تاریخ

ملک ہار دینے والا جرنیل (آخری قسط)

طارق علی

مندرجہ ذیل اقتباس طارق علی کی کتاب ’دی ڈوئیل‘ (2008ء) سے لیا گیا ہے۔ اس کتاب کا ترجمہ فاروق سلہریا نے ’پرزے ہوئے پیماں کتنے‘ کے عنوان سے کیا۔

ساٹھ کی دہائی میں جنرل اے۔ او۔ مٹھا نے امریکی فوج کی مدد سے سپیشل سروسز گروپ (ایس ایس جی) تشکیل دیا تھا۔ اس کا مقصد تھا دشمن(بھارت) کی صفوں کے عقب میں خصوصی مشن سر انجام دینا۔ اس کے کمانڈو مارچ 1971ء سے کہیں پہلے مشرقی پاکستان بھیج دئے گئے تھے۔ اپنی خود نوشت میں جنرل مٹھا بتاتے ہیں کہ ایک نوجوان افسر کے طور پر جب وہ کلکتہ میں تعینات تھے تو انہوں نے قحط کے مارے لوگوں کو کس برے حال میں دیکھا۔یہی جرنیل جب جنگی مشین کا حصہ بنا تو اس نے خون کی ہولی کھیلنے کی ذمہ داری سیاستدانوں پر ڈال دی اور جرنیلوں کو بری الذمہ قرار دیدیا۔

ادھر اسلام آباد میں جنرل حمید جن کے ذمے جنگ لڑناتھا،نے تمام افسروں کو جی ایچ کیو میں جمع کیا اور اپنی اعلیٰ قیادت کی جانب سے ان سے خطاب کیاجس میں ہتھیار ڈالنے اورآدھا ملک کھو دینے کی بابت وضاحت کی گئی۔تیس سال بعد، جنرل مٹھا، جن کے خیال میں یہ اجلاس بلانا ایک غلطی تھی مگر انہیں اس میں شریک ہونا پڑا، بتاتے ہیں کہ جب جنرل حمید نے سوالات کرنے کی دعوت دی تو کیا منظر تھا:

”ایک طوفان کھڑا ہو گیا۔ میجر، کرنل اور بریگیڈئیر حضرات نے جنرل حمید پر چیخنا چلانا شروع کر دیا اور جنرل یحییٰ سمیت ان دونوں کو گالیاں دیں۔ان کی چیخ و پکار کا لبِ لباب یہ تھا کہ شکست کی وجہ تمام اعلیٰ افسروں کا زیادہ سے زیادہ زمین اور پلاٹ الاٹ کرانے کے چکر میں پڑے رہنا تھا۔۔۔۔۔حمید نے ان لوگوں کا غصہ ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی مگر کوئی بھی جنرل حمید کی بات سننے پر تیار نہ تھا لہٰذا وہ اجلاس سے واک آؤٹ کر گئے“۔

جنرل گل حسن بھی اس اجلاس میں موجود تھے،انہوں نے اپنی خود نوشت میں لکھا”مجھے کسی حد تک یاد ہے کہ ایک مطالبہ جو مسلسل کیا جا رہا تھاوہ تھا تمام افسر میسوں میں شراب پر پابندی“۔

انہیں یقین تھا کہ فوج میں موجود سازشیوں کا ایک گروہ ایس ایس جی کو استعمال کرتے ہوئے بھٹو کی نیویارک سے، جہاں وہ سلامتی کونسل سے خطاب کے لئے گئے تھے، اسلام آباد واپسی پر گرفتاری یا قتل کا منصوبہ بنا رہا تھا۔ گل حسن کے مطابق:

