تاریخ

ملک ہار دینے والا جرنیل (پہلی قسط)

طارق علی

مندرجہ ذیل اقتباس طارق علی کی کتاب ’دی ڈوئیل‘ (2008ء) سے لیا گیا ہے۔ اس کتاب کا ترجمہ فاروق سلہریا نے ’پرزے ہوئے پیماں کتنے‘ کے عنوان سے کیا۔

پاکستانی فوج اس بات پر فخر محسوس کرتی ہے کہ وہ ملک کو متحد رکھنے والی طاقت ہے اور اس کے بغیر پاکستان نہیں بچے گا۔ تاریخ البتہ یہ بتاتی ہے کہ حقیقت اس کے بالکل بر عکس ہے۔ مارچ 1969ء میں ایوب خان نے ملک کی باگ ڈور یحییٰ خان کے حوالے کر دی۔ یحییٰ خان نے سال کے اندر اندر انتخابات کرانے کا وعدہ کیا اور اس خوف کے پیشِ نظر کہ عوامی تحریک پھر شروع ہو سکتی ہے، وعدے کی پاسداری کی۔ پاکستانی تاریخ کی بھول بھلیوں میں بھٹکنے سے پہلے قارئین کی سہولت کے لئے مناسب ہو گا کہ پاکستانی فوج کے مقام اور کردار کا خلاصہ پیش کر دیا جائے۔

فوج کا یہ دعویٰ جو بہ تکرارپیش کیا جاتا ہے کہ اس کے کوئی ”سفلی مفادات“ نہیں، بے نقاب ہو چکا ہے۔ ایوب خان نے سیاست کی اور جاگیردار اشرافیہ کو اپنی جماعت مسلم لیگ میں شامل کیا۔ ایوب کا بیٹا فوجی چھتر چھایا تلے سیٹھ بنا اور اس نے معقول حدتک دولت جمع کی۔ پاکستان کو انگریز سرکار سے فوج اور نوکر شاہی کا جو کردار ”ورثے“ میں ملا اس کی حقیقت 68ء کی نسل کے سامنے آشکار ہو چکی تھی۔ پاکستان میں فوج کا کردار ہمہ تن اور انتہائی مرکزی تھا۔ ایشیا اور افریقہ میں موجود عہدِ حاضر کی فوجی آمریتوں سے قطعی مختلف۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران جنوب مشرقی ایشیا پر جاپانی حملے اور قبضے نے وقتی طور پر نوآبادیاتی حکومت کے کُہنہ ڈھانچے کو…اس ڈھانچے میں مقامی نمائندگی کبھی بھی خاطر خواہ نہ رہی تھی…برما، انڈونیشیا اور دیگر جگہوں پر توڑ ڈالا۔ جنگ کے بعد سامراجی طاقتوں کے پاس اس چیز کا امکان کم تھا کہ از سرِ نُو ان ڈھانچوں کو تشکیل دیتیں جبکہ بعد از آزادی تشکیل پانے والی فوج اور سول سروس کا ایک بڑا حصہ جاپا نی یا یورپی استعمار کے خلاف قومی آزادی کی تحریک میں حصہ لے چکا تھا۔

ادھر افریقہ میں نوآبادیاتی انتظامیہ میں خود نوآبادیاتی افرادی قوت اس قدر مووجود تھی کہ نوکر شاہی…اس سے بھی بڑھ کر فوج…کا ادارہ آزادی ملنے کے بعد نئے سرے سے تشکیل دینا پڑا۔ برصغیر پاک و ہند میں البتہ ان دونوں حالتوں سے مختلف صورتحال تھی۔ یہاں مقامی افراد پر مبنی، ایک بڑی نوکر شاہی لازمی ضرورت تھی کیونکہ اتنی بڑی آبادی کے انتظامی معاملات انگریز خود سے نہیں چلا سکتے تھے۔ اسی طرح انہیں بیک وقت ایک بڑی فوج کی بھی ضرورت تھی جس کے بعض چھوٹے اور کچھ بڑے افسر برصغیر کی جاگیردار اشرافیہ سے تعلق رکھتے تھے۔ لارڈ کرزن نے 1900ء میں جو ”میمورنڈم آن آرمی کمیشنز فار انڈینز“ پیش کیا اس میں درج تھا کہ مقامی افسران ”کا تعلق اشرافیہ یا بالا طبقے کی محدود سی پرت سے ہونا چاہئے…اور پیدائشی حسب نسب پیشِ نظر رہنا چاہئے“۔ ایسے افسر دستے ”جائز مقاصد کی ترویج اور ہندوستانی معاشرے کے بالائی طبقات، بالخصوص روایتی طبقہ امرا اور حکومت ِبرطانیہ کے مابین قریبی اور دوستانہ مراسم قائم کرنے میں مدد دیں گے“۔

