خبریں/تبصرے

شمالی افغانستان: انسانی حقوق کی کارکن سمیت 4 خواتین کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا

لاہور (جدوجہد رپورٹ) افغانستان کے شمالی شہر مزار شریف میں ایک 29 سالہ انسانی حقوق کی کارکن اور لیکچرر فروزان صافی سمیت 4 خواتین کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا ہے۔

20 اکتوبر کو لاپتہ ہونے کے بعد فروزان صافی کی لاش کی شناخت مزار شریف کے مردہ خانے میں ہوئی تھی۔ انکی بہن ریٹا، جو ایک ڈاکٹر ہیں، کے مطابق انہوں نے فروزان صافی کی شناخت انکے کپڑوں سے کی، کیونکہ گولیوں سے انکا چہرہ تباہ کر دیا گیا تھا۔

’گارڈین‘کے مطابق ریٹا کا کہنا تھا کہ ”انکے سر، دل، سینے، گردے اور ٹانگوں پر ان گنت گولیوں کے زخم تھے۔ قاتل انکی منگنی کی انگوٹھی اور بیگ اپنے ساتھ لے گئے تھے۔“

ایک معالج معراف فاروقی کے مطابق جمعرات کو طالبان 2 نامعلوم خواتین کی لاشیں لے آئے جنہیں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ صوبہ بلخ میں طالبان کے اطلاعات اور ثقافتی امور کے ڈائریکٹر ذبیح اللہ نورانی کے مطابق وہ مزار شریف میں ایک گھر میں 2 مردوں کی لاشوں کے ساتھ ملی تھیں۔

’ڈان‘ کے مطابق افغان طالبان کے ترجمان نے بتایا کہ شمالی شہر مزار شریف میں 4 خواتین کو قتل کیا گیا ہے، وزارت داخلہ کے ترجمان قاری سید خوستی کے مطابق ایک گھر سے چار لاشیں ملنے کے بعد دو مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق مذکورہ خواتین کو ایک فون کال کے ذریعے افغانستان سے انخلا کیلئے پرواز میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی اور انہیں ایک کار سے اٹھایا گیا تھا، بعد میں وہ مردہ پائی گئیں۔

ہیومن رائٹس واچ نے کہا کہ طالبان کے قوانین زیادہ تر خواتین کو ملک میں امدادی کارکنوں کے طور پر کام کرنے سے منع کر رہے ہیں، جس سے انسانی تباہی میں تیزی آ رہی ہے۔

انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ انہیں طالبان کی جانب سے ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔

گزشتہ مہینے کے آخر میں فروزان کو ایک گمنام نمبر سے کال موصول ہوئی، جس میں انہیں کہا گیا کہ وہ اپنے کام کے ثبوت جمع کریں اور ایک محفوظ گھر کی طرف روانہ ہو جائیں۔

انکی بہن کے مطابق انہوں نے اپنے یونیورسٹی ڈپلومہ سمیت دیگر کچھ دستاویزات بیگ میں بھرے اور گھر سے باہر نکل گئیں۔ انہیں امید تھی کہ ان کی جرمنی میں سیاسی پناہ کی درخواست کی جا رہی ہے۔