خبریں/تبصرے

آئی ایم ایف کی غلامی قبول نہیں، تنخواہوں میں 10 فیصد اضافے سے مزددروں کا گزارا نہیں: علی وزیر کی بجٹ اجلاس میں تقریر

لاہور (جدوجہد رپورٹ) سات ماہ سے کراچی جیل میں مقید جنوبی وزیر ستان سے ممبر قومی اسمبلی علی وزیر پروڈکشن آرڈر جاری ہونے کے بعد بجٹ اجلاس میں شریک ہوئے اور آئندہ مالی سال کے بجٹ پر اظہار خیال کیا۔ انہوں نے اپنی تقریر کے دوران کہا کہ اس ملک میں غریب بے بس ہو چکے ہیں۔ ان کی زندگیاں تلخ ہو چکی ہیں۔ اشیائے خوردونوش کی مہنگائی میں 40 فیصد سے 200 فیصد اضافہ ہو چکا ہے جبکہ مزدوروں کی تنخواہ میں 10 فیصد اضافے سے مزدوروں کے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ حکومتی طے شدہ 20 سے 25 ہزار میں بھی معاملات زندگی طے نہیں پا سکتے۔

انہوں نے اپنے حلقہ کے مسائل پر بات کرتے ہوئے کہا کہ سابقہ فاٹا کے باسیوں کے ساتھ جو وعدے کیے گئے آج تین سالوں بعد ایک بھی پورا نہیں ہوا۔ وفاق اور صوبے کے حوالے سے آج بھی صرف کھوکھلے دعوے ہی کیے جارہے ہیں۔ جبکہ فاٹا مرجر کے وقت یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ یہاں بھی باقی اضلاع کی طرح بنیادی حقوق فراہم کیے جائیں گے۔

انہوں نے عالمی مالیاتی اداروں کی سامراجیت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ان اداروں نے ہر ملک میں مخصوص لوگوں کو گماشتہ رکھا ہوتا ہے۔ اور انہی گماشتوں کو نجات دہندہ کے طور ہر دکھایا جاتا ہے۔ یہاں بھی عالمی اداروں کے گماشتے لائے جاتے ہیں۔ یہاں پر فنانس کے تین وزرا تبدیل ہو چکے ہیں اور یہ چوتھا آ رہا ہے۔ لیکن آئی ایم ایف کی شرائط مسلسل بڑھتی جا رہی ہیں اور مزید کڑی ہوتی جا رہی ہیں۔ عام عوام کو کوئی ریلیف نہیں ملا۔ بلکہ اب آئی ایم ایف سکیورٹی معاملات میں بھی مداخلت کر رہا ہے۔ گزشتہ تینوں وزرا اس حکومت کا جنازہ قبر تک لے آئے ہیں اور اب حالیہ وزیر یا آئندہ اس حکومت کو ملکی اور عالمی پیمانے پر دفنانے کا موجب بنے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور عالمی سرمایہ دارانہ ممالک اور اداروں نے غریب ممالک میں سیاسی، معاشی اور مذہبی گماشتے رکھے ہوتے ہیں جن کے ذریعے وہ اپنا کنٹرول مضبوط بناتے ہیں۔ تاکہ عوام دشمن رجعت پسند نظام کو تحفظ مل سکے۔ ہم دن بدن پسماندگی کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ عالمی پیمانے پر آئے روز ہم پر پابندیاں سخت ہوتی جا رہی ہیں۔ آئی ایم ایف جیسے مالیاتی اداروں نے پاکستان کو سیاسی، معاشی اور سکیورٹی اعتبار سے یرغمال بنا رکھا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں سیاسی، معاشی اور سکیورٹی سمیت ہر اعتبار سے واضح پالیسی اپنانا ہو گی۔ ہم اپنے لوگوں کو حقائق سے آگاہ کرنا ہونا ہو گا۔ ہمیں ان لوگوں کو کٹہرے میں لانا ہوگا جنہوں نے ریاستی معاملات میں خفیہ معاہدے کیے ہیں۔ ہمیں انہیں سزائیں دینا ہوگی۔ اور تب تک ہم آئی ایم ایف جیسے سامراجی اداروں کے شکنجوں میں جکڑے رہیں گے اور ترقی کی جانب نہیں بڑھ سکیں گے۔ ہر دس سال بعد ہمارے ملک میں نیا ڈراما رچایا جاتا ہے۔ ہر دس سال بعد یہاں سکیورٹی کے معاملات خطرات سے دوچار ہو جاتے ہیں۔ ہر دس سال بعد نئی بیرونی پالیسی بنائی جاتی ہے۔ ہم کھل کر واضح پوزیشن لینا ہو گی۔ آج عالمی اداروں اور سرمایہ دارانہ ریاستوں کی مداخلت اس ملک کو اس نہج پر لا کھڑا کیا ہے کہ کوئی بھی واقعہ خانہ جنگی اور خونریزی کا موجب بن سکتا ہے۔

