خبریں/تبصرے

ارتغرل کابل میں، انڈیا کے بھی گڈ طالبان سے رابطے

لاہور (جدوجہد رپورٹ) بھارت نے افغان طالبان کے دھڑوں کے سات بات چیت کے آغاز پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔

بھارتی میڈیا کے حوالے سے ’ڈی ڈبلیو‘کی رپورٹ کے مطابق یہ بات چیت صرف ان طالبان دھڑوں تک ہی محدود ہو گی جو پاکستان یا ایران کے زیر اثر نہیں ہیں بلکہ افغان قوم پرست سمجھے جاتے ہیں۔

یہ سلسلہ امریکہ کے 11 ستمبر تک افغانستان سے مکمل فوجی انخلا کے اعلان کے بعد شروع ہوا ہے۔ تاہم بھارت اور طالبان کی طرف سے اس بات کی تصدیق نہیں کی گئی۔ بھارتی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ افغان تعمیر نو کے عمل میں مختلف اسٹیک ہولڈرز سے رابطے میں ہے۔

واضح رہے کہ ترک صدر رجب طیب اردگان نے بھی گزشتہ دنوں امریکی صدر جو بائیڈن سے پہلی ملاقات سے قبل افغان امن عمل میں امریکہ کی مدد کرنیکی پیش کش کی ہے۔

رجب طیب اردگان نے امریکہ کو اپنے نیٹو اتحادی ترکی پر انحصار کرنے کی یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ ”امریکہ کے فوجیں نکالنے کے بعد ترکی افغانستان میں استحکام پیدا کرنے کیلئے ’واحد قابل اعتماد‘ ملک ہو گا۔“

انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ برسلز میں نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر جو بائیڈن کے ساتھ ملاقات میں اس معاملے پر بات کریں گے۔

اردگان نے برسلز روانگی سے قبل استنبول ہوائی اڈے پر میڈیا کو بتایا کہ ”امریکہ جلد ہی افغانستان چھوڑنے کی تیاری کر رہا ہے اور جب وہ وہاں سے چلے جائیں گے اسی وقت سے وہاں پر امن عمل کو برقرار رکھنے کا واحد قابل اعتماد ملک ترکی ہے۔“

ترکی نے مبینہ طور پر کہا کہ وہ کابل ایئرپورٹ کی حفاظت کیلئے فوجی دستے افغانستان میں رکھنے کیلئے تیار ہے۔ امریکہ افغانستان پر حملہ کرنے کے 20 سال بعد 11 ستمبر تک نیٹو افواج کے ساتھ فوجی انخلا کی تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔

اردگان نے تفصیلات بتائے بغیر کہا کہ ترک عہدیداروں نے امریکی ہم منصوبوں کو فوجی انخلا کے بعد افغانستان میں ترکی کے منصوبوں سے آگاہ کیا تھا اور وہ ان منصوبوں سے خوش ہیں۔ ہم ان کے ساتھ افغانستان کے امن عمل پر تبادلہ خیال کرنے کے اہل ہونگے۔

ایک ترک عہدیدار نے تصدیق کی کہ مغربی طاقتیں کابل ایئرپورٹ کی حفاظت کیلئے ترکی کی موجودگی پر راضی ہیں۔ عہدیدار نے مزید کہا کہ ”ان امور کو واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ اگر کوئی مدد نہیں دیتا تو ترکی کیوں ایسا کرے گا؟“

طالبان کا کہنا ہے کہ غیر ملکی افواج کو افغانستان میں فوجی موجودگی کی کوئی امید نہیں رکھنی چاہیے۔ امریکہ اور نیٹو کے فوجیوں کے انخلا کے بعد سفارتخانوں اور ہوائی اڈوں کی حفاظت کرنا افغانیوں کی ذمہ داری ہو گی۔

واضح رہے کہ حالیہ برسوں میں امریکہ اور ترکی کے مابین تعلقات کشیدہ رہے ہیں جبکہ اردگان کا کہنا ہے کہ وہ بائیڈن انتظامیہ کے ساتھ نئی شروعات کرنا چاہتے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ ”ہمیں افواہوں پر کان دھرنے کی بجائے اس پر تبادلہ خیال کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم کیا کر سکتے ہیں۔ ہم توقع کرتے ہیں کہ امریکہ کی اگر مگر کے بغیر کوئی واضح نقطہ نظر سامنے آئیگا۔“

امریکہ کی شام میں کرد جنگجوؤں کی حمایت سے ترکی کی جانب سے روسی ہتھیاروں کے نظام کی خریداری تک نیٹو کے دونوں اتحادیوں کے تعلقات میں کشیدگی کی وجوہات کی ایک طویل فہرست ہے۔ رواں سال اپریل میں بائیڈن نے عثمانی دور کے بڑے پیمانے پر قتل اور جلا وطنی کے واقعات کو آرمینی باشندوں کی نسل کشی قرار دیکر ترکی کو مزید مشتعل کیا۔ گزشتہ امریکی صدور نے اس اصطلاح کو تشویش کی بنا پر استعمال کرنے سے گریز کیا تھا کہ وہ ترکی کے ساتھ تعلقات کو پیچیدہ بنائے گا جو عثمانی تاریخ پر فخر کرتا ہے اور ترکی کا اصرار ہے کہ 20 ویں صدر کے اوائل میں قتل ہونے والے افراد خانہ جنگی اور بدامنی کا شکار ہیں۔

بائیڈن کی جانب سے نسل کشی کی اصطلاح کا حوالہ دیتے ہوئے طیب اردگان نے کہا کہ ”اس سے ہمیں شدید رنج ہوا ہے…ترکی کوئی عام ملک نہیں ہے یہ امریکہ کا اتحادی ہے۔“

18 سال اقتدار میں رہنے والے اردگان نیٹو سربراہی اجلاس کے دوران فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون، جرمن چانسلر انجیلا میرکل، یونانی وزیر اعظم کریاکوس میتسوتاکس اور برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کے ساتھ ون آن ون ملاقاتیں بھی کرینگے۔