تاریخ

ملک ہار دینے والا جرنیل (چوتھی قسط)

طارق علی

مندرجہ ذیل اقتباس طارق علی کی کتاب ’دی ڈوئیل‘ (2008ء) سے لیا گیا ہے۔ اس کتاب کا ترجمہ فاروق سلہریا نے ’پرزے ہوئے پیماں کتنے‘ کے عنوان سے کیا۔

پاکستانی فوج اور نوکر شاہی کو مغربی پاکستان کے سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کی جانب سے ہمیشہ نسبتاً آزادی ملی رہی۔ اس کی متضاد صورتحال کبھی نہیں پائی گئی۔ ثانی الذکر کا ریاست پر حاوی فوجی۔ بیوروکریٹک کمپلیکس پر زبردست انحصار تھا۔ 1968-69ء کی عوامی تحریک نے اس عمل کو تیز کر دیا۔ مغربی پاکستان کی اشرافیہ کا یہ احساس شدت کے ساتھ گہرا ہوتا گیا کہ اس کا انحصار مستقل فوجی بیوروکریٹک ریاستی مشینری پر ہے لہٰذا فوج اور اس کا اتحاد جبر کا کردار ادا کرنے والے ادارے کے طور پر ہی نہیں سیاسی سد ِراہ کے لئے بھی ضروری تھا۔ عوامی لیگ کے چھ نکات مغربی پاکستان کی اشرافیہ کی حکومت کو ایک آنکھ نہ بھائے تھے لہٰذا اس بات کی سمجھ آتی ہے کہ عوامی لیگ سے سمجھوتہ کیوں نہ ہو سکا، مشرقی پاکستان کے خلاف فوجی اقدام اس قدر بے رحم کیوں تھا اور پچیس مارچ کو ہونے والی فوجی بغاوت کی مغربی پاکستان کے حکمران طبقے نے متفقہ طور پر حمایت کیوں کی۔ یہ وجہ بھی سمجھ میں آ جاتی ہے کہ امریکہ اور اس کے نائب، برطانیہ نے فوجی حکومت سے وفاداری کیوں نبھائی حالانکہ اس نے بنگال میں ”استحکام“ کو داؤ پر لگا دیا۔

امریکہ نے پاکستانی آمریت کو ”اعتدال“ کا راستہ اپنانے کی تاکید کی مگر اس کے ہاتھ مضبوط کرنے کا کام بھی جاری رکھا۔ کچھ ایسے ناقد تھے جو پاکستانی فوج کی تنگ نظر قوم پرست انا پرستی کے ہاتھوں امریکہ کے عالمگیر مفادات کو لاحق خطرات کی بات کر رہے تھے۔ وہ اس بات پر بھی پشیمان تھے کہ مشرقی پاکستان میں شکست کا اثر پاکستانی فوج کے کمانڈ سٹرکچر کو بھی متاثر کر سکتا ہے جو ابھی تک بہت ٹھوس بنیادوں پر قائم چلا آ رہا تھا۔

برطانوی روایات کی پاسداری میں سینئر افسران نے اب تک فوجی نظام و مراتب کا خیال رکھا تھا۔ 1958ء اور 1968ء میں جب ایوب اور یحییٰ نے بالترتیب اقتدار پر قبضہ کیا تو وہ فوج کے سالارِ اعلیٰ تھے اور دونوں نے ایک طرح سے سرکاری حیثیت میں اپنا کام کیا۔ خلیجِ وسطیٰ یا لاطینی امریکہ کی طرح اگر ترقی پسند جرنیلوں یا کرنیلوں نے بغاوت کی ہوتی تو یہ سنجیدہ روایت شکنی ہوتی۔ ایک ایسی ہی صورتحال پر اس وقت قابو پا لیا گیا جودسمبر 1971ء میں ہونے والی شکستِ فاش کے بعد سامنے آ سکتی تھی جب ملک کے حالات انتہائی دگرگوں تھے جبکہ چھوٹے افسر اپنی اعلیٰ قیادت کی نا اہلی کے باعث بے چین۔