مجموعی طور پر یہ حکمتِ عملی دوسری عالمی جنگ کے اختتام تک کامیاب رہی۔ ہندوستانی دستوں نے دونوں عالمی جنگوں میں بھی زبردست خدمات سر انجام دیں اور ملک کے اندر جبر کرنے میں بھی پیش پیش رہے۔ کسی اور نوآبادیاتی طاقت کے پاس اتنی بڑی فوج نہ تھی۔ اس کامیابی کی ایک وجہ ہندوستان کا کثیرالقومی کردار بھی تھاجس کے باعث برطانیہ کے لئے یہ ممکن تھا کہ وہ منتخب ”مارشل ریسز“…زیادہ تر پنجابی، سکھ، پٹھان، راجپوت، جاٹ اور ڈوگرے…میں سے لشکری بھرتی کر سکے جن پر سلطنت کی دیگر رعیت قومیتوں کو دبانے کے لئے انحصار کر سکے البتہ ہندوستان کی کانگرس نے 1920ء کی دہائی سے زبردست تحریکِ آزادی چلائی، دیہی علاقوں میں زبردست تنظیم سازی کی جس کے نتیجے میں برطانیہ کو اپنی نو آبادی سے اس وقت نکلنا پڑا جب دو سری عالمی جنگ نے اسے بری طرح کمزور کر دیا تھا۔ اس کے بعد کانگرس اس قابل ہو گئی کہ ریاست تعمیر کر سکے اور پارلیمانی نظام پر حاوی رہے جو ہندوستان کی آزادی سے لیکر آج تک مستقل طور پر قائم ہے۔

پاکستان میں صورتحال مختلف تھی۔ کانگرس کے مقابلے پر مسلم لیگ ہمیشہ ایک کمزورسی تنظیم رہی۔ اسکی بنیاد 1906ء میں مسلمان نوابوں اور شہزادوں نے رکھی تھی اور اس کا مقصد ”مسلمانانِ ہندمیں حکومتِ برطانیہ سے وفاداری کی سوچ کو فروغ دینا“ (لیگ کے منشور کے مطابق) تھا۔ تیس کی دہائی میں جناح کی قیادت میں تعلیم یافتہ مسلمان متوسط طبقے نے اسے اپنی گرفت میں لے لیا۔ ایک دور میں کانگرس سے بھی لیگ نے اتحاد کیا البتہ اس کا زور انگریز مخالفت کے بجائے ہندووں کی مخالفت پر صرف ہوتا۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران لیگ نے انگریز سرکار کے ساتھ تعاون کیا اور اس کے نتیجے میں 1947ء میں بغیر آزادی کی سنجیدہ جدوجہد کئے اسے ایک علیحدہ ریاست مل گئی۔ اس تبدیلی کا بندوبست بھی ریاستی سطح پر نوکر شاہی نے کیا جس کے پاس ابتدائی طور پر ہر طرح کا اختیار تھا۔ بہرحال ایک بار جب ایوب خان نے باگ ڈور سنبھال لی تو انہوں نے اپنے گردخوشامدیوں کا ایک گرو ہ جمع کر لیا اور کارپوریٹ فوجی حکومت کو ادارے کی شکل دینے کی بجائے ذاتی آمریت کو فروغ دیا۔ دس سال بعد ایوب آمریت اس قدر غیر مقبول ہو چکی تھی کہ اس کے خلاف ملکی تاریخ کی سب سے بڑی سماجی شورش نے جنم لیا۔ حکمران طبقے کے لئے یہ آمریت بے کار ہو چکی تھی لہٰذا جب اوائل 1969ء کے ہنگامہ خیز دور میں کہ جب عوام راولپنڈی، لاہور، کراچی، ڈھاکہ اور چٹاگانگ کی سڑکوں پر نکلے ہوئے تھے، مغربی اور مشرقی حصوں میں مسلسل ہڑتال اور بلوے جاری تھے، فوج نے آخر کار ایوب کو رخصت کیا اور سیاسی اموربراہِ راست اپنے ہاتھ میں لے لیے۔

