خبریں/تبصرے

57 فیصد پاکستانیوں نے تحریک انصاف کی معاشی پالیسیاں مسترد کر دیں: سروے

لاہور (جدوجہد رپورٹ) پلس کنسلٹنٹس کے سہ ماہی سروے کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کے معاشی بحران سے نکلنے کے دعوؤں پر عدم اعتماد کرنے والے پاکستانیوں کی تعداد 38 فیصد سے بڑھ کر 57 فیصد ہو گئی ہے۔

’دی نیوز‘ کے مطابق سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ 4 سے 11 اکتوبر کے دوران 1800 افراد سے یہ جواب حاصل کئے گئے ہیں۔ نتائج کے مطابق معاشی پالیسیوں کی سمت کو غلط سمجھنے والے پاکستانیوں کی تعداد اب 19 فیصد اضافے کے بعد 77 فیصد ہو گئی ہے، رواں سال جولائی تک 56 فیصد پاکستانی یہ سمجھتے تھے کہ معاشی پالیسیاں درست سمت نہیں جا رہی ہیں۔

سروے کے مطابق ان لوگوں کی تعداد میں کمی آئی ہے جنہیں یقین تھا کہ وزیر اعظم تبدیلی لانے میں کامیاب ہونگے۔ جولائی میں 17 فیصد جواب دہندگان نے وزیر اعظم کی پالیسیوں پر اعتماد کا اظہار کیا تھا، جبکہ موجودہ سروے میں یہ تعداد کم ہو کر اب 7 فیصد رہ گئی ہے۔

جولائی میں 56 فیصد رائے دہندگان نے معاشی پالیسیوں کو غلط سمت میں قرار دیا تھا لیکن 3 ماہ بعد ہی یہ تعداد 19 فیصد اضافے کے بعد 77 فیصد ہو گئی ہے۔ جو لوگ معاشی پالیسیوں کو درست سمت میں سمجھتے ہیں ان کی تعداد جولائی میں 43 فیصد تھی جو اب کم ہو کر 24 فیصد رہ گئی ہے۔

سروے کے مطابق پنجاب کی 79 فیصد آبادی یہ سمجھتی ہے کہ حکومت کی معاشی پالیسیاں مکمل طور پر غلط سمت میں جا رہی ہیں۔ سندھ میں 73 فیصد، کے پی کے میں 67 فیصد، جبکہ بلوچستان میں 59 فیصد یہ سمجھتے ہیں کہ معاشی پالیسیاں مکمل طور پر غلط سمت جا رہی ہیں۔

سروے میں 98 فیصد رائے دہندگان نے افراط زر کی شکایت کی، یہ تعداد جولائی میں 92 فیصد تھی، جبکہ 2 فیصد نے مہنگائی میں کمی دیکھی ہے۔ ملک کی سب سے بڑی تشویش سے متعلق رائے طلب کئے جانے پر رائے دہندگان کی 77 فیصد تعداد نے مہنگائی، 35 فیصد نے بدعنوانی، 25 فیصد نے بیروزگاری، 11 فیصد نے لوڈشیڈنگ، جبکہ 10 فیصد نے اخراجات کا پورا نہ ہو پانا سب سے بڑی تشویش قرار دیا ہے۔

61 فیصد رائے دہندگان نے حکومتی پالیسیوں میں غلطی کو موجودہ مالیاتی بحران کی وجہ قرار دیا ہے جبکہ 30 فیصد نے اسے گزشتہ حکومتوں کے بھاری قرضوں کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ سروے میں 53 فیصد رائے دہندگان نے مشیر خزانہ شوکت ترین کے اقدامات کو مسترد کیا، 13 فیصد نے ان کے کام کو درست قرار دیا جبکہ 29 فیصد نے اعتدال پسند رائے دی۔ جولائی میں 38 فیصد شہری شوکت ترین کی کارکردگی سے مطمئن نہیں تھے اور 35 فیصد نے اطمینان کا اظہار کیا تھا۔