مشرقی پاکستان میں جنگ نے پاکستانی معیشت کو بری طرح متاثر کیا جو 1968ء سے ویسے بھی مندی کا شکار تھی۔ زرِ مبادلہ کے ذخائر بالکل کم ہو کر رہ گئے جبکہ قیمتوں اور بے روزگاری میں بے تحاشا اضافہ ہو گیا۔ پٹ سن کی برآمد قدرتی بات ہے کہ کم ہو گئی جس کا اثر کراچی کے اسٹاک ایکسچینج پر پڑا۔ یہ گمبھیر اقتصادی بحران یقینا بنگال میں فو ج کشی کے باعث پیدا ہوا۔ اخباری اطلاعات کے مطابق اس فوجی مہم پر روزانہ دو ملین ڈالر (آج کے لحاظ سے چالیس ملین ڈالر) صرف ہو رہے تھے جو اس حقیقت کے پیشِ نظر زبردست بوجھ تھا کہ مغربی پاکستان کا دائمی درآمدی خسارہ 140 ملین ڈالر (آج یہ رقم 2.8 ارب ڈالر کے برابر ہو گی)ماہانہ چلا آ رہا تھا۔ اسلام آباد کی غیرقانونی حکومت لہٰذا اندرونی طور پر اس تنگی کا شکار تھی جس کا علاج اس نے قتلِ عام کی مہم شروع کرنے سے پہلے نہیں سوچا تھا۔ اس نے یکطرفہ طور پر غیر ملکی قرضہ جات کی ادائیگی روک دی اور مکمل دیوالیہ ہونے سے بچنے کے لئے اسے مزید امریکی امداد کا سہارا لینا پڑا۔

دیگر محاذوں پر مزید خطرات منڈلا رہے تھے۔ اندرا گاندھی کی قیادت میں قائم بھارتی حکومت کو جلد ہی سمجھ آ گئی کہ مشرقی پاکستان میں اگر جدوجہد زیادہ عرصہ جاری رہی تو بھارتی صوبے مغربی بنگال پر اس کے سنجیدہ انداز میں منفی اثرات مرتب ہو ں گے۔ مغربی بنگال گذشتہ تین سال سے زبردست سماجی بحران کا شکار تھا۔ کسان بغاوتوں اور عمومی سماجی بے چینی نے اس صوبے کو بارود کا ڈھیر بنا کر رکھ دیا تھا۔ بھارتی حکمران طبقہ گو اپنے پاکستانی ہم منصب کی نسبت کہیں طاقتور تھا، بہرحال بخوبی جانتا تھا کہ وبا پھیل سکتی ہے لہٰذا پشیمان تھا۔ اس تحریر کا مطالعہ کرنے والے بہت سے لوگ شائد حیران ہوں کہ اقتدار میں بیٹھے لوگ کبھی واقعی ”سرخ انقلاب“ کے خطرے سے دوچار تھے مگر ایسا ہی تھا۔ کمیونسٹ پارٹی (مارکس وادی) اور اس کے بائیں جانب موجود ماؤ نواز گروہ یکے بعد دیگرے آنے والی بھارتی حکومتوں کے لئے مسلسل دردِ سر بنے ہوئے تھے۔

