خبریں/تبصرے

6 سال میں 6 لاکھ پاکستانی 138 ممالک سے ڈی پورٹ ہوئے

لاہور (جدوجہد رپورٹ) پاکستان کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2015ءسے اب تک کے 6 سالوں میں 6 لاکھ 18 ہزار 877 سے زائد پاکستانی دنیا کے 138 ممالک سے ملک بدر کئے جا چکے ہیں۔ ان پاکستانیوں کو غیر قانونی طور پر میزبان ملکوں میں داخل ہونے، جعلی سفری دستاویزات کے استعمال یا پھر ورک پرمنٹ کی معیاد ختم ہو جانے کے بعد بھی کام کرنے کی وجہ سے اپنے میزبان ملکوں سے واپس پاکستان ڈی پورٹ کیا گیا ہے۔

’جیو نیوز ‘کے مطابق فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ان جلا وطن افراد کو شاید بیرون ملک پاکستان کے سفارتخانوں کی جانب سے مناسب مدد نہیں مل سکی جس کی وجہ سے حالیہ برسوں میں ملک بدریوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق ملک بدر ہونے والے پاکستانیوں کی مجموعی تعداد کے 72 فیصد سے زائد پاکستان کے دوست ممالک سعودی عرب، عمان، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین، ایران اور ترکی سے ملک بدر کئے گئے۔

6 سال کے عرصہ کے دوران پاکستانیوں کی اوسط جلاوطنی سعودی عرب سے 3 لاکھ 21 ہزار 590 (147 افراد روزانہ) کے برابر ہے جو کل جلاوطن افراد کا 52 فیصد ہے۔ 2015ءمیں 61 ہزار 403 سے زائد پاکستانیوں کو ملک بدر کیا گیا، 2016ءمیں 57 ہزار 704 افراد ملک بدر ہوئے، 2017ءمیں 93 ہزار 736 افراد، 2018ءمیں 50 ہزار 944 افراد، 2019ءمیں 38 ہزار 470 جبکہ گزشتہ سال سعودی عرب سے 19 ہزار 333 افرادکو ملک بدر کیا گیا۔

متحدہ عرب امارات نے گزشتہ 6 سالوں کے دوران 53 ہزار 649 سے زائد پاکستانیوںکو ملک بدر کیا۔ 2015ءمیں 8 ہزار 690 افراد، 2016ءمیں 9 ہزار 980 افراد، 2017ءمیں 10 ہزار 393 افراد، 2018ءمیں 10 ہزار 684 افراد، 2019ءمیں 6 ہزار 602 افراد اور 2020ءمیں 7 ہزار 300 افراد کو ملک بدر کیا گیا۔

ایرانی امیگرین عملے نے گزشتہ 6 سالوں میں 1 لاکھ 36 ہزار 930 پاکستانیوں کو ملک بدر کیا۔ ایران نے بلوچستان کے تفتان بارڈر سے 2015ءمیں 27 ہزار 51 غیر قانونی تارکین وطن کو پاکستان واپس بھیجا، 2016ءمیں 25 ہزار 808 افراد، 2017ءمیں 21 ہزار 623 افراد، 2018ءمیں 25 ہزار 563 افراد، 2019ءمیں 17 ہزار 470 افراد اور 2020ءمیں 19 ہزار 395 افراد کو پاکستانی حکام کے حوالے کیا گیا۔

عمان نے 2015ءمیں 4 ہزار 543 پاکستانیوں کو ملک بدر کیا، 2016ءمیں 1 ہزار 794 افراد، 2017ءمیں 3 ہزار 165 افراد، 2018ءمیں 2 ہزار 18 افراد 2019ءمیں 1 ہزار 874 جبکہ گزشتہ سال 1 ہزار 743 افراد کو ملک بدر کیا گیا۔

برطانیہ نے 2015ءسے اب تک 8 ہزار سے زائد پاکستانیوں کو اس بنیاد پر ملک بدر کر دیا ہے کہ وہ مناسب دستاویزات کے بغیر وہاں مقیم تھے۔ 2015ءمیں تقریباً 2 ہزار 514 افراد، 2016ءمیں 1 ہزار 889 افراد، 2017ءمیں 1 ہزار 769 افراد، 2018ءمیں 1 ہزار 7 افراد، 2019ءمیں 603 افراد اور 2020ءمیں 328 افراد کو ملک بدر کیا گیا۔

گزشتہ 6 سالوں میں 32 ہزار 300 سے زائد پاکستانیوں کو ترکی سے ملک بدر کیا گیا۔ 2015ءمیں 2 ہزار 320 افراد، 2016ءمیں 2 ہزار 127 افراد، 2017ءمیں 4 ہزار 925 افراد، 2018ءمیں 4 ہزار 452 افراد، 2019ءمیں 11 ہزار 119 افراد اور 2020ءمیں 7 ہزار 347 افراد کو ملک بدر کیا گیا۔

2015ءسے اب تک 1 ہزار 700 سے زائد پاکستانیوں کو امریکہ سے ملک بدر کیا گیا۔ 2015ءمیں 166 افراد، 2016ءمیں 212 افراد، 2017ءمیں 285 افراد، 2018ءمیں 293 افراد، 2019ءمیں 372 افراد اور گزشتہ سال 282 افراد کو ملک بدر کیا گیا۔

تھائی لینڈ نے گزشتہ 6 سال کے دوران 1 ہزار 563 پاکستانیوں کو ملک بدر کیا، قطر نے گزشتہ 6 سال میں 870 پاکستانی شہریوں کو ملک بدر کیا، یونان نے 6 ہزار 230 پاکستانیوں کو ملک بدر کیا۔ بھارت نے گزشتہ 6 سال کے دوران تقریباً 24 ہزار 324 پاکستانیوں کو ملک بدر کیا، جبکہ روس نے گزشتہ 6 سالوں کے دوران 564 غیر قانونی تارکین وطن پاکستانیوں کو سرحدی حکام کے حوالے کیا۔

بحرین نے گزشتہ 6 سال کے دوران تقریباً 1 ہزار 30 پاکستانیوں کو ملک بدر کیا۔ آسٹریلیا نے 203 پاکستانیوں کو مناسب دستاویزات نہ ہونے کی وجہ سے ملک بدر کیا، بنگلہ دیش نے 183 پاکستانیوں کو ملک بدر کیا، جنوبی افریقہ نے 3 ہزار 800 پاکستانیوں کو ملک بدر کیا، جنوبی کوریا نے 560 جبکہ افغانستان نے 13 پاکستانیوں کو ملک بدر کیا۔

آر ٹی آئی کے تحت حاصل کر دہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 6 سال کے دوران چین نے 350، آذربائیجان نے 200، کینیڈا نے 200، ہانگ کانگ نے 800 پاکستانیوں کو ملک بدر کیا۔

ایف آئی اے حکام کے مطابق مختلف ممالک خصوصاً سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی حکومتوں کی طرف سے اختیار کی جانیوالی نئی امیگریشن پالیسیوں نے تارکین وطن کےلئے پریشانی پیدا کر دی ہے۔ کچھ تارکین وطن عام طور پر اپنے ایجنٹوں یا انسانی اسمگلروں کے ذریعے تیار کردہ مشکوک دستاویزات کی بنیاد پر دوسرے ممالک میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے تھے جبکہ کچھ ایسے افراد بھی ملک بدر کئے گئے ہیں جنہوں نے میزبان ملک میں غیر قانونی طور پر قیام کو طول دینے کےلئے دستاویزات کو غلط طریقے سے استعمال کیا۔