تاریخ

ملک ہار دینے والا جرنیل (تیسری قسط)

طارق علی

مندرجہ ذیل اقتباس طارق علی کی کتاب ’دی ڈوئیل‘ (2008ء) سے لیا گیا ہے۔ اس کتاب کا ترجمہ فاروق سلہریا نے ’پرزے ہوئے پیماں کتنے‘ کے عنوان سے کیا۔

برطانیہ سیاسی طور پر نوآبادیات سے نکل گیا کہ اس طرح کہیں بھی برطانیہ کی معیشت کو دھچکا نہیں لگا کیونکہ برطانوی معیشت کے مرکزی ستون تھے ملائشیا کا ربر اور ٹِن، مشرقِ وسطیٰ کا تیل، جنوبی افریقہ کا سونا اور ہندوستان کی کاشتکاری۔ مشرقی بنگال کی سیاسی آزادی البتہ اسلام آباد کی بھوکی ننگی نیم استعماریت کا خاتمہ تھا۔ نوآبادیاتی طاقت جس قدر کمزور ہو گی اسی شدت سے وہ اپنے رعیتی علاقوں کے سیاسی اختیار پر انحصارکرے گی۔ اس حوالے سے بیسویں صدی کی تاریخ میں ہمارے لئے زبردست سبق موجود ہے۔

سمندر پار اپنے مقبوضہ جات قابو میں رکھنے کے لئے جس یورپی سامراج نے لمبی ترین اور مصمم ارادے کے ساتھ جنگ کی وہ برطانیہ یا فرانس ایسا صنعتی ملک حتیٰ کہ بلجئیم ایسا کوئی ملک بھی نہ تھا۔ یہ پس ماندہ، چھوٹا سا پُرتگال تھا جس کے معاشرے میں ہنوز زراعت غالب تھی۔ افریقہ میں پرتگال نے انگولا، موزمبیق اور گینیا ایسی نوآبادیات پر قبضہ برقرار رکھنے کے لئے بے رحمی سے اور بلا چون و چرا جنگ لڑی کیونکہ پرتگال کے لئے ان نوآبادیات کی زبردست معاشی و نظریاتی اہمیت تھی۔ پرتگال، جس کی اپنی معیشت میں ترقی یافتہ طاقتوں کا سرمایہ گھس بیٹھ کئے ہوئے تھا، کی نیم استعماریت پاکستان کی مثال سمجھنے میں ممد و معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ دونوں کے پاس سیاسی و معاشی جوڑ توڑ کے لئے زیادہ امکانات موجود نہ تھے۔ اپنے اپنے انداز میں دونوں انتہاپسندی کی جانب مائل ہوئے اور جبر کی انتہائی شکلوں کا ارتکاب کیا۔

نتیجہ یہ نکلا کہ دونوں ممالک کیلئے اس کے نتیجے میں زبردست بحران نے جنم لیا: ایک ٹوٹ گیا جبکہ دوسرے کی فوج زبردست ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئی۔ 1974ء میں آنے والے جمہوری انقلاب، جس نے سالازار آمریت کا خاتمہ کردیا، میں میجر اور کرنیل عوامی تحریک کا ہراؤل تھے۔

عوامی لیگ جو آج بھی بنگلہ دیش میں ایک بڑی جماعت ہے، کے معروضی جائزے سے ثابت ہو گا کہ یہ ایک سیکولر مگرجنم جنم سے رجعت پسند جماعت ہے۔ اپنی مغربی پاکستان کی بہنوں کی طرح، جن دنوں یہ پروان چڑھ رہی تھی، ملک میں پارلیمانی جوڑ توڑ اور ساز باز کا رواج تھا۔ اس کی سماجی بنیاد ہمیشہ سے مشرقی پاکستان میں موجود سرکاری اہلکار، اساتذہ، چھوٹے تاجر، اور دکاندار تھے۔ حسین شہید سہروردی نے، جو مختصر سے عرصے کے لئے پاکستان کا وزیر اعظم بننے میں کامیاب ہو گئے، یہ اعزاز حاصل کیا کہ 1956ء میں مصر پر اینگلو فرنچ اسرائیلی حملے کی حمایت کی۔ سہروردی پاکستان میں ہی امریکی مفادات کا دفاع کرنے میں پرجوش نہ تھے بلکہ پورے ایشیا میں امریکی حکمتِ عملی کے حامی تھے۔ مشرقی پاکستان میں بائیں بازو کی تنظیمیں اور سیاسی جماعتیں جو امریکہ نوازی کی مخالفت کرتیں، عوامی لیگ کے ”رضاکاروں“ کے تشدد کا نشانہ بنتیں اور ان کے جلسے شرمناک باقاعدگی کے ساتھ الٹائے جاتے۔ سہروردی کا دوسرا کارنامہ یہ تھا کہ انہوں نے سندھ، سرحد اور بلوچستان کو پنجاب کی بالادستی میں قائم ہونے والے ون یونٹ میں سمو دینے کے عمل کی نگرانی کی۔ یوں انہوں نے مغربی پاکستان کے صوبوں کی ”خودمختاری“ کے لئے احترام کا مظاہرہ کیا۔

