نقطہ نظر

علی گیلانی کی سیاست نا قابل حمایت: ایک ترقی پسندانہ موقف

حارث قدیر

بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر میں پاکستان نواز سیاست کی علامت سمجھے جانے والے سید علی شاہ گیلانی کی وفات کے بعد پاکستان اور اسکے زیر انتظام علاقوں سمیت بھارت میں بھی ایک بحث نے جنم لیا ہے۔

پاکستان اور اسکے زیر انتظام جموں کشمیر کے حکمران طبقات اور اشرافیہ نے سید علی گیلانی کو تکمیل پاکستان کی جدوجہد کے سرخیل کے طور پر پیش کیا جبکہ قوم پرست اور ترقی پسند حلقوں کے کچھ حصوں نے انہیں ’سامراج مخالف‘ اور آزادی کی تحریک کا ہیرو قرار دیا۔ ان حلقوں نے انقلابی سوشلزم کے نظریات کی بنیاد پر کام کرنے والوں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور آنکھیں بند کر کے فارمولے استعمال کرنے کی بجائے بدلتی صورتحال کو سمجھنے کیلئے متحرک نقطہ نظر اپنانے کا مشورہ تک دے دیا گیا۔

اس مضمون میں ہم مختلف حلقوں کی جانب سے اٹھائے گئے کچھ سوالات کا جائزہ لینے یا ان کے جواب تلاشنے کی کوشش کرینگے۔

انسانی معاشرے، سیاست اور معیشت کو دیکھنے اور پرکھنے کیلئے سب سے پہلے ہمیں کسی نظریے اور فلسفے کی کسوٹی کا انتخاب کرنا ہو گا جس کی بنیاد پر ہم معاشرے میں رونما ہونے والے مختلف محرکات کو سمجھنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ بائیں بازو کے کارکنان اور دانشور مارکسزم کے نظریات اور جدلیاتی مادیت کے فلسفے کی بنیاد پران محرکات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اور کسی بھی نظریے کو رد کرنے کیلئے متبادل نظریہ پیش کیا جانا اشد ضروری ہے۔

بائیں بازو کے نظریات کی بنیاد پر سماج میں رونماہونے والے واقعات کے جوہر کو سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے اور واقعات کے پس پردہ تضادات کو ماضی اور حال کے تسلسل میں دیکھتے ہوئے انکا تجزیہ اور مستقبل کا تناظر پیش کیا جاتا ہے۔ جبکہ دوسری طرف واقعات کی ظاہریت کی بنیاد پر انکا تجزیہ کیا جاتا ہے، یا پھر واقعات میں متحرک افراد کی رائے کی بنیاد پر انہیں سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ واقعات کو سمجھنے کیلئے انہیں علیحدہ علیحدہ کاٹ کر دیکھا جاتا ہے، ماضی کو حال سے جوڑنے اور تضادات کو سمجھنے کی بجائے حال میں مقبول عام رائے کو کسوٹی بنایا جاتا ہے۔ دوسرے طریقہ کار کا بائیں بازو کے نظریات سے کوئی تعلق نہیں ہے، یہ طریقہ عموماً دائیں بازو کے دانشور اور تجزیہ نگار استعمال کرتے ہیں۔

ایک اور طریقہ کار جسے فسطائی اور کلچرلسٹ رجحانات استعمال کرتے ہیں، وہ ہر واقعہ کومخصوص مذہب، قبیلے، علاقے، قوم، نسل یا ثقافتی ورثے کے مفادات کے عدسے سے دیکھتے ہیں اور انہی تعصبات کی بنیاد پر ہی معاشرے کے ہر پہلو کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ یہی وہ طریقہ کار ہے جس کی بنیاد پر جموں کشمیر کی قومی آزادی کی جدوجہد کو اسلام اور پاکستانیت کی نظر سے دیکھنے کی کوشش کرتے ہوئے جموں کشمیر میں بسنے والے مختلف مذاہب، قومیتوں، نسلوں، فرقوں، زبانوں اور ثقافتی ورثوں کے حامل افراد کے مقدر کو ویلی کشمیر کے 2 اضلاع میں جماعت اسلامی اور دیگر مذہبی جماعتوں کی بندوق کی نوک پر مسلط کی گئی رائے کی بنیاد پردیکھنے اور پرکھنے کی ہی کوشش نہیں کی جاتی بلکہ اسی رائے کو جموں، کشمیر، لداخ، گلگت، بلتستان اور پونچھ کے پونے دو کروڑ انسانوں کی رائے ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

