پاکستان

کنٹونمنٹس انتخابات بارے سرکاری تجزئیے اور حقیقی صورتحال

فاروق طارق

سیاسی تجزئیے جو حکومتی ایوانوں کو خوش کرنے کے لئے لکھے جاتے ہیں ان کی مثال آج مختلف اخبارات میں نظر آئی۔ کنٹونمنٹ بورڈز کے انتخابات کے بعد یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ تحریک انصاف کو 2015ء کے انتخابات کی نسبت اب زیادہ سیٹیں ملی ہیں۔ اس وقت مجموعی سیٹیں 42 تھیں جو اب بڑھ کر 60 ہو گئی ہیں۔

اسی طرح یہ ثابت کرنے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے کہ مسلم لیگ نواز کو اب 2021ء میں 2015ء کی نسبت کم سیٹیں ملی ہیں۔ اس وقت اسے مجموعی طور پر 68 سیٹیں ملی تھیں اب یہ کم ہو کر 59 سیٹیں ہو گئی ہیں۔

یہ تجزیہ سرکاری سوچ کو فروغ دینے اور حقائق سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہے۔ یہ بتایا ہی نہیں جا رہاکہ مسلم لیگ نواز جب اقتدار میں تھی تو اس کی سیٹیں 68 تھیں اور اب جب تحریک انصاف کی سندھ کے سوا تمام صوبوں میں حکومت ہے تو اسے اب جا کر 60 سیٹیں ملی ہیں یعنی 2015ء کے انتخاب کے موقع پر اقتدار کے پس منظر کو سیاسی تجزیوں سے غائب کیا گیا۔

اقتدار میں ہونے والی جماعت کو کنٹونمنٹس بورڈ کے انتخابات میں ایک سیاسی ایڈوانٹیج تو لازمی ہوتا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے انتخابات میں آج تک کوئی اپوزیشن پارٹی اقتدار والی پارٹی سے جیت نہ سکی ہے۔

مفتوحہ اور انحصار کرنے والے علاقوں میں حکومتی پارٹی کی جیت کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ وہ عوام میں مقبول ہے بلکہ وہاں بسنے والے عوام کی سوچ زیادہ حقیقت پسندانہ ہوتی ہے کہ اپوزیشن کو ووٹ دئیے تو پھر ان کی گلی محلے اور علاقہ کی حالت اور خراب ہو گی اور حکومت اپوزیشن کو فنڈز روک لے گی۔

یہ سوچ عام انتخابات میں مختلف ہوتی ہے کیونکہ اس وقت حکومتی پارٹی کو اقتدار سے علیحدہ کرنے کے امکانات موجود ہوتے ہیں۔ یا پھر سرمایہ درانہ جمہوریت اتنی جڑیں پکڑ چکی ہو کہ اپوزیشن کے کسی ضلع، تحصیل یا کنٹونمنٹس میں بلدیاتی انتخابات میں جیتنے کے نتیجہ میں وہاں ملنے والے فنڈز کو روکا نہ جا سکے۔ یہاں تو یہ سوچا نہیں جا سکتا۔ یہاں تو صوبائی اور قومی سطح پر جیتنے والے ممبران صوبائی اور قومی اسمبلی کو یہ شکایت بار بار رہتی ہے کہ ان کو فنڈز جاری نہیں کئے جا رہے۔

یہ سرمایہ داری جمہوریت کی کمزوری کی نشانی ہے کہ اقتدار ترقیاتی فنڈز جاری کرنے کا ذریعہ ہے، ووٹ نہیں۔ ایک اور بات جو موجودہ کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات میں نظر انداز کی جا رہی ہے وہ یہ کہ کنٹونمنٹس بنیادی طور پر فوجی چھاؤنی والے علاقوں کو کہتے ہیں مگر اب پاکستان میں فوجی چھاؤنی والے علاقوں میں سویلینز کی بھی ایک بڑی تعداد بستی ہے۔

ملک میں اس وقت 56 فوجی کنٹونمنٹس علاقے ہیں جس میں 27 پنجاب، 10 خیبر پختونخواہ، 10 سندھ اور 7 بلوچستان میں ہیں۔ جبکہ دو گلگت بلتستان میں ہیں۔ جبکہ ملک میں کل 42 کنٹونمنٹس بورڈز ہیں جہاں کل 219 میں سے 210 وارڈز میں انتخابات مکمل ہوئے تھے۔

9 وارڈز میں امیدوار کے فوت ہونے یا کامرہ وارڈ جہاں لوگوں نے ان انتخابات کا مکمل بائیکاٹ کیا، انتخابات نہ ہو سکے تھے۔ یہ بات بھی بالکل سامنے رکھنے کی ضرورت ہے کہ فوجی چھاؤنی والے علاقوں میں ان انتخابات کے موقع پر تحریک انصاف کو کھلے بندوں فوجی اسٹیبلشمنٹ کی حمائیت حاصل ہے۔ جبکہ یہ صورتحال 2015ء کے انتخابات کے موقع پر نہ تھی۔

ایک اور بات جو چھپائی جا رہی ہے وہ یہ کہ ان انتخابات میں تحریک انصاف کو لاہور، پشاور، راولپنڈی، سیالکوٹ، شورکوٹ، سرگودھا، واہ، اوکاڑہ میں بری شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ لاہور کی کل 15 سیٹوں میں سے تحریک انصاف صرف 3 پر کامیاب ہوئی۔ پشاور کے 5 میں سے ایک وارڈ میں اسے کامیابی ملی، سرگودھا کے 10 وارڈ میں سے صرف 2 میں حکومتی پارٹی کے امیدوار کامیاب ہوئے۔ شورکوٹ میں دونوں سیٹوں پر اس کے امیدوار ہار گئے۔

اوکاڑہ کی 5 میں سے ایک پر حکومتی پارٹی کا نامزد امیدوار کامیاب ہوا وہ بھی مزارعین کے راہنما مہر عبدالستار کی حمایت کی وجہ سے، ایک وارڈ میں اس کے امیدوار جو ایک ریٹائرڈ میجر تھے صرف 50 ووٹ لے سکے۔

پنجاب میں اقتدار کے باوجود اسے بری شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اور یہاں پر آزاد امیدواروں مسلم لیگ ن کو زیادہ ووٹ پڑے ہیں۔ پیپلز پارٹی پنجاب میں ایک سیٹ بھی نہ جیت سکی۔ 3 مذہبی جماعتوں جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام اور تحریک لبیک نے 212 امیدوار ملک بھر میں کھڑے کئے تھے۔ اس میں صرف جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے 7 امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔ اس طرح کامیاب امیدواروں کا صرف تین فیصد حصہ مذہبی جماعتوں کے حصے میں آیا۔

کنٹونمنٹس انتخابات کو عمومی طور پر عام انتخابات میں جیت کو عام انتخابات میں ووٹنگ رحجانات کا پیش خیمہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ مگر تحریک انصاف کی اگر کنٹونمنٹس بورڈز کے انتخابات میں ملک کے سب سے بڑے صوبہ میں یہ حالت ہے کہ تمام بڑے شہروں میں ناکام ہوئی ہے۔ تو یہ تو اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ عام انتخابات میں اس کی کس قدر پٹائی ہو سکتی ہے۔

فارق طارق روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے جنرل سیکرٹری ہیں اور طویل عرصے سے بائیں بازو کی سیاست میں سرگرمِ عمل ہیں۔