یہ وجہ تھی کہ اندرا گاندھی نے مشرقی پاکستان میں ہونے والے واقعات پر مقبولِ عام ردِ عمل ظاہر کیا۔ نئی دہلی میں موجود حزبِ اختلاف کی ہر جماعت حکومت پر زور دے رہی تھی کہ وہ بھر پور طریقے سے مداخلت کرے۔ اندرا گاندھی کی حکمتِ عملی البتہ یہ تھی کہ عوامی لیگ کو پروان چڑھایا جائے جبکہ سرحد پار کر کے آنے والے گوریلوں کو غیر مسلح کیا جائے اور بھارت میں قائم نام نہاد ”تربیتی کیمپوں“ پر سخت سیاسی کنٹرول قائم کیا جائے۔ گو بھارت کی فوجی طاقت کئی گنازیادہ تھی لیکن ابتداً بھارت مشرقی پاکستان میں مداخلت کے امکان پر خائف تھا۔ اس سے امریکہ اور چین نااراض ہو سکتے تھے اور یوں پورا خطہ ایسی گڑ بڑکا شکار ہو سکتا تھا جو نئی دہلی کو خطرہ تھا کہ اس کے قابو سے باہر ہو سکتی تھی۔ اگر عوامی لیگ ایسی کوئی کامیابی حاصل کر بھی لیتی جسے اندرا گاندھی ”سیکولر، جمہوری ریاست“ کہہ رہی تھیں تو بھی مقامی اشرافیہ کی کمزوری اور ترقی یافتہ ریاستی ڈھانچے کی عدم موجودگی کے باعث ایسے مسائل جنم لیتے کہ کسی برق رفتار انقلابی حل کے بغیر بات نہ بن پاتی۔

ان دنوں (آج کی طرح) مغربی بنگال کے اندر موثر ترین سیاسی قوت کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکس وادی) تھی جس کے کارکنوں کی تعداد ہزاروں اور حمایتیوں کی تعداد لاکھوں میں تھی۔ اس پارٹی کے سنٹر اسٹ رجحانات اس وقت بھی نمایاں تھے اور اس کا اظہار یہ تھا کہ اس نے مخلوط حکومت تشکیل دی البتہ جب گورنر راج نافذ ہونے کے بعد مرکز نے معاملات اپنے ہاتھ میں لے لئے تو اس نے انقلابی بیان بازی کا سہارا لیا۔ اس کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ یحییٰ خان اور اندرا گاندھی ایک جیسی رجعتی سماجی و سیاسی پرتوں کی نمائندگی کرتے ہیں جو کسی حد تک زیادتی تھی۔ان کی دلیل تھی جس طرح مشرقی پاکستان بالخصوص مغربی پاکستان کے استحصال کا شکار ہے، اسی طرح ”مغربی بنگال بالخصوص بھارتی دارلحکومت کے استحصال کا شکار ہے“ اس کا منطقی نتیجہ تو یہی نکلتاتھا کہ متحدہ سوشلسٹ بنگال کے لئے حکمتِ عملی ترتیب دی جاتی مگر ان خطوط پر سوچنے کا مطلب تھا کہ ماضی سے دامن چھڑایا جائے اور سی پی آئی ایم ایسا کرنے سے قاصر رہی۔ شائد یہ کوئی یوٹوپیائی خیال تھا یا میری کوئی انقلابی حس جس نے بعدازاں مجھے مجبور کیا کہ میں سی پی آئی ایم سے ماورا متحدہ سوشلسٹ جمہوریہ بنگال کا مطالبہ پیش کروں۔ مجھے ”بائیں بازو کا انتہا پسند مہم جو“ کہا گیا۔ اب جو مڑ کر دیکھتا ہوں تو یہ الزام شائد کسی حد تک درست بھی تھا۔ اس وقت یہ مطالبہ فوجی آمریت، سمجھوتے باز سیاستدانوں اور رذیل سیٹھوں کا بہترین توڑ دکھائی دیتا تھا۔