1958ء کے بعد ایوب آمریت کے ابتدائی عرصے میں سہروردی نے حکومت کی مخالفت کی اور کچھ عرصے کے لئے قید کاٹی مگر ان کی مخالفت ہمیشہ بورژوا آئین پسندی تک محدود رہی۔ سہروردی میں بے پناہ صلاحیتیں تھیں…زبردست وکیل تھے، سیاسی جوڑ توڑ میں مہارت رکھتے تھے، گفتگو کمال کی کرتے …جن کے با عث وہ عوامی لیگ کے دیگر رہنماؤں سے کہیں ممتاز تھے۔ ان کا نصب العین بہرحال بنگال کی آزادی ہر گز نہ تھا۔ وہ عوامی لیگ کو پورے ملک میں ایک انتخابی جماعت کے طور پر منظم کرنا چاہتے تھے جو ”قومی“ جماعت کے طور پر اقتدار میں آ سکے اور حسین شہید سہروردی کو سب سے مقدم عہدے پرپہنچنے کے لئے سیڑھی بن سکے۔ 1963ء میں ان کی بے وقت موت نے اس خواب کو چکنا چور کر دیا۔

اس ابتدائی تاریخ کا جائزہ عوامی لیگ کے اس روئیے کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے جو اس نے بعد میں اختیار کیا۔ ایوب آمریت کے باقی عرصے میں اس نے حزبِ اختلاف کا کردار جاری رکھا۔ ایوب نے خود کئی بار سوچا کہ عوامی لیگ کے رہنماؤں کے ساتھ کوئی سمجھوتہ کر لیا جائے اور انہیں مرکزی حکومت میں شامل کر لیا جائے مگر مشرقی پاکستان کی انڈر ورلڈ سے تعلق رکھنے والے بدمعاش سیاستدان، جن پر ایوب خان مشرقی بنگال کے اندر امن و امان قائم رکھنے کے لئے انحصار کرتے تھے، اس منصوبے کو مسلسل ناکام بناتے رہے کہ اس طرح انکی اپنی سیاست کا خاتمہ ہو جاتا۔

عوامی لیگ کے پاس لہٰذا کوئی اور راستہ نہ تھا سوائے حزبِ اختلاف میں رہنے کے۔ اس نے 1964ء میں ایوب خان کے خلاف مشترکہ امیدوار لانے کے لئے تشکیل پانے والے اتحاد (سی او پی) میں شمولیت اختیار کی۔ انتخابات میں فوج اور نوکر شاہی نے خوب دھاندلی کی اور فیلڈ مارشل آسانی سے جیت گئے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ملک اندر سے ٹوٹ گیا مگر اقتدار میں موجود کسی نے اس پر توجہ نہیں دی۔ اس کے بعد عوامی لیگ نہ چاہتے ہوئے بھی مختلف سمت میں سفر کرنے لگی اور اس کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ کار نہ بچا کہ فوج کو کھلم کھلا للکارے۔ ساڑھے سات کروڑ بنگالیوں پر فوج کشی سے چند ہفتے قبل ”اکانومسٹ“نے اس رائے کا اظہار کرتے ہوئے جو عموماً پائی جا رہی تھی، جنرل یحییٰ کو شرفِ قبولیت بخشا: ”امید کی جا سکتی ہے کہ جنرل یحییٰ فوج کو قابو میں رکھنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔ ابھی تک انہوں نے سیاست میں ایک ماڈل فوجی کا کردار ادا کیا ہے، انتخابی عمل سے لاتعلق رہے اور انتخابات کے بعد تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کر دیا گیا“۔