”مجھے نہیں معلوم راولپنڈی میں ایس ایس جی سے کیا کام لینے کی تیاری کی جا رہی تھی مگر ایک بات میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ کام ایس ایس جی کا نہ تھا کہ وہ بھٹو کو ہوائی اڈے پر سلامی پیش کرے۔ اگر یہ ڈرامہ کامیاب ہو جاتا تو یہ ڈھاکہ میں ہمارے فوجی اقدام کی نقالی ہوتا۔ مجھے نہیں معلوم کہ صدر یحییٰ خان اس کھیل کا حصہ تھے یا نہیں۔ جنرل مٹھا، اپنے قوی الاثر اختیارات کے باعث اس قسم کے منصوبے کو حرکت میں لانے کے حوالے سے اولین انتخاب ہو سکتے تھے۔۔۔۔فوج کا ڈسپلن تباہ ہونے کے قریب تھا اور انارکی کی بدبو فضاؤں کو مکدر کر رہی تھی۔۔۔۔ایس ایس جی کی ایک کمپنی کو ایک ایسے کردا رکے لئے تیار کرنا جو کسی بھی طورسامرانہ نہیں تھا، گویا ایک ایسی حرکت تھی کہ اگر اس پر عمل درآمد ہو جاتا تو ملک کا خاتمہ ہو جاتا۔“

جنرل مٹھا نے اپنی خود نوشت میں ایسے کسی منصوبے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ جنرل گل حسن بھٹو کی قرم ساقی کر رہے تھی اور ”جھوٹ بول رہے تھے“۔ ایک بات جس کی وہ دونوں تردید نہیں کر سکے یہ تھی کہ ان کے عیش پرست صدر یحییٰ خان نے ہمالیہ ایسی سیاسی و فوجی شکست کی کمان کی ہے۔ جب یحییٰ خان پرانی ریاست کے انہدام کی تکمیل کرچکے تو ان سے اقتدار سے دستبرداری کا مطالبہ کیا گیا۔ان کا دورِ اقتدارتین سال سے بھی کم تھا۔ اس نقصان بارے اعلیٰ عسکری قیادت میں بحث آج بھی جاری ہے اور اس تنازعے بارے ایک انتہا پسندانہ موقف یہ ہے کہ یہ سب بھارت کا کیا دھرا تھا اور پاکستان اس کا بدلہ کشمیر میں لے گا بشرطیکہ اسے افغانستان کی صورت ”سٹریٹیجک ڈیپتھ“ میسر آ جائے۔اس قسم کے نیم حکیمانہ نظریات کی بنیاد پر لئے گئے اقدامات کا نتیجہ ایک نئے 1971 ء کی صورت میں نکل سکتا ہے اور یوں ریاست اگر تباہ نہ ہوئی تو اس میں مزید شگاف ضرور پڑ سکتا ہے۔

جو پاکستان بچا اس کا کیا بنا؟ عوامی لیگ کی واضح انتخابی برتری نے بھٹو کو حیران کر کے رکھ دیا تھا۔ اقتدار حاصل کرنے کا جو منصوبہ بھٹو نے بنا رکھا تھا وہ چکنا چور ہو گیا۔ وہ مغربی پاکستان کے غلبے کے سب سے سخت گیر چیمپین بن کر سامنے آئے، چھ نکات کی مخالفت جنون کی حد تک کی اور فوجی جرنیلوں کے ساتھ مذاکرات کے بعد پنجاب میں اپنے حامیوں کو جنگ پر تیار کرنے کے لئے زبردست شاؤنسٹ ماحول پیدا کیا۔

ستر کے انتخابات میں مغربی پاکستان میں بھٹو کی پاکستان پیپلز پارٹی نئی آئین ساز اسمبلی میں سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی تھی لیکن چھوٹی سیاسی جماعتیں سرحد اور بلوچستان میں اچھی خاصی اکثریت لیکر منتخب ہوئیں تھیں اور بھٹو کو معلوم تھا کہ انکی حیثیت کسی بھی مخلوط حکومت میں زیادہ سے زیادہ کسی جونئیر پارٹنر کی ہو گی۔ اگر عوامی لیگ اکیلے حکومت بنانے کا فیصلہ کرتی تو بھٹو کی حیثیت محض مغربی پاکستان کے رہنما کی رہ جاتی۔ بھٹو نے پنجاب اورسندھ میں ایک ایسے ترقی پسند منشور کے ذریعے انتخاب جیتاتھا جس میں وعدہ کیا گیا تھا کہ زرعی اصلاحات کی جائیں گی، صنعتوں کو قومی ملکیت میں لیا جائے گا، سب کو روٹی کپڑا اور مکان ملے گا، سب کو مفت تعلیم ملے گی اور بائیس خاندانوں کی اجارہ داری کا خاتمہ کیا جائے گا جو منصوبہ بندی کمیشن کے مطابق ملک کے ستر فیصد صنعتی سرمائے، اسی فیصد بینکنگ، اور نوے فیصد انشورنس سرمائے کے مالک تھے۔