یحییٰ خانی وقفہ اس تبدیلی کی نمائندگی کرتا تھا جو ریاست کے پیچیدہ ڈھانچے میں جنم لے رہی تھی۔ تبدیلی یہ تھی کہ طاقت سول نوکر شاہی کے ہاتھ سے نکل کر فوج کے پاس جا رہی تھی۔ قدرتی بات ہے کہ نوکر شاہی کااثر و رسوخ موجود رہا: ریاستی مشینری اور معیشت سے متعلقہ متنوع معاملات جنہیں فوجی سنبھالنے سے قاصر تھے، کلیدی بیوروکریٹ ہی نپٹاتے۔فوج البتہ اب سینئر پارٹنر تھی۔ 1971ء میں ہی پاکستانی فوج تین لاکھ افراد پر مشتمل تھی جن کی اکثریت ان پنجابی اور پٹھان کسان طبقوں سے تھی جو روایتی طور پر برطانوی فوج میں بھرتی ہوتے تھے۔ ان میں سے ستر ہزار بنگال میں تعینات کئے گئے۔ لیفٹیننٹ کرنل کے اہم عہدے اور اس سے اوپرکے عہدوں پر مبنی افسر طبقہ انتہائی چھان پھٹک کے بعد ترتیب دیا جاتا۔ ترقی دیتے وقت ان کے طبقاتی پس منظر اور سیاسی نظریات کو مدِ نظر رکھا جاتا۔ پاکستانی فوج کے جرنیل، بریگیڈئیر اور کرنل عموماً جاگیردار گھرانوں کی اولاد (عموماً منجھلے بیٹے) یا پنجاب اور سرحد کی اشرافیہ سے تعلق رکھتے تھے۔ گجرات اور حیدر آباد سے آئے امیر مہاجروں کی اولاد بھی کہیں کہیں موجود تھی۔ بے عیب سماجی وثیقے اور لب و لہجہ، جس سے اہلِ مغرب بہت متاثر ہوتے، ان کے ماضی کا پتہ دیتے۔ سامراجی ریکروٹ کے طور پر ان کی تربیت ڈیرہ دون میں ہوئی یا سینڈ ہرسٹ میں۔ بنگال میں وہی دستے جبر کر رہے تھے جنہوں نے کبھی جنرل گریسی کی قیادت میں ویت نام کے اندر اپنے ہنر آزمائے تھے۔ جنرل ٹکا خان جنہیں بعد میں بُچر آف بنگال کا لقب ملا، شمالی افریقہ میں منٹگمری کی فوجی مہم میں حصہ لے چکے تھے۔ دسمبر 71ء میں بھارت کے ساتھ ہتھیار ڈالنے کے معاہدے پر دستخط کرنے والے جنرل ”ٹائیگر“ نیازی نے اپنی خود نوشت میں فخر کے ساتھ لکھا کہ ٹائیگر کاخطاب ”دوسری عالمی جنگ کے دوران برما کے محاذ پر میری جرأت مندی کی وجہ سے کمانڈر 161 انفنٹری بریگیڈ، بریگیڈئیر وارن نے دیا تھا“۔

یہ تھی صورتحال جب پاکستان کی فوج نے اپنے ہی مشرقی بازو پر حملہ کیا۔

طارق علی بائیں بازو کے نامور دانشور، لکھاری، تاریخ دان اور سیاسی کارکن ہیں۔