خبریں/تبصرے

افغانستان: اشرف غنی فرار، طالبان صدارتی محل میں داخل، کابل میں کرفیو نافذ

حارث قدیر

افغانستان کی قومی مصالحتی کونسل کے چیئرمین عبداللہ عبداللہ نے ایک ویڈیو بیان میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ افغان صدر اشرف غنی ملک چھوڑ کر چلے گئے ہیں اور جبکہ طالبان صدارتی محل میں داخل ہو گئے ہیں۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق جنگجوؤں کو کابل میں داخل ہونے اور سکیورٹی سنبھالنے کے احکامات دے دیے ہیں۔ افغان وزارت داخلہ کے ایک عہدیدار کے مطابق اشرف غنی تاجکستان چلے گئے ہیں۔ افغان وزارت داخلہ نے کابل میں کرفیو نافذ کر دیا ہے۔

دو ہفتوں سے بھی کم عرصے میں افغانستان کے 34 صوبائی دارالحکومتوں میں سے 26 پر قبضہ کرنے کے بعد اتوار کے روز طالبان جنگجوؤں نے کابل کا محاصرہ کر لیا تھا۔ اقتدار کی پر امن منتقلی کیلئے مذاکرات کے دوران ہی صدر اشرف غنی تاجکستان فرار ہو گئے۔

طالبان نے اپنے جنگجوؤں کو ہدایت کی ہے کہ وہ تشدد سے گریز کریں اور کابل چھوڑنے کے خواہشمندوں کو محفوظ راستہ دیں۔

اتوار کے روز، طالبان فوجیوں نے افغانستان کے اقتدار کی نشست کو گھیر لیا، اس نے وعدہ کیا کہ اس نے اپنے جنگجوؤں کو ہدایت کی تھی کہ وہ تشدد سے گریز کریں اور کابل چھوڑنے کے خواہشمندوں کو محفوظ راستہ دیں۔

حامد کرزئی کا کہنا ہے کہ ان سمیت عبداللہ عبداللہ اور گلبدین حکمت یار پر مبنی تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہے جو پر امن انتقال اقتدار کیلئے مذاکرات کرے گی۔ تاہم طالبان نے عبوری حکومتی سیٹ کے امکانات کو مسترد کر دیا ہے۔

دوسری طرف امریکہ کے سفارت خانے کی جانب سے جاری کردہ الرٹ میں کابل کے ایئرپورٹ پر فائرنگ کی اطلاعات دی گئی ہیں۔

حکام نے علاقے میں موجود امریکی شہریوں کومسلسل بدلتی سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر محفوظ ٹھکانوں میں منتقل ہونے کی ہدایت کی ہے۔ سفارتخانہ بند کر دیا گیا ہے، تاہم امریکیوں کو مدد کیلئے آن لائن رابطے کی ہدایات کی گئی ہیں۔

ادھر امریکہ کی جانب سے طالبان کو خبردار بھی کیاگیا ہے کہ اگر امریکی سفارتی عملے یا فورسز کو کسی قسم کا نقصان پہنچایا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائیگا۔

عینی شاہدین کے مطابق مسلح جنگجوؤں کو کابل داخلے کے دوران بہت کم مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ امریکہ نے کابل سے اپنے سفارتی عملے کی واپسی کا آپریشن شروع کر دیا ہے جبکہ برطانوی شہریوں اور عملے کی واپسی کے لیے قریب 600 فوجی تعینات کیے گئے ہیں۔

امریکی اور غیر ملکی افواج طالبان کے ساتھ معاہدہ کے تحت بیس سال بعد افغانستان سے واپس جا رہی ہیں اور غیر ملکی افواج کا انخلا 11 ستمبر تک مکمل ہو جائے گا۔

حارث قدیر کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولا کوٹ سے ہے۔  وہ لمبے عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں اور مسئلہ کشمیر سے جڑے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