات کا جواب دیتے ہوئے مقرر نے کہا کہ ”پورے جنوبی ایشیا میں جمہوری روایات کو خطرہ لاحق ہے لیکن سری لنکا میں ایک بڑی سول وار کے بعد اقلیتوں کے ساتھ غیر مساوی سلوک جاری ہے جس کے خلاف آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ ضروری ہے کہ ملک میں تمام اقلیتوں کے مسائل کا حل تلاش کیا جائے ورنہ سماجی اکائیوں کے درمیان تصادم کا سلسلہ ملک کے امن و امان کے لئے مستقل خطرہ رہے گا۔“

انہوں نے بتایا کہ ”ملک میں مختلف قوانین کے ذریعے استحصال جاری رکھا جاتا ہے جن میں سرفہرست ’پریونشن آف ٹیررزم ایکٹ‘ (Prevention of Terrorism Act) ہے۔ اس قانون کے سہارے لوگوں کو ڈیڑھ سال تک بغیر کسی قانونی کاروائی کے زیر حراست رکھا جا سکتا ہے۔ لوگوں کی جبری گمشدگی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے اور ان پر تشدد کی اطلاعات عام ہیں۔“

مقرر نے بتایا کہ بین الاقوامی اداروں کے احتجاج کے علاوہ ملک میں بھی کئی تنظیمیں مزاحمت میں قربانیاں دے رہی ہیں جن کا ذکر عالمی سطح پر بہت کم ہوتا ہے۔ بچوں اور نوجوانوں کی جانب سے احتجاج اس مہم کا ایک اہم حصہ ہے۔ مذہبی اقلیتوں نے ایک بڑے پیمانے پر ملک کے ایک کونے سے دوسر ے تک ایک مارچ کر کے انسانی حقوق کے تحفظ کا مطالبہ بھی کیاہے۔

اس کے علاوہ جبری طور پر گمشدہ افرادکے لواحقین مسلسل احتجاجی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں۔ کرونا وائرس سے ہلاک ہونے والے مسلمانوں کو ان کے مذہبی عقائد کے تحت دفنانے کے بجائے بغیر کسی سائنسی توجیح کے جلانے کا عمل جاری ہے جس کے خلاف احتجاجی تحریکیں جاری ہیں۔ ملک میں مائیکرو فائنانس پروگرام میں بدعنوانیوں، کسانوں کی جانب سے ماحولیات کے تحفظ کے مطالبا ت اور چائے کی کاشت کے مزدوروں کی اجرتیں بھی اہم مسائل ہیں جن کے حل پر بات چیت ہونی چاہئے۔

سری لنکا میں اکثریتی سنہالا اور تامل اقلیت کے درمیان تقریباً 25 سال تک سول وار جاری رہی جو 2009ء میں ختم ہوئی۔ اس کے بعد سے اب تک ملک میں حالات معمول پر نہیں آ سکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارے ہیو من رائٹس کونسل نے حال ہی میں ایک قرارداد کے ذریعے ملک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے تمام اقدامات اور واقعات پرکڑی نظر رکھنے اورثبوت فراہم کرنے کے لئے ایک باقاعدہ ریکارڈرکھنے کا فیصلہ کیاہے۔

ادارہ لوگوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کے ذمہ دار افراد اور اداروں کی جواب دہی کے لئے لائحہ عمل طے کرے گا، ان جرائم کا نشانہ بننے والوں کا دفاع کرے گا اور اس کے تدارک کے لئے قانونی چارہ جوئی اور دوسرے اقدامات میں مدد کرے گا۔ اس صورت حال پر اس سال ستمبر اور اگلے سال مارچ اور ستمبر میں رپورٹیں پیش کی جائیں گی۔

نومبر 2019ء میں انتخابات کے بعد سری لنکا میں برسراقتدار آنے والی جماعت سماجی مسائل کے حل کے لئے بین الاقوامی اداروں کے ساتھ تعاون سے گریز کر رہی ہے۔ اندرون ملک جاری سماجی خلفشار نے امن کی کوششوں کو التوا میں ڈال دیا ہے او ر اندیشہ یہی ہے کہ حکومت بھی اکثریت کی طاقت کوانسانی حقوق کی چوکھٹ پر قربان نہیں کرنا چاہتی۔

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