خبریں/تبصرے

ترکی افغانستان میں فوج بھیجنے سے باز رہے: طالبان

راولاکوٹ (نامہ نگار) افغان طالبان نے 11 ستمبر تک امریکی اور نیٹو افواج کے انخلا کے بعد افغانستان میں کسی بھی غیر ملکی فوج کی موجودگی پر مخالفت کا اظہار کیا ہے۔

یہ بیان اس کے ایک روز بعد آیا جب امریکی صدر جوبائیڈن اور ترک صدر رجب طیب اردگان نے پیر کے روز اتفاق کیا کہ امریکی انخلا کے بعد افغانستان کے دارالحکومت کابل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ترکی سکیورٹی فراہم کرتا رہے گا۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ ”ملک میں ہوائی اڈوں اور دیگر مقامات کی حفاظت کرنا افغانیوں کی ذمہ داری ہے۔ اگر غیر ملکی افواج ہوائی اڈے کی حفاظت کے نام پر فوجی موجودگی برقرار رکھنا چاہتی ہیں تو افغانی اس کی اجازت نہیں دینگے اور انہیں حملہ آور کی حیثیت سے دیکھیں گے وہ خواہ ترکی ہو یا کوئی اور ملک ہو۔“

انکا کہنا تھا کہ ”طالبان ترکی کے ساتھ سفارتی تعلقات برقرار رکھنے اور اسلامی ملک کے ساتھ برادرانہ تعلقات کے خواہاں ہیں۔“

انکا کہنا تھا کہ ”حالیہ ملاقاتوں اور ترکی کے سفارتکاروں کے ساتھ بات چیت کے دوران انہوں نے تجارتی فوجی موجودگی کی تجویز پیش کی تھی لیکن ہم نے انہیں بتایا کہ یہ ہمارے لئے ناقابل قبول ہے اور انہوں نے ہمارا موقف قیادت تک پہنچانے کی یقین دہانی بھی کروائی تھی۔“

ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ”ترکی اور امریکہ اپنے دو طرفہ امور پر تبادلہ خیال کر سکتے ہیں لیکن صرف افغانیوں کو ہی یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ اپنے داخلی معاملات کس طرح چلائیں گے اور دوسروں سے بھی توقع کریں گے کہ وہ اس کا احترام کریں۔“

افغانستان میں ترکی کے 500 فوجی نیٹو کے زیر قیادت غیر جنگی فوجی مشن کے ایک حصے کے طور پر موجود ہیں اور ترکی نے کابل کے ہوائی اڈے کیلئے طویل عرصے سے سکیورٹی فراہم کی ہے۔

غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد طالبان اور افغان فوج کے مابین شدید دشمنی کے باعث خانہ جنگی کا خدشہ موجود ہے اور افغانستان میں سفارتی مشنوں کے کام کیلئے کابل ایئرپورٹ کی سکیورٹی کو بہت اہم سمجھا جا رہا ہے۔