یہ ایک ”بائیں بازو کا انتہاپسندانہ مہم جو“ تھاکہ 1971ء کی ایک تاریک رات میں ہندو بنئے کے بھیس میں کلکتہ پہنچا۔ میرا مقصد محاذِ جنگ سے آئے ایک پیامبر سے ملاقات اور اس کے ہمراہ سرحد پار جا کر بنگالی مزاحمت سے براہِ راست رابطہ کرنا تھا۔ میں نے زندگی میں پہلی اور آخری بار اپنی مونچھیں صاف کر ڈالیں اور میں خود بھی اپنے آپ کو پہچان نہیں پا رہا تھا۔ میں ایک جعلی برطانوی پاسپورٹ پر سفر کر رہا تھا جو ایک زمانے میں لندن کے ایسٹ اینڈ میں واقع برِک لین کے رہائشی، ایک بنگالی تاجرمطیب ٹھاکر کا تھا۔ معلوم نہیں وہ کون تھا مگر اس نے بنگالی جدوجہد کی مدد کرنے کے لئے وہ پاسپورٹ میرے حوالے کر دیا تھا۔ میں ہنوز پاکستانی شہر ی تھا اور جانتا تھا کہ ان دنوں، اور آجکل بھی، پاکستانی پاسپورٹ اکثر ممالک بالخصوص بھارت میں داخلہ التوا میں ڈال سکتا ہے۔ کسی نامعلوم وجہ سے فرانسیسی کامریڈ سوفی نے پیرس میں میرے بال اور بھنویں سرخ رنگ میں رنگ دی تھیں اور جب میں آئینہ دیکھتا تو ہالی ووڈ کے کسی سیرئیل کلر ایسا دکھائی دیتا۔ میرے پاس ایک پستول تھا جو آئی آر اے نے اس سفر کے لئے بلاواسطہ تحفے میں دیا تھا۔ میں نے یہ پستول اور کچھ بارود اپنے سوٹ کیس میں ڈال لیا۔

بمبئی کے ہوائی اڈے پر امیگریشن افسر نے روایتی سوالات پوچھے: ”آپ کے والد کا نام؟“۔ میں نے کلکتہ میں ٹھاکر کے گھر کا پتہ تو یاد کر رکھا تھا مگر احمقانہ طور پر اس سوال کے جواب پر غور نہیں کیا تھا۔ میں گھبرا گیا۔ میرے منہ سے نکلا ”محمد“۔ امیگریشن افسر کو دھچکا سا لگا مگر اس سے قبل کہ وہ کچھ کہتا، ایک بزرگ، بھاری بھر کم، پارسی خاتون جو عین میرے پیچھے کھڑی تھیں، اس بات سے بہت متاثر ہوئیں کہ ایک ہندو لڑکے کے باپ کا اسلامی نام تھا لہٰذا انہوں نے ”ہاؤ سویٹ“ کہا تو صورتحال سنبھل گئی کہ سب لوگ مسکرانے لگے، میرے کاغذات پر مہر لگا دی گئی اور کسٹم نے میرے سوٹ کیس کی تلاشی لینے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ میں اس مصمم ارادے کے ساتھ آیا تھا کہ سرحد پار جا کر عبدامتین اور ٹیپو بسواس کے گوریلا گروہ سے رابطہ پیدا کروں گا جو بنگالی بائیں بازو کا سب ے زیادہ تائیدی، گویراوادی دھڑا تھا۔ ان کے ایک ہمدرد نے چے گویرا کی ”گوریلا وارفیئر“ کا بنگالی ترجمہ بھی کیا تھاجسے اب مکتی باہنی کے سپاہی بھی پڑھ رہے تھے جو سرکاری طور پر لبریشن آرمی تھی جس میں سابق بنگالی سپاہی اور پاکستانی فوج کے سابق بنگالی افسر بھی شامل تھے۔ متین اور بسواس کے جنگجو پبنہ کے علاقے میں سر گرم تھے جو گنگا اور برہم پترا کے درمیان بنگال کے قلب میں واقع تھا۔ اس کے علاوہ وہ صوبے کے شمال مشرقی ضلعوں، سلہٹ اور میمن سنگھ میں بھی متحرک تھے۔ میمن سنگھ میں 1945-47ء کے دوران تیباگا نامی بڑی کسان بغاوت دیکھنے میں آئی تھی جب کسان مالیئے میں کمی کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے۔