جناح کا پاکستان 26 مارچ 1971ء کو اس وقت دم توڑ گیا جب بنگال کو خون میں غوطہ دیا گیا۔ مغربی پاکستان کے دو اعلیٰ فوجی قابلِ ستائش ہیں جنہوں نے بنگال کے واقعات کے خلاف استعفیٰ دیدیا۔ جب اسلام آباد نے ایڈ مرل احسان اور جنرل یعقوب کی اپیلیں مسترد کر دیں تو انہوں نے بنگال کو خیر باد کہہ دیا۔ دونوں مسئلے کے فوجی حل کے کٹر مخالف تھے۔ بھٹو نے البتہ حملے کی حمایت کی۔ ”خدا کا شکر ہے! ملک بچ گیا“ بھٹو نے اعلان کیا اور یوں اس تباہی کا ساتھ دیا جو نازل ہونے والی تھی۔ شیخ مجیب کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ بائیں بازو کے سینکڑوں دانشوروں، کارکنوں اورطلبہ کو باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ مقتولین کی فہرستیں انتخابات میں شکستِ فاش کھانے والی جماعتِ اسلامی کے مقامی کارکنوں کی مدد سے تیار کی گئی تھیں۔ سپاہیوں کو بتایا گیا کہ بنگالیوں نے کچھ ہی عرصہ قبل اسلام قبول کیا ہے لہٰذا وہ ”مناسب حد تک مسلمان“ نہیں۔ انکی نسل بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ یہ تھاعوامی سطح پر بنگالی خواتین کو زیادتی کا شکار بنانے کا جواز۔

ڈھاکہ میں شیخ مجیب گھر بیٹھے گرفتاری کا انتظار کرتے رہے۔ ان کے بہت سے ساتھی زیرِزمین چلے گئے۔ فوج نے ڈھاکہ یونیورسٹی پر گولہ باری کی۔ توپ خانے نے مزدور بستیاں زمین بوس کر دیں۔ ٹریڈ یونین اور اخبارات کے دفاتر کو آگ لگا دی گئی۔ سپاہیوں نے یونیورسٹی میں لڑکیوں کے ہاسٹل پر حملہ کر دیااور اکثر رہائشیوں کی آبروریزی کی یا مار ڈالا۔ خفیہ والوں نے مقامی شریک کاروں، جو اکثر اسلام پرست کارکن تھے، کی مدد سے (1965ء میں جس طرح انڈونیشیا میں ہوا تھا) قوم پرست اور اشتراکی دانشوروں کی فہرستیں تیار کیں، جنہیں اغوا کر نے کے بعد ہلاک کر دیا گیا۔ ان میں سے کچھ میرے قریبی دوست تھے۔ میں اداس بھی تھا ا ور سیخ پا بھی۔

میں نے اس المئیے کی پیش گوئی اس امید کے ساتھ کی تھی کہ اس سے بچا جا سکتا ہے۔ دسمبر1970ء میں ہونے والے انتخابات کے فوری بعد میں نے لکھا: ”کیا پاکستانی فوج اور مغربی پاکستان کے سرمایہ دار نواب ان مطالبات کو پورا ہونے دیں گے؟ جواب ہے کہ بالکل نہیں۔ امکان یہ ہے کہ قلیل المدت عرصے میں شیخ مجیب کو مشرقی پاکستان کے برآمدی اور درآمدی لائسنسوں کی تعداد بڑھانے اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں زیادہ حصہ حاصل کرنے کی اجازت دیدی جائے گی۔ یہ وہ مراعات ہیں جو فوج آئندہ چند ماہ میں دینے پر تیار ہو سکتی ہے۔ اگر تو شیخ مجیب نے انہیں تسلیم کر لیا تو وہ اقتدار میں رہ سکتے ہیں ورنہ فوج کی شکل میں وہی پرانا کھیل شروع ہوجائے گا۔ یہ بات واضح ہے کہ اگر ایک نئی فوجی بغاوت ہوئی تو اہلِ بنگال کے غصے کے سامنے بند باندھنا ممکن نہ ہوگااور آزاد بنگال کی خواہش سو گنا بڑھ جائے گی“۔

