خبریں/تبصرے

امر اللہ صالح نے خود کو افغانستان کا نگران صدر قرار دیدیا، طالبان کیخلاف مزاحمت کا اعلان

حارث قدیر

افغانستان میں اشرف غنی حکومت کے نائب صدر امر اللہ صالح نے خود کو افغانستان کا نگران صدر قرار دیکر طالبان کے خلاف مزاحمت کا اعلان کر دیا ہے۔

منگل کی شام کو انہوں نے اپنے ٹویٹر ہینڈل سے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ”افغان آئین کے مطابق صدر کی غیر موجودگی، فرار، استعفیٰ یا موت کی صورت میں نائب صدر نگران صدر بن جاتا ہے۔ میں اس وقت اپنے ملک کے اندر ہوں اور جائز دیکھ بحال کرنے والا صدر ہوں۔ میں تمام رہنماؤں سے انکی حمایت اور اتفاق رائے کو محفوظ بنانے کیلئے پہنچ رہا ہوں۔“

قبل ازیں انہوں نے 15 اگست کو طالبان کے کابل میں داخل ہونے والے روز ٹویٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”میں کبھی بھی، کسی بھی حالت میں طالب دہشت گردوں کے سامنے نہیں جھکوں گا، میں اپنے ہیرو احمد شاہ مسعود، کمانڈر، لیجنڈ اور رہنما کی روح اور میراث کو کبھی دھوکہ نہیں دونگا۔ میں لاکھوں ماننے والوں کو مایوس نہیں کرونگا۔ میں کبھی بھی طالبان کے ساتھ ایک چھت کے نیچے نہیں رہوں گا۔“

ایک اور ٹویٹ میں انہوں نے امریکی صدر جوبائیڈن کو جواب دیتے ہوئے افغان عوام کو مزاحمت میں شامل ہونے کی اپیل کی تھی۔

دریں اثنا افغان طالبان کے مرکزی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پہلی باضابطہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ دوسرے ممالک کے ساتھ پرامن تعلقات کی خواہش رکھتے ہیں۔

انکا کہنا تھا کہ ہمیں کوئی اندرونی یا بیرونی دشمن نہیں چاہیے۔ چاہتے ہیں کہ نجی میڈیا آزاد رہے لیکن صحافیوں کو قومی اقدار کے خلاف کام نہیں کرنا چاہیے۔

انکا کہنا تھا کہ طالبان سابق فوجیوں اور مغربی حمایت یافتہ حکومت کے ارکان کے خلاف انتقام نہیں لیں گے۔ سابق فوجیوں کے علاوہ عالمی افواج کیلئے کام کرنے والے مترجموں اور ٹھیکیداروں کیلئے بھی معافی کا اعلان کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کوئی بھی آپ کو نقصان نہیں پہنچائے گا، کوئی آپ کے دروازے پر دستک نہیں دے گا۔ خواتین کے حقوق کا اسلامی قانون کی حدود میں تحفظ کیاجائیگا۔

انکا کہنا تھا کہ خواتین معاشرے میں بہت زیادہ فعال ہونے والی ہیں لیکن اسلام کے دائرے میں رہ کر۔ انکا کہنا تھا کہ کسی بھی قوم کے خلاف حملوں کیلئے افغان سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائیگی، عالمی برادری بشمول امریکہ کو یقین دلانا چاہتے ہیں کہ کسی کو نقصان نہیں پہنچے گا۔

ادھر کابل کا ہوائی اڈہ اب ہجوم سے پاک ہے، پروازیں اڑنا شروع ہو گئی ہیں۔ پیر کے روز افراتفری میں کم از کم 7 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق افغان دارالحکومت کابل میں زندگی معمول کی طرف لوٹنا شروع ہو چکی ہے تاہم سرکاری ملازمین بالخصوص خواتین کام پر جانے سے گریزاں ہیں۔ کاروبار بھی بدستور بند ہے اور لوگ ابھی تک تشویش میں مبتلا ہیں اوراس بات یقین کرنے سے ہچکچا رہے ہیں کہ طالبان ماضی کی طرح تشدد کا راستہ اختیارنہیں کرینگے۔

دوسری طرف خواتین کی جانب سے طالبان کے خلاف احتجاج کی ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پروائرل ہے جس میں چند خواتین طالبان جنگجوؤں کے سامنے پلے کارڈ اٹھائے احتجاج کر رہی ہیں۔ ایک اور ویڈیو میں افغان نوجوان افغانستان کا قومی پرچم اٹھائے طالبان کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں اور قومی پرچم کو ہٹائے جانے کی مذمت کی جا رہی ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک نے بھی اعلان کیا ہے کہ اس نے اپنے پلیٹ فارم پر طالبان کی حمایت اور پروموشن کرنے والے تمام مواد پر پابندی لگا دی ہے۔ عرب نیوز کے مطابق جمعرات کو فیس بک کے ایک ترجمان نے کہا کہ ’امریکی قانون کے تحت طالبان کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا ہے اور ہم نے ’خطرناک تنظیم‘ کی پالیسی کے تحت ان کے لیے سروسز پر پابندی لگا دی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم طالبان کے یا ان کے لیے بنائے گئے اکاؤنٹس ہٹا دیں گے اور ان کی تعریف، حمایت اور نمائندگی کرنا منع قرار دیا گیا ہے۔‘

حارث قدیر کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولا کوٹ سے ہے۔  وہ لمبے عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں اور مسئلہ کشمیر سے جڑے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