برصغیر میں یہ دیہی غریبوں کی سب سے جنگجو سماجی بغاوت تھی۔ یہ روایت ہنوز موجود تھی۔ بنگالی گوریلوں کا بھیجا ہوا پیامبر مجھے کلکتہ میں ملا۔ اس کی عمر اٹھارہ سال سے زائد نہ ہو گی مگر اس کا اعتماد اور منصب اس کی کم عمری کے بر عکس تھا۔ اس نے مجھے بہت متاثر کیا۔ اس نے مجھے بتایا کہ مزاحمت پھیل رہی ہے، وقت کے ساتھ ساتھ اس میں بلوغت آ رہی ہے اور مزاحمت کاروں نے چٹاگانگ اور کھلنا کے ساحلی شہروں کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے جس کے نتیجے میں بین الاضلاعی تجارت ختم ہو کر رہ گئی ہے۔ ”جلد ہی ہم سانتا کلارہ پر قبضہ کرنے والے ہیں، پھر ہوانا کی باری ہے“، اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔ اپنی شناخت کے اظہار کا اس نے اگر کوئی عندیہ دیاتو یہی تھا۔ ان دنوں مزاحمت میں مشغول گروہوں کے تنوع کے پیشِ نظر بہتر تھا کہ سیاسی الحاق بارے زیادہ پوچھ گچھ نہ کی جائے بالخصوص اگر کوئی مغربی پاکستان سے تعلق رکھنے والا پنجابی تھا اسے اس سے باز ہی رہنا چاہئے تھا۔ اسے ہدایت ملی تھی کہ مجھے سرحد پارپہنچا دے جہاں سے دیگر لوگ مجھے آگے لے جانے کے ذمہ دار تھے۔ اس کا اصرار تھا کہ ہم کوئی اسلحہ ساتھ لیکر مت جائیں کہ بھارتی بارڈر پولیس تلاشی لے سکتی ہے۔ نہ چاہتے ہوئے بھی میں نے اپنا پستو ل پیچھے چھوڑ دیا۔ سرحد کی جانب جاتے ہوئے ہمیں سڑک پر جا بجا رکاوٹوں اوربھارتی فوج کے دستوں اور ٹینکوں کی نقل و حرکت بارے سائن بورڈز نظر آئے۔ سرحد بند کی جا رہی تھی۔ ہمیں سیاسی کارکنوں کی طرف سے تنبیہہ ملی کہ اس جانب سے سرحد پار جانا نا ممکن ہے۔ اب اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ مشن ختم کر دیا جائے۔ پیامبر اس موقع پر پُرسکون ہی رہا۔ اس نے مجھے واپس کلکتہ کے ایک محفوظ مقام پر پہنچایا اور خود لوٹ گیا۔

مجھے اس کا صحیح نام معلوم نہیں ہو سکا۔ چند سال بعد ایک بنگالی دوست نے بتایا کہ اس کا انتقال ہو چکا ہے۔ کلکتہ کے وسط میں شکستہ مگر ماحول کے اعتبار سے انگریز دور کی یادگار، گریٹ ایسٹرن میں ایک روز ناشتے کی میز پر میں دوستوں سے گپ شپ کر رہا تھا کہ ٹائمز کے انگریز نامہ نگار پیٹر ہیزل ہرسٹ نے قریب آ کر مجھے گھورنا شروع کر دیا۔ میں نے اوپر دیکھا، یوں ظاہر کیا کہ میں اسے نہیں جانتا اور دوسری طرف دیکھنا شروع کر دیا۔ اس نے اصرار کیا کہ وہ میری آواز پہچان چکا ہے، مجھے کامیابی سے بھیس بدلنے پر مبارک باد دی اور دھمکی لگائی کہ وہ میری موجودگی کا بھانڈا پھوڑ دے گا اگر میں نے اسے اس بابت خصوصی انٹرویو نہ دیا کہ میں وہاں کیا کر رہا ہوں۔ میں جال میں پھنس چکا تھا لہٰذا میں انٹرویو پر راضی ہو گیا۔ بعد ازاں اس نے مجھے بچ نکلنے کے لئے چوبیس گھنٹے دیئے اور پیچھا کرنے والوں سے نجات کے لئے اس نے لکھا کہ میں نے بہت بڑی داڑھی رکھی ہوئی ہے اور دلی کی طرف جا رہا ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ میں سیدھا ہوائی اڈے پہنچا اور لندن کے لئے روانہ ہونے والی پہلی پرواز پر سوار ہو گیا۔ اپنے انٹرویو میں میں نے ایک متحدہ سرخ بنگال کی خواہش کا اظہار کیا جو پورے خطے کے لئے روشنی کا مینار ہو، جو ایسی چنگاری ہو جو سارے جنگل میں آگ لگا دے۔ ان دنوں الفاظ سامنے ہاتھ باندھے کھڑے رہتے تھے۔ ہیزل ہرسٹ نے اس بات سے اتفاق کیا کہ سرخ بنگال اسلام آباد سے بھی زیادہ دلی کے لئے پریشانی کا باعث بنے گا۔ ہیزل ہرسٹ نے میری بات بالکل درست رپورٹ کی جو اس زمانے میں منفرد بات تھی۔ ان آوارہ سوچوں نے گویا بھڑوں کے چھتے کو چھیڑ دیا۔