عوامی غالب رائے عامہ کی بنیاد پر ہی اگر کسی مخصوص خطے میں موجود تضادات اور مسائل سے نجات کی جدوجہد کو استوار کیا جانا مقصود ہو تو پھر انتخابات میں بیلٹ کے ذریعے آنے والی غالب رائے کو مقدم ٹھہرا دیا جانا چاہیے، لیکن وہ رائے غالب عوامی رائے قرار نہیں دی جا سکتی، اس کے پس پردہ محرکات کو سمجھے بغیر اسکا تجزیہ بھی نہیں کیا جا سکتا۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال کے ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ کونسل انتخابات میں بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر میں مجموعی طور پر 51 فیصد رائے دہندگان نے ووٹ دیا ہے، جموں میں ٹرن آؤٹ 70 فیصد جبکہ وادی کشمیر میں ٹرن آؤٹ 30 فیصد رہا ہے، جبکہ بڈگام، کلگام، شوپیاں، اننت ناگ اور پلوامہ میں ٹرن آؤٹ 8 سے 12 فیصد کے درمیان رہا ہے۔

عوامی رائے کبھی بھی آسمان سے نہیں ٹپکتی بلکہ ٹھوس مادی حالات کا ہی عکس ہوتی ہے اور عمومی طور پر سماج پر حاوی نظریات اور خیالات ہمیشہ حکمران طبقات کے ہی ہوتے ہیں جنہیں وہ میڈیا، نصاب اور دیگر ذرائع پر ریاستی طاقت کے غلبے کی بنیاد پر سماج پر مسلط کرتے ہیں، صرف غیر معمولی یا انقلابی حالات میں ہی سماج کا عمومی شعور ایک جست کی مانند رائج الوقت معاشرے سے آگے دیکھنے کی صلاحیت حاصل کرتا ہے۔

منقسم جموں کشمیر کے مختلف علاقوں میں غالب عوامی رائے کو سمجھنے کیلئے جموں کشمیر کی موجودہ حیثیت کے پس پردہ محرکات اور تاریخی واقعات کا درست تجزیہ کرنا ناگزیر ہے، جس کے بغیر ہم نہ تو موجودہ جموں کشمیر کی حیثیت کو سمجھ سکتے ہیں اور نہ ہی مختلف علاقوں میں غالب رائے عامہ کے متعلق کوئی رائے قائم کر سکتے ہیں۔ برصغیر کی تقسیم کے وقت اس وقت کی شاہی ریاست جموں کشمیر کو دونوں نو مولود ریاستوں کے مابین سامراجی ایما پر ایک ایسے رستے زخم کے طور پر چھوڑا گیا جس کی بنیاد پر دونوں ریاستوں کی مصنوعی دشمنی اور حالت جنگ قائم رہے اور تاخیر زدہ سرمایہ داری کے تحت حکمرانی کا سلسلہ بھی جاری رہ سکے اور سامراج پر انحصار بھی بدستور قائم رہے۔

گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ دونوں ریاستوں کے حکمران طبقات نے اپنی ضرورتوں کے تحت مسئلہ کشمیر کو استعمال کیا ہے اور منقسم حصوں کے انسانوں کو معاشی، سیاسی اور سماجی بدحالی میں دھکیلتے ہوئے وسائل کی لوٹ مار کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے حوالے سے کبھی کوئی سنجیدگی اس لئے بھی اختیار نہیں کی گئی کیونکہ مسئلہ کشمیر کا خاتمہ ان دونوں ریاستوں کے وجود کے خاتمے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ مسئلہ کشمیر کا حل بھی ان دونوں ریاستوں سے سرمایہ داری کے خاتمے اور تمام قومیتوں کی رضاکارانہ سوشلسٹ فیڈریشن کے قیام سے ہی مشروط ہے۔

یہ بھی یاد رکھا جانا چاہیے کہ جب جماعت اسلامی اور مذہبی جماعتوں جیسے رجحانات بھارتی ریاستی جبر کے ہمنوا تھے اس وقت پاکستانی حکمران طبقات نے پراکسی کے طور پر سیکولر محاذ رائے شماری کو استعمال کرنے کی بھرپور کوشش بھی کی اور مختلف طریقوں سے مدد بھی فراہم کی۔ اسی طرح بھارتی ریاست کو جب بھی جس طرح کے حالات کا سامنا رہا اس کی پراکسی کے طور پر کام کرنے کیلئے بھی مقامی حکمران اشرافیہ کے لبرل، سیکولر اور مذہبی دھڑے ہمیشہ حاضر رہے ہیں۔ عسکری جدوجہد کو استوار کرنے کیلئے بھی پاکستانی حکمران طبقات کیلئے پہلا انتخاب ایک دائیں بازو کی سیکولر قوم پرست تنظیم جموں کشمیر لبریشن فرنٹ ہی رہی ہے۔ تاہم وقت کے ساتھ مذہبی جماعتوں نے جب اپنا آپ بطور پراکسی پیش کیا تو لبریشن فرنٹ کے عسکری گروہ کو راستے سے ہٹا دیا گیا۔

