خبریں/تبصرے

طالبان قبضے سے پہلے: یونیورسٹی کے چند قصے

یاسمین افغان

میرے پاس الفاظ نہیں ہیں، میں نہیں جانتی کہ مجھے کیسے لکھنا چاہیے اور میں کیا لکھنا چاہتی ہوں۔ میں شدت سے چند دوستوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہوں لیکن میں اس وقت سے ان کے پاس نہیں جا سکی جب سے کابل طالبان کے قبضے میں گیا ہے۔

2010ء میں جب میں ایک بین الاقوامی خبر رساں ادارے کیلئے کام کر رہی تھی تب میں نے اپنی یونیورسٹی ڈگری مکمل کرنے کا فیصلہ کیا۔ میں نے کابل کی ایک نجی یونیورسٹی کی شام کی کلاسوں میں داخلہ لیا۔ شام کی کلاسوں میں مختلف اداروں کی لڑکیاں، لڑکے، مرد اور خواتین شامل تھیں۔

میں نے لا فیکلٹی جوائن کی، ہماری کلاس میں پانچ لڑکیاں اور 25 مرد امریکی سفارت خانے سے افغانستان کے سیکورٹی ڈائریکٹوریٹ سے تھے۔ میں نے ڈائریکٹوریٹ سے اپنے تین ہم جماعتوں کے ساتھ تھوڑا سا فاصلہ اختیار کرنا شروع کیا کیونکہ کئی سال پہلے میں نے قومی سلامتی ڈائریکٹوریٹ کے لیے کام کرنے والوں کے بارے میں سنا تھا کہ وہ بے رحم اور ظالم ہوتے ہیں۔ میں نے نجیب اللہ کے دور کے بارے میں کہانیاں سنی تھیں، یہی وجہ تھی کہ میں ان سے دشمنی رکھتی تھی۔ ان تینوں کی عمریں تقریباً تیس سال کے لگ بھگ تھیں، تینوں شادی شدہ تھے اور انکے بچے بھی تھے۔

ایک ہفتے کے دوران، چیزیں بدل گئیں، یونیورسٹی میں ہراساں کرنے والے کے خلاف ان میں سے ایک نے میرا ساتھ دیا، جس کے بعد میرا انکی جانب رویہ نرم ہو گیا۔ میں نے ان سے زیادہ بات کرنا شروع کی اور ان کے ساتھ وقفے کے اوقات میں گھومنے پھرنے لگتی۔ ہم ہنسی مذاق کرتے اور کافی پینے سے لے کر سردیوں کی برف میں مکئی کے دانے کھانے تک ہم اکٹھے کھا۔ بحث کا بنیادی موضوع ہمیشہ سیاست ہوتا اور یہاں تک کہ دلائل بھی ہوتے اور شور بھی ہوتا لیکن وہ مجھے رفیق (دوست) کہتے اور سب کچھ معمول پر آ جاتا۔ ایک دن ان میں سے ایک نے کہا رفیق کا آج بہت سر گرم ہے اور ہمیں اس کے ساتھ سیاست پر بحث نہیں کرنی چاہیے لیکن پھر باقی دونوں نے ہنس کر مجھے بتایا کہ وہ صرف مجھے چھیڑ رہا تھا۔

مجھے اب بھی یاد ہے کہ ایک مضبوط لڑکی کی حیثیت سے میں کسی کی بات نہیں سنتی تھی اور میں واحد لڑکی تھی جو سر نہیں ڈھانپتی تھی اور اگر کوئی کچھ کہنے کی کوشش کرتا تو وہ ہمیشہ میرا دفاع کرتے تھے۔ میں ان کے قریب خود کو محفوظ محسوس کرتی، مجھے ایسا لگتا تھا وہ میرا خاندان ہیں۔ ہم دو مختلف نسلی گروہوں سے تھے لیکن پھر بھی وہ اس وقت تک گھر نہیں جاتے تھے جب تک کہ وہ اس بات کا یقین نہ کر لیں کہ میرا ڈرائیور مجھے لینے آ چکا ہے۔