ماؤ نواز گروہوں نے تو بالخصوص اس بات کو ”پیٹی بورژوا قوم پرست ترمیم“ قرار دیا۔ متحدہ سرخ بنگال کے امکان کوواشنگٹن بھی پشیمانی سے دیکھ رہا تھاجس کاخیال تھا کہ سرخ بنگال جنوبی ایشیا کی ویتنامائزیشن کا باعث بن سکتا ہے۔ اس بات کا ثبوت وہ حیران کن اداریہ ہے، جسے دیکھ کر مجھے تو بہر حال خاصی خوشی ہوئی، جو نیو یارک ٹائمز میں شائع ہوا۔

”برصغیرپاک و ہند میں افراتفری بارے مسٹر علی کے ترقی پسندانہ وژن کو آسانی سے جھٹلانا ممکن نہیں…مشرقی پاکستان میں طویل گوریلا جدوجہد کا اثر پڑوسی بھارتی ریاست مغربی بنگال پر پڑے گا جو پہلے ہی پاکستانی فوج کی دہشت گرد مہم سے پناہ حاصل کرنیوالے تیس لاکھ سے زائد مہاجروں کا بوجھ اٹھانے کی وجہ سے مضمحل ہے۔ وزیر اعظم اندرا گاندھی پر زبردست دباؤ ہے کہ وہ بھارت کے اندرونی امن اور سلامتی کو لاحق خطرات سے نپٹنے کے لئے مداخلت کریں۔ یقینا یہ بات کسی کے بھی مفاد میں نہیں کہ بنگالی ”شعلہ“ ایک ایسے عالمی تنازعے کو جنم دیدے جو تیزی سے بڑی طاقتوں کو ملوث کر لے۔ نہ ہی یہ عقل مندی کا تقاضا ہے کہ مشرقی پاکستان کی صورتحال کا مداوا نہ کیا جائے مبادا سارا برصغیر سیاسی انتشار کا شکار ہو جائے۔ طارق علی اور ان جیسوں کو ”سنہری موقع“ سے فائدہ اٹھانے سے روکنا ہے تو صدر یحییٰ خان کو چاہئے کہ وہ جلد از جلداعتدال پسند شیخ مجیب اورعوامی لیگ کے ساتھ معاملہ طے کریں جس نے پچھلے سال دسمبر میں قومی و صوبائی انتخابات بھاری اکثریت سے جیتے ہیں۔ پاکستان کے لئے امریکی امداد، ماسوائے ریلیف کے، مشرقی پاکستان کی منتخب قیادت کے ساتھ ایسے کسی سمجھوتے سے مشروط ہونی چاہئے“۔