یہیں سے سید علی شاہ گیلانی جیسے پراکسی کرداروں کا بطور پاکستانی پراکسی ظہور ہوتا ہے جو پہلے 1972ء کے انتخابات سے بھارتی پراکسی کے طور پر اپنا بھرپور کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ انہیں مزاحمت کے اہم کردار کے طور پر دیکھنے والوں کو پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ 400 کشمیری پنڈتوں کا خون انکے ہاتھوں پر ہے۔ وادی کشمیر کو لبریشن فرنٹ، مجاہدین اسلام، اخوان فورس اور دیگر پاکستانی و بھارتی ریاستوں کے پراکسی گروہوں کے اکھاڑے میں تبدیل کرنے میں بھی انکا کلیدی کردار رہا ہے۔ اس سب کھلواڑ کے پیچھے کبھی بھی مقصد جموں کشمیر کی آزادی نہیں رہا بلکہ قابض ریاستوں کے حکمران طبقات کے مقاصد کی تکمیل رہا ہے۔ پراکسی کردار کو سمجھنے کیلئے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ صرف کسی بھی سامراجی یا کمپراڈور ریاست کی مدد و معاونت سے اس کے مقاصد کی تکمیل کیلئے وسیع تر عوامی اور محنت کش طبقے کے مفاد کو قربان کرنے کے عمل کو پراکسی کردار کہا جاتا ہے۔

وادی کشمیر کو پراکسی جنگ کے اکھاڑے میں تبدیل کئے جانے کے عمل (جس میں دونوں قابض ریاستوں کے حکمران طبقات کی مرضی و منشا کے علاوہ مالیاتی، سیاسی اور تذویراتی مقاصدکا حصول شامل تھا) کو جواز بنا کر بھارتی ریاست نے مزاحمت اور آزادی کی جدوجہد کے اہم ترین مرکز وادی کشمیر کو فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر دیا۔ فوجی جبر اور تشدد کشمیری نوجوانوں میں ایک نئے رد عمل کا موجب بنا، جسے کے نتائج ایک لاکھ سے زائد زندگیوں کے خاتمے اور بڑے پیمانے پر تباہی، عصمت دری اور معاشی و جسمانی معذوریوں کی صورت میں برآمد ہوئے۔

جماعت اسلامی اور سید علی شاہ گیلانی جیسے ان پراکسی کرداروں نے جموں کشمیر میں محض مذہبی اور علاقائی تعصبات اور تقسیم کی ہی بنیاد نہیں رکھی بلکہ فرقہ وارانہ تقسیم کی بھی بنیادیں رکھیں اور بائیں بازو کے نظریات کی بنیاد پر جدوجہد کرنے والے سیاسی کارکنوں کو انڈر گراؤنڈ ہو کر زندگی گزارنے پر ہی مجبور نہیں کیا بلکہ حکومت پاکستان سے بھی وقتاً فوقتاً مطالبہ کیا جاتا رہا کہ سیکولر اور سوشلسٹ نظریات کے حامل افراد کے خلاف کارروائی کی جائے۔ پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں بھی جماعت اسلامی اور ہمنواؤں نے ہر ترقی پسند آواز کو دبانے کیلئے ریاست کی مدد و معاونت کی۔ جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن سمیت دیگر ترقی پسند رجحانات اور روایات کے خلاف کفر کے فتوے جاری کرنے اور ریاستی جبر کو ہوا دینے کیلئے ہر محاذ پر ریاست کی داشتہ کا کردار ادا کیا ہے۔

کمیونسٹوں کا فریضہ جموں کشمیر کے تمام منقسم حصوں کے شہریوں کو غیر مشروط و غیر محدود حق خود ارادیت کے حصول کی جدوجہد کو استوار کرنے کے ساتھ ساتھ اس خطے کی قومی آزادی کی تحریک کو بالخصوص بھارت و پاکستان اور بالعموم دنیا بھر کے محنت کش طبقے کی تحریکوں کے ساتھ طبقاتی بنیادوں پر جوڑتے ہوئے اس خطے سے سرمایہ دارانہ حاکمیت کے خاتمے کی جدوجہد کو استوار کرنا ہے۔ برصغیر پر سرمایہ دارانہ حاکمیت کے تحت نہ تو پاکستان و بھارت کے محنت کشوں اور نوجوانوں کا کوئی ایک بھی مسئلہ حل کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی جموں کشمیر سمیت بھارت و پاکستان میں موجود دیگر مظلوم قوموں کے حق خودارادیت کا حصول ممکن ہے۔

حارث قدیر کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولا کوٹ سے ہے۔  وہ لمبے عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں اور مسئلہ کشمیر سے جڑے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