بنگال کی سیاسی قیادت نے عوام کو اس حملے کے لئے تیار نہ کیا تھا۔ اگر ایسا کیا جاتا تو بہت سی جانیں بچ سکتی تھیں۔ بنگالی پولیس اور فوجی اپنی قیادت کے اس حکم کے منتظر ہی رہے کہ وہ اپنے ہتھیاروں سمیت فرار ہو جائیں اور اپنے لوگوں کی حفاظت کریں۔ جناح کے پاکستان کی موت ہو چکی تھی۔ بنگلہ دیش جنم لینے ہی والا تھا۔ آزادئی بنگال کے لئے لڑنے والی قوتوں اور مغربی پاکستان کی فوج کے بیچ شروع ہونے والی یہ کشمکش 1968-69ء کی عوامی تحریک کا تسلسل بھی تھا اور کیفیتی رخنہ بھی۔

1971ء کے اوائل سے مشرقی بنگال کی سیاست کے اندر دو واضح رنگ تھے: ایک طرف تو سماجی اور قومی جدوجہد کی ہر سطح پر عوام کی پُرجوش شمولیت، دوسری جانب عوامی لیگ کی پیٹی بورژوا قیادت کی سیاسی کمزوریاں کہ یہ قیادت جوڑ توڑ اور سمجھوتے بازی کی عادی تھی اور اس روایت نے اس قیادت کو اس قابل ہی نہیں چھوڑا تھا کہ قومی آزادی کی تحریک کو قیادت فراہم کرے۔

7 مارچ 1971ء کو شیخ مجیب نے دس لاکھ کے جلسے سے خطاب کیا جہاں انہوں نے تاخیری حربوں اور سازشوں کی مذمت کی مگر اعلانِ آزادی نہ کیا۔ اس لیت و لعل کی قیمت عام بنگالی نے ادا کی۔ آپریشن سرچ لائٹ بے رحمی سے کیا گیا مگر کارگر ثابت نہ ہو سکا۔ دانشوروں اور طلبہ کے قتل سے وہ برق رفتار کامیابی حاصل نہ ہو سکی جس کی توقع پاکستانی جرنیل لگائے بیٹھے تھے۔ ایک بار جو ابتدائی حملہ ناکام رہا تو فوج نے مقامی اسلام پرست رضاکاروں (جماعتِ اسلامی کے ارکان) کے ساتھ مل کر ہندو آبادی کا قتل شروع کر دیا…مشرقی پاکستان میں اک کروڑ ہندو تھے…اور ان کے گھر جلا ڈالے۔ کسی بھی عالمی قانون کے مطابق یہ جنگی جرائم تھے۔

یہ سب ہو رہا تھا اور اکثر یحییٰ نواز مغربی حکومتیں آنکھیں بند کئے یہ آس لگائے بیٹھی تھیں کہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ جب حملے کی خبر پھیلی توبنگالی اکثریت والی ایسٹ پاکستان رائفلز میں بغاوت ہو گئی۔ بعد ازا ں اسلام آباد کی طرف سے اس بات کا خوب پراپیگنڈہ کیا گیاکہ کس طرح مغربی پاکستان سے تعلق رکھنے والے کمانڈر کرنل جنجوعہ کو ان کے ایک ماتحت نے صبح جگایا، پاجامے میں ہی دفتر لے جایا گیا، کمانڈنگ افسر کی کرسی پر بٹھایا گیا اور کس طرح ایک اردلی نے گولی سے اڑا دیا۔یہ سب بہت کریہہ انسانیت کے خلاف جرم کی تعریف یوں کی گئی: ”قتل، استیصال، غلام داری، جلا وطنی، اور دیگر غیر انسانی اقدامات جن کا نشانہ کوئی سول آبادی ہو،یا سیاسی، نسلی یا مذہبی بنیادوں پر جبر۔ جب ایسے اقدامات یا جبر امن کے خلاف جرم یا جنگی جرم کے ارتکاب کے لئے یا اس کے ضمن میں کیا جائے“۔