یحییٰ خان اس کھیل سے اب باہر ہو چکے تھے۔ یہ بھارت کی وزیر اعظم مسز گاندھی تھیں جنہوں نے ہمیں ہمارے ”سنہری موقع“ سے محروم کیا۔ نئی دہلی پر واضح ہو چکا تھا کہ پاکستانی فوج صوبے پر زیادہ عرصہ تک قابو نہیں رکھ سکے گی اور اگر گوریلا جنگ جاری رہی تو عوامی لیگ کی قیادت زیادہ ترقی پسند عناصر کے ہاتھوں پٹ سکتی ہے لہٰذا 3 دسمبر 1971ء کو بھارتی فوج نے مشرقی پاکستان کی سرحد پار کی، بھارتی دستوں کو نجات دہندہ کے طور پر خوش آمدید کہا گیا، مقامی لوگوں نے بھارتی فوج کی ہر طرح سے مدد کی اور اس نے ڈھاکہ کی جانب پیش قدمی شروع کر دی۔ دو ہفتے کے اندر اندر بھارتی فوج نے ”ٹائیگر“ نیازی کو مجبور کر دیا کہ وہ اور انکی فوج ہتھیار ڈال دے۔ پاکستان اپنی نصف بحریہ، ایک چوتھائی فضائیہ اور لگ بھگ ایک تہائی بری فوج کھو بیٹھا۔ مکمل شکست ہوئی تھی۔ چند ہفتے بعد شیخ مجیب کو ایک پاکستانی قید خانے سے رہا کر دیا گیا اور براستہ لندن، ڈھاکہ روانہ کر دیا گیا۔ واشنگٹن کو خطرہ تھا کہ شیخ مجیب کی عدم موجودگی گڑ بڑ کو جنم دے سکتی ہے لہٰذا اس نے پاکستان پر شیخ مجیب کی جلد رہائی کے لئے دباؤ ڈالا۔ شکست خوردہ قیادت کے پاس سوائے حکم کی بجا آوری کے کوئی اور رستہ نہ تھا۔ مشرقی پاکستان اب سات کروڑ افراد کا ملک بنگلہ دیش بن چکا تھا۔ چند ہفتے بعد بھارتی فوج ملک سے نکل گئی اور نئے ڈھانچے کی تشکیل کا کام نئی ریاست پرڈال گئی۔

نومبر 1970ء میں، پاکستانی فوج کے حملے سے ایک سال قبل، جس سمندری طوفان نے مشرقی پاکستان کو نشانہ بنایا اس میں لگ بھگ پانچ لاکھ افراد ہلاک ہوئے۔ فطرت جنگ کی نسبت مہربان ثابت ہوئی۔ شیخ مجیب کا اصرار تھا کہ تیس لاکھ افراد جنگ میں کام آئے۔ پاکستانی فوج نے ان اعداد و شمار پر شک کا اظہار کیا مگر خود سے بھی کوئی اعداد و شمار پیش نہیں کئے۔ محکمہ خارجہ کے ایک اعلیٰ بزر جمہر نے، غالباً امریکی انٹیلی جنس کی معلومات کا سہارا لیتے ہوئے لکھا ”مارچ تا دسمبر (1971ء) دس لاکھ افراد ہلاک ہوئے۔ چالیس لاکھ خاندان…دو کروڑ افراد…بظاہر بے گھر ہوئے جن میں سے نصف نے بھارت میں پناہ لی۔ دس لاکھ سے لیکر بیس لاکھ تک گھر جلائے گئے“۔

یہ دل دہلا دینے والے اعداد و شمار ہیں جن کے سامنے تقسیم ہند کے دوران یا بنگال میں پڑنے والے 1943ء کے عظیم قحط کے دوران ہلاک ہونے والوں کی تعداد بھی کم پڑ جاتی ہے۔

پہلی، دوسری اور تیسری قسط

طارق علی بائیں بازو کے نامور دانشور، لکھاری، تاریخ دان اور سیاسی کارکن ہیں۔