خبریں/تبصرے

ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری: 3 وزیراسلام آباد راولپنڈی تناو ختم کرانے میں متحرک

لاہور(جدوجہد رپورٹ)دی فرائیڈے ٹائمز کے معروف کالم ’سچ گپ‘ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید نے وزیراعظم عمران خان سے ون آن ون ملاقات کرتے ہوئے تبادلے پر عملدرآمد کا مشورہ دیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی مشورہ دیا کہ اس انتشار سے وہ اپنے آپ کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

دوسری طرف صحافی اسد علی طور نے اپنے ’وی لاگ‘میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ ڈی جی آئی ایس آئی کے بطور کور کمانڈر پشاور تبادلے اورنئے ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری کے معاملے پر وزیراعظم اور راولپنڈی کے مابین تناؤ کی کیفیت برقرار ہے اور 3 وفاقی وزراء پیغام رسانی کے کام میں مشغول ہیں۔ وفاقی وزراء اسد عمر، فواد چوہدری اور شاہ محمد قریشی عمران خان اور راولپنڈی کے درمیان پیغامات کا تبادلہ کرنے میں مشغول ہیں لیکن وزیراعظم بار بار اپنی ہی باتوں سے پھر جاتے ہیں، جس کی وجہ سے ڈیڈ لاک اور غیر یقینی کی کیفیت برقرار ہے۔

اسد علی طور نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ عمران خان کا کہنا ہے کہ وہ اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے اور الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کی منظوری کیلئے اپوزیشن اور الیکشن کمیشن سے معاملات طے کرنے کی وجہ سے فی الحال ایسی کوئی تبدیلی نہیں چاہتے۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ عمران خان نے فوجی اشرافیہ سے مضحکہ خیز مطالبات بھی کئے ہیں۔ عمران کان نے آئی ایس آئی کو ’کور‘ کا درجہ دینے کا مشورہ دیا، جب یہ مشورہ نا مانا گیا تو فیض حمید کو بطور ڈی جی آئی ایس آئی کام کرتے ہوئے کور کمانڈر پشاور کا اضافی چارج دینے کا مطالبہ کر دیا۔

اسد علی طور کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کو انکے روحانی مشیر (بشریٰ بی بی)نے یہ بتا رکھا ہے کہ دسمبر سے قبل جنرل فیض حمید کا تبادلہ انکے اقتدار کیلئے ٹھیک نہیں ہوگا اور جنرل ندیم انجم کی بطور ڈی جی آئی ایس آئی تعیناتی بھی ان کیلئے بہتر نہیں ہوگی جبکہ وزیراعظم کو بطور ڈی جی آئی ایس آئی تقرری کیلئے ایک نام بھی فراہم کیا گیا ہے۔