سینیٹر عثمان کاکڑ کے مبینہ قتل پر بات کرتے ہوئے علی وزیر نے کہا کہ عثمان کاکڑ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کتنا کوئی جھوٹ ہو سکتا ہے! آپ کتنا جھوٹ بولیں گے۔ آپ لوگوں کو مارتے جائیں، غائب کرتے جائیں، جو لوگ اپنی قوم اور اپنے لوگوں کی نمائندگی کرتے ہیں آپ ان کو بے دردی سے مارتے جائیں، یہ قابل قبول نہیں ہے۔ اسی طرح جانی خیل کا واقعہ ہے جہاں ہزاروں لوگوں نے دھرنا دیا اور عثمان کاکڑ کا جنازہ کراچی سے لیکر کوئٹہ تک پھیلا ہوا تھا لیکن ہمارے میڈیا کو ان کی کوریج کی فرصت تک نہ ہوئی۔

اسی دوران سپیکر قاسم سوری کی جانب سے علی وزیر کو تقریر مالیاتی بجٹ تک محدود رکھنے کو کہا گیا جس کے جواب میں علی وزیر نے کہا کہ یہ سب معاملات مالیاتی بل سے جڑے ہوئے ہیں۔ انہوں سوال اٹھائے کہ کیا ہم آئی ایم ایف سے آزاد ہیں؟ کیا ہم ورلڈ بینک سے آزاد ہیں؟ کیا ہم امریکہ سے آزاد ہیں؟ جنہوں نے بیرونی فنڈز اپنی جیبوں میں ڈالا ان کا کیا آپ نے؟ جنہوں نے آئین کے ساتھ غداریاں کیں ان کی جانب آپ کا رویہ کیا ہے؟ آپ ہمیں تو جیلوں میں ڈال سکتے ہو، ہماری ضمانتیں تو خارج کر سکتے ہو۔ لیکن ہم تو آج بھی جی رہے ہیں۔ ہم تو پلے بڑے ہی انہی حالات میں ہیں۔ ہم نے تو بچپن سے انہی حالات کا مقابلہ کیا ہے لیکن ان کا کیا ہو گا جنہوں نے تکلیف کے بغیر ساری زندگی آسائشوں میں گزاری۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ عثمان لالہ کی شہادت پر بننے والے جوڈیشل کمیشن کو یقینی بنایا جائے۔ جانی خیل دھرنے کے ساتھ جو مذاکرات کیے گئے ان کی تکمیل کی جائے اور آئندہ ایسے اندوہناک واقعات کا تدارک یقینی بنایا جائے۔ اور ہمسایہ ممالک سے متعلقپالیسی پر بننے والی پارلیمانی کمیٹی میں کھل کر واضح پوزیشن لی جانی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ہم آج پھر واضح کر رہے ہیں کہ ظالم و جابر کے خلاف اپنی لڑائی جا ری رکھیں گے پھر خواہ وہ حکومتی ادارے ہوں، امریکی سامراج ہو یا خطے میں رجعتی طاقتیں ہوں۔ جو اس خطے میں دہشت گردی اور خانہ جنگی پھیلانے کی کوشش کرے گا ہم اس کے خلاف کھڑے رہیں گے۔ ہم انسانیت کے دوست ہیں اور جبر کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھیں گے۔