تھا مگر کس خانہ جنگی میں ایسا نہیں ہوتا؟ کم ہی کسی نے یہ سوال پوچھنے کی کوشش کی کہ ملک میں موجود واحد بنگالی کمپنی کا کمانڈر غیر بنگالی کیوں تھا؟ یہ مسئلے کا حصہ تھا۔ صوبے کے مختلف حصوں میں گوریلا دستے تشکیل پا گئے جو مختلف سیاسی دھڑوں کی نمائندگی کرتے تھے مگر آزادی کی جدوجہد میں سب متحد تھے۔ ان میں سب سے طاقتور مکتی باہنی (لبریشن آرمی) تھا جس کی قیادت عوامی لیگ کے قوم پرستوں کے ہاتھ میں تھی مگر دیگر دستے تھے جو مقامی طور پر متحرک تھے۔ ان میں سے بعض چے گویرا سے متاثر تھے اور انکی قیادت ٹیپو بسواس اور عبدالمتین کر رہے تھے۔ ان جنگجوؤں کے پاس اور کوئی راستہ بھی تو نہیں بچا تھا۔ بھارت اور پاکستان کی حکمران اشرافیہ اس جدوجہد کا جلد از جلد خاتمہ چاہتی تھی۔ ایسا نہ ہو سکا۔ اسلام آباد میں اس وقت طاقت کا مرکز فوجی افسروں کا ایک چھوٹا سا حلقہ تھا جن کو چند سول مشیران اور حواریوں کی مدد حاصل تھی۔ یحییٰ خان ایک بے آب و کاہل شخص کی تصویر بن چکے تھے۔ بعد ازاں یہ خبریں شائع ہوئیں کہ کس طرح ایک روز، رات گئے، نشے کی حالت میں، وہ پشاور کی سڑکوں پر ننگ دھڑنگ نکل آئے، پیچھے پیچھے ان کی پسندیدہ داشتہ (”جنرل رانی“) چلی آ رہی تھی۔ موصوف کو ان کے محافظوں نے، جو اس حرکت پر ہر گز حیران نہ ہوئے، واپس کمرے میں پہنچایا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب جنگ اپنے عروج پر تھی۔ اگر تو جنگ جیت لی جاتی تو ایسے واقعات کی کوئی ا ہمیت نہ ہوتی مگر ناکامی فوج کے سر پر منڈلا رہی تھی۔

پسِ پردہ جو گروہ جنگ لڑ رہا تھا وہ پانچ جرنیلوں اور چند سول بیوروکریٹس پر مبنی تھا اور ان میں سے کوئی بھی اپنی قابلیت کی وجہ سے مشہور نہ تھا۔ اس دور کے ایک اعلیٰ فوجی افسر جنرل گل حسن نے اپنی سوانح عمری میں بتایاکہ جی ایچ کیو کس طرح افراتفری کا شکار تھا: جھوٹ پر مبنی مراسلے، فوجی ناکامیوں کو چھپانے کے لئے حیلے بہانے، فوجی دستوں کا ضرورت سے زیادہ پھیلاؤ جس کے نتیجے میں ڈھاکہ کا دفاع کمزور پڑ گیا، وغیرہ وغیرہ۔

اگر تو اسے خالصتاً فوجی نقطہ نگاہ سے دیکھا جائے تو یہ مہم بالکل ناکام ثابت ہوئی۔ مشرقی پاکستان کے کمانڈنٹ جنرل ”ٹائیگر“ نیازی نے بڑ لگائی تھی کہ وہ ہفتوں میں سرکشی کا قلع قمع کر دیں گے مگر ان کی شیخی کسی کام نہ آئی۔ جنرل گل حسن کے لئے مشکل ہو رہا تھ کہ وہ جنرل نیازی کے لئے اپنے دل میں موجود ہتک چھپائیں۔ گل حسن کے خیال میں جنر ل نیازی زیادہ سے زیادہ ”کمپنی کمانڈر بننے کے قابل“ تھے۔ جنرل گل حسن خود بھی کوئی توپ قسم کے فوجی مدبر نہ تھے۔ انہوں نے دوسرا محاذ کھولنے کی احمقانہ تجویز دی۔ اس کا مقصد بھارت کو مغربی سرحد پر مصروف کرنا تھا۔ جنرل گل حسن کی دلیل تھی کہ مشرقی پاکستان کو بچانے کا بہترین طریقہ اب یہ تھا کہ مکمل جنگ چھیڑ دی جائے جس کے نتیجے میں اقوامِ متحدہ، امریکہ اور چین مداخلت کرکے علاقائی سطح پر فائربندی کروا دیں۔ ان کے اعلیٰ افسران نے ان کی پیٹھ تھپتھپائی مگر ان کی تجویز رد کر دی۔

وہ بالکل ہی احمق نہیں تھے۔ ریاست پر فوج کے مکمل اختیار نے اب چند بنیادی سوالوں کو جنم دیا۔

(جاری ہے)

پہلی اور دوسری قسط

طارق علی بائیں بازو کے نامور دانشور، لکھاری، تاریخ دان اور سیاسی کارکن ہیں۔