خبریں/تبصرے

افغانستان: 700 میں سے 600 خواتین صحافی غائب

لاہور (جدوجہد رپورٹ) افغانستان میں طالبان کے قبضے کے بعد خواتین صحافیوں کو مسلسل نوکریوں سے بے دخل کیا جا رہا ہے۔ طالبان کی جانب سے پریس کی آزادی کے احترام کے وعدے کے باوجود خواتین صحافیوں کو کہا جا رہا ہے کہ وہ گھر پر رہیں۔

’گارڈین‘ کی رپورٹ کے مطابق رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز (آر ایس ایف) کا کہنا ہے کہ انکی اطلاعات کے مطابق کابل کی کل 700 خواتین صحافیوں میں سے اب 100 سے بھی کم کام کر رہی ہیں اور صرف چند ایک ہی دیگر صوبوں میں گھر سے کام جار ی رکھے ہوئے ہیں، کچھ خواتین پر حملے ہوئے اور ہراساں بھی کیا گیا ہے۔

آر ایس ایف کے مطابق میڈیا میں خواتین کی آواز بند کر کے طالبان تمام ملک کی خواتین کو خاموش کرنے کے عمل میں ہیں۔

ایک سروے کے مطابق طالبان کے قبضے کے فوری بعد صحافیوں سمیت میڈیا تنظیموں میں زیادہ تر خواتین عملے نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے۔

کابل کی 108 میڈیا تنظیموں نے 2020ء میں 4940 افراد کو ملازمت دی جن میں 1080 خواتین شامل تھیں، ان میں سے 700 خواتین صحافی تھیں۔ 510 خواتین جو 8 بڑے نجی اداروں میں کام کرتی تھیں ان میں سے صرف 76 بشمول 39 صحافی خواتین اب کام کر رہی ہیں۔

صوبوں میں بھی صورتحال ایسی ہی ہے، جہاں تقریباً تمام ہی نجی میڈیا اداروں نے طالبان کی پیش قدمی کے ساتھ ہی کام کرنا بند کر دیا۔ سروے کے مطابق 1700 سے زائد خواتین صحافی صرف 3 صوبوں کابل، ہرات اور بلخ میں کام کر رہی تھیں۔