خبریں/تبصرے

ریاست بحریہ کیخلاف احتجاج: قوم پرست کارکن لاپتہ

لاہور (نامہ نگار) بحریہ ٹاؤن کراچی کی انتظامیہ کی جانب سے کراچی کے نواحی دیہاتوں پر قبضے کے خلاف احتجاج منظم کرنے والے قوم پرست کارکنوں اور رہنماؤں کو لاپتہ کئے جانے کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔

احتجاج کے منتظمین میں سے 90 سے زائد کو گرفتار کر کے مقدمات قائم کئے گئے ہیں۔ دہشت گردی اور پاکستانی پرچم کی توہین کی دفعات کے تحت مقدمات میں بحریہ ٹاؤن کے خلاف سرگرم مقامی لوگوں، ادیبوں اور سندھ ایکشن کمیٹی میں شامل قوم پرست جماعتوں کے رہنماؤں کو نامزد کیا گیا ہے۔

پولیس نے ایف آئی آر میں انسداد دہشت گردی کی سیکشن 7، تعزیرات پاکستان کی دفعہ 123 بی (پاکستان کے قومی جھنڈے کو نذر آتش کرنا) اور کارِ سرکار میں مداخلت کے الزامات کے تحت یہ مقدمہ دائر کیا ہے۔

کراچی پولیس نے 90 سے زائد افراد کو گرفتار کیا تھا جن میں قوم پرست جماعتوں کے کارکن بھی تھے۔ پولیس نے گرفتار شدگان کوانسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا اور عدالت نے دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر ان کارکنوں کو پولیس کے حوالے کر دیا۔

بحریہ ٹاؤن انتظامیہ کی جانب سے بھی پولیس کے موقف سے ملتے جلتے الزامات کے تحت مقدمہ دائر کروایا گیا ہے۔

بحریہ ٹاؤن انتظامیہ کی جانب سے دی گئی درخواست میں درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ بحریہ میں بحیثیت سکیورٹی مینیجر تعینات ہیں۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ سندھی قوم پرست جماعتوں کے احتجاج میں قادر مگسی، مشتاق سرکی، جلال محمود شاہ، صنعان قریشی، جان محمد جونیجو اور دیگر رہنما اپنے آٹھ سے دس ہزار کارکنوں کے ساتھ پہنچے اور اپنی تقاریر میں بحریہ کی زمین پر قبضہ کی دھمکیاں اور اپنے کارکنوں کو مسلسل اشتعال دلاتے رہے۔

ادھر قوم پرست تنظیم جئے سندھ قومی محاذ (جسقم) کے چیئرمین صنعان قریشی کی بازیابی سے متعلق سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی ہے۔ درخواست میں صنعان قریشی کے بھائی قوسین قریشی نے وفاقی، صوبائی حکومت، آئی جی سندھ، ڈی جی رینجرز اور دیگر کو فریق بنایا ہے۔ درخواست گزار نے موقف اختیار کیا ہے کہ’’صنعان قریشی کو گلشن حدید سے رات 5 بجے کے قریب قانون نافذ کرنے والے ادارے لے گئے لیکن 7 جون سے اب تک انہیں کسی بھی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔ میرے بھائی کی جان کو خطرہ ہے، بازیابی کا حکم دیا جائے۔“

واضح رہے کہ سندھ ایکشن کمیٹی نے مقدمات، گرفتاریوں اور بحریہ ٹاؤن کی قبضہ گیری کے خلاف 10 جون کو سندھ بھر میں احتجاج اور سندھ اسمبلی کے سامنے احتجاجی دھرنا دینے کا اعلان بھی کر رکھا ہے۔