ان وعدوں کی پاسداری نا ممکن تھی۔ بائیں بازو کے مکمل طور پر گہنا جانے سے بھٹو وقتی طور پر سوشلسٹ کے بھیس میں سامنے آئے۔ڈاکٹر مبشر (پہلی پی پی پی حکومت میں وزیرِ خزانہ)،معراج محمد خان، مختار رانا ایسے جہاندیدہ اور قابل لوگ جو اس دور میں بھٹو کے قریب تھے، بعد ازاں بتاتے ہیں کہ ترقی پسند بیان بازی کی حقیقت ایک نقاب سے زیادہ نہ تھی جس کا مقصد اقتدار کا حصول اور اس کا تسلسل تھا۔ اس بیان بازی میں کبھی بھی سنجیدگی کا عنصر شامل نہیں تھا۔

بھٹو شروع شروع میں مغربی میڈیا میں ایشیاء کا فیدل کاسترو قرار دیئے جانے پر اکثر قہقہے لگاتے۔ایسے موازنے سے ان کی انا کو یقیناََ تسکین ملتی ہو گی مگر ان کا انقلاب کا کوئی منصوبہ نہیں تھا۔ زیادہ سے زیادہ ان کے ذہن میں سنگاپور کی طرز پر لی کوان یؤ والی سوشل ڈیموکریسی تھی۔ سنگاپور ایسی شہری ریاست مگر نئے،سکڑے ہوئے پاکستان کے لئے بھی کوئی ماڈل نہ تھی۔ بھٹو کی جماعت میں سب شامل تھے: جاگیردار، ٹھگ باز، وکیل، ایسے پیٹی بورژوا جو ادھر چل پڑتے ہیں جدھر کی ہوا ہو، اور وہ بے لوث طلباء جنہوں نے آمریت کا تختہ الٹا تھا۔

بھٹو کی انتخابی کامیابی کی ایک بڑی وجہ دیہی علاقوں میں جاگیرداروں کے ساتھ سمجھوتے تھے(سندھ میں ممتاز سندھی جاگیرداروں کے ساتھ، وہ خود بھی انہی میں سے ایک تھے، بھٹو کی سودے بازی خاصی شرمناک تھی)۔ ہاں البتہ پیپلز پارٹی اس حقیقی عوامی خواہش کی بھی عکاس تھی جو سماجی تبدیلی کے لئے شہر شہر گاؤں گاؤں موجود تھی اور اس خواہش کو پیپلز پارٹی نے تسخیر بھی کیا اور قرق بھی۔ بھٹو نے اپنی جماعت کو تبدیلی کا واحد ممکنہ ذریعہ بنا دیا اور پنجاب میں جاگیردار سیاست کی کمر توڑ دی۔ پہلی بار ایسا ہوا کہ مزارعوں نے اپنے مالکوں کی مخالفت مول لیکر بھٹو کو ووٹ دیا۔

لاہور کے چائے خانوں میں مذاق سے کہا جاتا کہ ”بھٹو کے ٹکٹ پر پاگل کتا بھی جیت جاتا“۔ احمد رضا قصوری کے انتخاب سے یہ ثابت بھی ہو گیا۔ یہ شخص بھٹو کے ابتدائی اورکج رو حامیوں میں سے تھا جو بعد میں وفاداری بدل گیا اور اپنے سابق رہنما پر قتل کا الزام لگا دیا۔مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ1969 ء میں بھٹو ایک شادی میں شرکت کے لئے لاہور آئے۔شادی میں ان کی آمد سے قبل کسی اردلی کی طرح احمد رضا قصوری کمرے میں داخل ہوئے اور اعلان کرنے لگے”براہ مہربانی کھڑے ہو جائیں، چیئرمین بھٹو پہنچنے والے ہیں“۔ ا س حرکت پر وہاں خوب ہنسی پڑی اور خوب مغلظات بکے گئے۔

