خبریں/تبصرے

کابل: افغان خواتین کا احتجاج، عالمی ’خاموشی‘ پر شدید تنقید

لاہور (جدوجہد رپورٹ) افغانستان کے دارالحکومت کابل میں درجنوں خواتین نے احتجاجی مارچ کیا اور حقوق کی فراہمی سمیت اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے اداروں سمیت عالمی برادری کی خاموشی پر شدید تنقید کی۔

’طلوع نیوز‘ کے مطابق منگل کے روز درجنوں خواتین اس احتجاج میں شریک ہوئیں، جنہوں نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور خواتین سے حقوق چھینے جانے کے خلاف نعرے بازی کر رہی تھیں۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ 2 ماہ سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے لیکن طالبان لڑکیوں کی سکولوں میں واپسی اور خواتین کی ملازمتوں پر واپسی کی راہ ہموار کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

مظاہرے میں شریک عارفہ فاطمی کا کہنا تھا کہ ”ہم افغانستان کی صورتحال پر عالمی برادری کی خاموشی کے خلاف اپنی آواز اٹھانے آئے ہیں۔“

مرجان امیری کا کہنا تھا کہ ”آج افغانستان کی نصف آبادی کو سماجی سرگرمی سے نکال دیا گیا ہے، ہم اپنے حقوق سے محروم ہیں۔“

زرقایفتالی کا کہنا تھا کہ ”اگر عالمی برادری چاہے اور کارروائی کرے تو وہ خواتین کے خلاف بنیادی حقوق کے استعمال پر عائد پابندیاں ختم کروا سکتی ہے۔“

بہشتہ یعقوبی کا کہنا تھا کہ ”اگر طالبان دنیا کے ساتھ روابط رکھنا چاہتے ہیں تو انہیں خواتین کے حقوق کا خیال رکھنا ہوگا۔“

طالبان کی طرف سے بارہا کہا گیا ہے کہ اسلامی قوانین کے تحت لڑکیوں اور خواتین کو تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کئے جائیں گے، تاہم ابھی تک اس سلسلے میں کوئی اقدام نہیں کیا جا سکتا ہے۔

’طلوع نیوز‘ کے مطابق متعدد کوششوں کے باوجود ان کا طالبان حکومت سے احتجاج اور خواتین کے مطالبات پر تبصرہ حاصل نہیں کیا جا سکا ہے۔