میں نے 2017ء میں ان میں سے ایک کو بتایا کہ میرے شوہر کابل کا دورہ کریں گے اور مجھے ان کی سیکورٹی کا خوف ہے، وہ ہنسے اور مجھے یقین دلایا کہ وہ مجھے ذاتی طور پر ائیرپورٹ پر لے جائیں گے اور میرے شوہر کے کابل میں قیام کے دوران انکی مکمل حفاظت کی جائے گی۔

میں گزشتہ ایک ہفتے سے مسلسل ان کے بارے میں سوچ رہی ہوں۔ جیسے ہی طالبان کابل میں داخل ہوئے، میرا ذہن خود بخود ان کی طرف چلا گیا کیونکہ میں جانتی تھی کہ وہ پہلا نشانہ ہوں گے۔ میں کئی دنوں سے ان کو ڈھونڈ رہی تھی اور آخر کار آج میں ان میں سے ایک سے بات کر نے میں کامیاب ہوئی۔ پہلے ہم ’چیٹ‘ (میسجز کے ذریعے گفتگو) کر رہے تھے، پھر اچانک مجھے یہ خوف لاحق ہو گیا کہ اگر دوسری طرف کوئی طالبان رکن ہو اور مجھ سے اس کے بارے میں معلومات نکالنے کی کوشش کر رہا ہوا تو پھر میں نے اسے فون کرنے کو کہا۔

جیسے ہی میں نے اس کی آواز سنی میں نے کہا، خدا کا شکر ہے، تم محفوظ ہو! میں اس وقت معلومات نہیں بتاؤں گی کہ وہ اس وقت کہاں ہے لیکن یہ آج کے دن کی سب سے اچھی خبر تھی کہ وہ ٹھیک ہے۔ میں نے دوسرے دو ہم جماعتوں کے بارے میں پوچھا اور اس نے مجھے بتایا کہ جس دن سقوط کابل ہوا وہ آخری دن تھا جب اس نے ان سے بات کی تھی اور تب سے ان کے فون بند ہیں۔

میں ان کے مسکراتے چہروں کے بارے میں سوچنا نہیں روک سکتی یا وہ مشکل میں دوسری لڑکیوں کے لیے اور میرے لیے کیسے کھڑے ہوں گے۔ ان کے رویے اور افغانستان کے لیے محبت نے مجھے ’نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سکیورٹی‘ کو ایک مختلف زاویے میں دیکھنے پر مجبور کیا۔ میں نے این ڈی ایس کو پسند کرنا اور اس کا احترام کرنا شروع کیا اور ان کی کہانیاں سنتی رہی۔ گزشتہ دو دنوں سے میں انکی مدد نہیں کر سکی لیکن یہ سوچتی ہوں کہ وہ این ڈی ایس کا حصہ نہیں تھے اور ایک مختلف پیشہ رکھتے تھے لیکن پھر میں سوچتی ہوں کہ وہ افغان جنہوں نے کسی بھی شعبے میں کام کیا ہے وہ اس وقت ایک ہدف ہیں، اس لیے کچھ بھی انہیں بچا نہیں سکتا تھا۔

میں ان کے اور ان کے خاندان کے بارے میں سوچ کر بہت بے بسی اور ناامیدی محسوس کرتی ہوں۔ وہ کہاں اور کن حالات میں ہو نگے؟ کیا میں دوبارہ کبھی ان کی آوازیں سن سکوں گی؟ اس کی اورا اگر سے میرا دل ڈوب جاتا ہے اور ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا ہے۔

’یاسمین افغان‘ صحافی ہیں۔ وہ ماضی میں مختلف افغان نیوز چینلوں کے علاوہ بی بی سی کے لئے بھی کام کر چکی ہیں۔ سکیورٹی صورتحال کی وجہ سے ان کا قلمی نام استعمال کیا جا رہا ہے۔