ان پہلے چند مہینوں میں جوش و خروش اس قدر زیادہ تھا اور سماجی تبدیلی کی خواہش اس قدر شدید تھی کہ بہت کچھ ممکن تھا۔ یہ کہ پیپلز پارٹی کے چئیرمین کوئی صاحبِِ کشف نہیں تھے، اس کا اندازہ مشرقی پاکستان کی جانب ان کے رویئے سے ہوتا ہے۔ بھٹو کے انتخابی حلقے میں موجود سنجیدہ طبقاتی تناؤ اور پارٹی تنظیم کے خالی پن کا مطلب تھا کہ اگر اسے کوئی متحد رکھ سکتا تھا تو قومی شاونزم کا سیمنٹ تھاجو اس پارٹی کے رہنما کے قائد کی زبان اور انداز سے جھلکتا تھا۔

جنگ ہار دینے والے جرنیل اور ان کے ماتحت افسر اس وقت سیخ پا ہوتے جب ہر نوع کے نقاد انہیں ”شرابی جرنیل اور خون کے پیاسے کرنیل‘‘کہہ کر پکارتے۔ وہ اکیلے ہی رنجیدہ نہیں تھے۔مغربی پاکستان کے وہ بیوروکریٹ، ریاستی ٹی وی کے کرتا دھرتا اور بعض دیگر لوگ جو قومی شاونزم کی ہاؤ ہو میں مصروف رہے تھے، وہ سب اب رنجیدگی کا شکار تھے۔ ٹھنڈے دماغ کے ساتھ واقعات کا جائزہ لینے کی بجائے وہ خواب و خیال کی دنیا میں پناہ گیر ہو گئے۔ گاہے گاہے وہ بے مہر ماحول سے نجات کے لئے فیض کی شاعری میں پناہ ڈھونڈتے ہاں البتہ وہ یہ احتیاط برتتے اور فیض کی ان تین دکھ بھری نظموں سے اجتناب کرتے جو فیض نے مشرقی پاکستان کے المئیے پر لکھیں،ایک ایسی قوم کو آواز دینے کے لئے جس کی زبان کھو گئی تھی۔ ان تین میں سے دوسری نظم سچ اور درگزر کے لئے تلخ وشیریں التجا تھی:

تہ بہ تہ دل کی کدورت
میری آنکھوں میں امنڈ آئی توکچھ چارہ نہ تھا
چارہ گر کی مان لی
اور میں نے گرد آلود آنکھوں کو لہو سے دھو لیا
اور اب ہر شکل و صورت
عالمِ موجود کی ہر ایک شے
میری آنکھوں کے لہو سے اس طرح ہم رنگ ہے
خورشید کا کندن لہو
مہتاب کی چاندی لہو
صبحوں کا ہنسنا بھی لہو
راتوں کا رونا بھی لہو
ہر شجر مینارِ خوں، ہر پھول خونیں دیدہ ہے
ہر نظر اک تارِ خوں، ہر عکس خوں مالیدہ ہے
موجِ خوں جب تک رواں رہتی ہے اس کا سرخ رنگ
جذبہ ء شوقِ شہادت ،درد،غیظ و غم کا رنگ
اور تھم جائے تو کجلا کر
فقط نفرت کا، شب کا،موت کا،
ہر اک رنگ کے ماتم کا رنگ
چارہ گر ایسا نہ ہونے دے
کہیں سے لا کوئی سیلابِ اشک
آبِ وضو
جن میں دُھل جائیں تو شائد دھل سکے
میری آنکھوں،میری گرد آلود آنکھوں کا لہو

فوج کو جب اندازہ ہوا کہ اس نے اپنا کتنا بڑا نقصان کر لیا ہے توزخم خوردہ فوجی قیادت نے ذوالفقار علی بھٹو نامی نجیب سیاستدان سے رابطہ کیا تاکہ بچے کھچے ملک کے معاملات کو چلایا جا سکے اور وہ انہیں اس مصیبت سے نجات دلا سکے۔اس موقع پر فوج کی ”نسبی آزدی“ کا خاتمہ ہو گیا تھا۔ یہ کہ وہ کبھی پھر اقتدار کا رخ کریں گے، نا ممکن دکھائی دیتاتھا۔

پہلی، دوسری، تیسری اور چوتھی قسط

طارق علی بائیں بازو کے نامور دانشور، لکھاری، تاریخ دان اور سیاسی کارکن ہیں۔