خبریں/تبصرے

بحریہ کے خلاف لاہور میں سندھ یکجہتی مارچ: ’زرداری ملک ریاض کے سہولت کار ہیں‘

لاہور (پریس ریلیز) گذشتہ روز پروگریسو سٹوڈنٹس کولیکٹو، حقوق خلق موومنٹ اور عورت مارچ نے بحریہ ٹاؤن کی جانب سے سندھیوں کی زمینوں پر قبضہ، گجر نالہ کاروائی میں عوام کی گھروں سے بے دخلی اور ہزاروں سندھی سیاسی و سماجی کارکنان پر مقدمات کے خلاف اور جانی خیل دھرنا کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے پریس کلب لاہور کے سامنے زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ اس مارچ میں ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ سندھ ایکشن کمیٹی کے وفد نے سندھ سے لاہور آ کر خصوصی شرکت کی۔

احتجاج دو گھنٹے جاری رہا اور ریلی بھی نکالی گئی جس میں سندھی عوام کی زمینوں پر قبضے کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔ یہ ریلی شملہ پہاڑی کے اطراف میں نکالی گئی جس میں بحریہ ٹاؤن، سندھ حکومت کی سندھی عوام کے خلاف انتقامی کاروائیوں اور سندھ میں سیاسی کارکنان کے خلاف مقدمات درج کرنے کے خلاف شدید نعرے بازی کی جاتی رہی۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ فی الفور سندھ میں سیاسی و سماجی کارکنان کے خلاف جاری کریک ڈاؤن بند کیا جائے اور اسیر کارکنان کو رہا کیا جائے، مزید یہ کہ گجر نالے اور بحریہ ٹاؤن قبضہ کے متاثرین کو نہ صرف ان کی زمینیں واپس کی جائیں بلکہ بحریہ ٹاؤن انتظامیہ اور دیگر ملوث ارکان اور اداروں کے خلاف بھی سخت کاروائی کی جائے۔

ریلی سے خطاب کرنے والوں میں سندھ ایکشن کمیٹی کے رہنما اور سندھ یونائٹیڈ پارٹی کے مرکزی نائب صدر جگدیش آہوجا، حقوق خلق موومنٹ کے رہنما فاروق طارق، ثنا اللہ امان، مزمل خان، حیدر بٹ، بلال ظہور، عائشہ احمد، پروگریسو سٹوڈنٹس کولیکٹو کے صدر محسن ابدالی اور سندھ کونسل پنجاب یونیورسٹی کے رہنما ظفر بگٹی شامل تھے۔ فاروق طارق نے کہا پنجاب کے ترقی پسند عوام نے آج لاہور میں سندھ یکجہتی مظاہرہ کر کے پاکستان کے مظلوم عوام کے اتحاد کو فروغ دیا ہے، ہم سندھ کے عوام کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔

جگدیش آہوجا نے کہا کہ سندھی عوام کے پرامن لاکھوں کے مجمع پر آنسو گیس کے شیل چلا کر سندھ کی بیٹیوں اور قوم پرست رہنماؤں اور کارکنوں کو پیغام دیا کہ ملک ریاض اور زرداری کے خلاف مزاحمتی تحریک برداشت نہیں کی جائے گی، سندھ کے عوام نے 6 جون کو بحریہ ٹاؤن پر واضح کر دیا کہ ان کی زمینوں پر قبضے اور دہشت گردی کے سامنے سندھی قوم کبھی نہیں جھکے گی۔

مقررین نے کہا کہ سندھ کے وسائل سے مقامی آبادی کو بے دخل کرنے کا سلسلہ مسلسل جاری ہے اور بحریہ ٹاؤن قبضہ اس کی ایک واضح مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہروں میں شہریوں سے زمینیں خالی کروا کر پراپرٹی ڈیلروں کو دی جا رہی ہیں اور جبکہ اندرونی علاقوں میں سندھ کی ندیوں اور پہاڑوں پر قبضہ کر کے ٹھیکے پر دیے جا رہے ہیں، مصنوعی طریقہ سے پانی کا رخ بدل کے لوگوں کی زمینیں بنجر کی جا رہیں ہیں۔ ہم کسی صورت اس ظلم پر چپ نہیں بیٹھیں گے اور آخری سانس تک مزاحمت کریں گے۔ مقررین نے کہا کہ اگر زیادتیوں کا یہ سلسلہ بند نہ ہوا تو ان احتجاجی مظاہروں کو ملک گیر سطح پر بھی منظم کیا جائے گا۔

پروگریسیو سٹوڈنٹس کولیکٹو کے صدر محسن ابدالی نے بحریہ ٹاؤن کے خلاف احتجاج کرنے والے کارکنان کے خلاف سکیورٹی اداروں کی کاروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کے عوام پر دوہرا ظلم جاری ہے ایک طرف ان کو گھروں سے بے دخل کیا جا رہا ہے اور پھر مقدمات بھی انھیں کے خلاف بنائے جا رہے ہیں جو ایک انتہائی شرمناک قدم ہے۔ انھوں نے سندھ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت کی جانب سے سیاسی کارکنان پر جاری کریک ڈاون نے پیپلز پارٹی کے ترقی پسند اور عوامی پارٹی ہونے کے دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے اور ثابت کر دیا ہے کہ یہ صرف ملک ریاض جیسے سرمایہ داروں کے سہولت کار ہیں۔

عورت مارچ کی ترجمان شمائلہ کا کہنا تھا کہ بحریہ ٹاؤن اور سندھ گورنمنٹ کے رویہ کی مذمت کرتے ہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ یہ رویہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے اور ”ہمارا مطالبہ ہے کہ لوگوں کو ان کی زمینیں واپس کی جائیں اور تمام سیاسی کارکنان کو فی الفور رہا کیا جائے“۔

سندھ سے آنے والے وفد میں سندھ یونائٹیڈ پارٹی کے مرکزی فنانس سیکرٹری مختار میمن اور منیر نائچ بھی شامل تھے۔