خبریں/تبصرے

طالبان کا خواتین کے جلوس پر حملہ

لاہور (جدوجہد رپورٹ) طالبان نے افغانستان کے دارالحکومت کابل میں احتجاج کرنے والی خواتین پر رائفل بٹ، آنسو گیس اور آہنی راڈوں سے تشدد کر کے احتجاج کو بری طرح سے کچل دیا ہے۔

جمعہ کے روز 100 سے زائد خواتین اپنے حقوق کی بازیابی کیلئے احتجاج کر رہی تھیں، خواتین حکومت سازی سمیت زندگی کے دیگر شعبوں میں نمائندگی کا مطالبہ کر رہی تھیں۔

’نیو یارک ٹائمز‘ کے مطابق ایک 24 سالہ خاتون نرگس نے ٹیلی فون پر انٹرویو کے دوران کہا کہ طالبان نے آنسو گیس، رائفلوں کے بٹ اور آہنی راڈوں کا استعمال کرتے ہوئے خواتین کے اجتماع کو ناکام بنانے کی کوشش کی۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں بھی کسی دھاتی شے سے سر پر چوٹ لگی جس کی وجہ سے وہ بے ہوش ہو گئیں۔ ان کے سر کے زخم کو بند کرنے کیلئے انہیں پانچ ٹانکے لگے۔

انکا کہنا تھا کہ جب میں نے احتجاج کے راستے میں رکاوٹیں دور کرنے کی کوشش کی تو مسلح طالبان میں سے ایک نے مجھے دھکا دیا اور آہنی آلے سے سر پر مارا۔

نرگس کا کہنا تھا کہ جب انہوں نے سب کو دھکیل دیا اور ہمیں سپرے، ہتھیاروں اور آہنی اوزاروں سے احتجاج کی جگہ سے منتشر ہونے پر مجبور کر دیا۔ طالبان نے شدید بدسلوکی کی اور لعن طعن کرتے رہے۔

افغان میڈیا پر واقع کی ایک ویڈیو میں ایک طالبان رکن کو دکھایا گیا جو بندوق برداروں کے ہمراہ خواتین کو ایک میگا فون کے ذریعے منتشر ہونے کی تلقین کر رہا تھا، ایک خاتون نے اس کے ہاتھ سے میگا فون بھی چھین لیا۔

مظاہرین میں سے ایک رخشانہ کا کہنا تھا کہ مظاہرین ان افغان فوجیوں کو احترام دینا چاہتے تھے جو ختم شدہ جمہوریت کیلئے لڑے، لیکن ہمیں پھول چڑھانے کے بعد چاروں اطراف سے طالبان نے گھیر لیا۔

انکا کہنا تھا کہ انہوں نے ہم سے کہا کہ احتجاج ختم کریں، کچھ طالبان نے ہم پر تشدد بھی کیا۔ انہوں نے ہمارے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم صرف ایک پرامن احتجاج کر رہے تھے، ہم اس ریلی کے ذریعے اپنے حقوق مانگنا چاہتے تھے اور دکھانا چاہتے تھے کہ ہم موجود ہیں۔ ہم نے سخت محنت کی، ہم نے تعلیم حاصل کی، جدوجہد کی، قربانیاں دیں، اپنے شوہروں کو کھو دیا۔

انہوں نے احتجاج جاری رکھنے کا عزم کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنی جدوجہد اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک ہمیں اس حکومت میں اپنے حقوق واپس نہیں مل جاتے، انہوں نے ہتھیاروں کے زور پر ہمارے ملک پر قبضہ کر لیا۔