خبریں/تبصرے

فلسطین سے یکجہتی: جنوبی افریقہ نے اسرائیل میں ’مس یونیورس‘ مقابلے کا بائیکاٹ کر دیا

لاہور (جدوجہد رپورٹ) جنوبی افریقہ نے اسرائیل میں منعقد ہونے والے مس یونیورسٹی مقابلوں کا بائیکاٹ کرنے کا مطالبہ کیا۔ حکومت نے مس جنوبی افریقہ کو مس یونیورس کے مقابلے کیلئے سفارتی حمایت دینے سے انکار کر دیا ہے، جو رواں سال دسمبر میں اسرائیل میں منعقد کئے جا رہے ہیں۔

انسانی حقوق کی کارکن اور صحافی نیاشا بھوبو کا کہنا ہے کہ تل ابیب سے 5500 میل دو ر واقع ہونے کے باوجود جنوبی افریقہ نے فلسطینیوں کے وقار کے دفاع میں پڑوسی عرب ریاستوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

مس یونیورس کا مقابلہ حسن 13 دسمبر کو جنوبی اسرائیل کے شہر ایلات میں منعقد ہو گا۔ جنوبی افریقہ کی حکومت نے مقابلہ میں ملک کی نمائندہ لالیلا مسوانے سے اس مقابلے کا بائیکاٹ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل فلسطینیوں کے خلاف مظالم کا ارتکاب کر رہا ہے۔

جنوبی افریقی حکومت کا موقف ہے کہ نسل پرستی، حقوق کی خلاف ورزی، غیر قانونی بستیوں کی تعمیر اور نسل پرستانہ قوانین کی وجہ سے جنوبی افریقہ اچھے ضمیر کے ساتھ آئندہ اسرائیل کی میزبانی میں ہونے والے مس یونیورس مقابلے میں شرکت نہیں کر سکتا۔

تاہم مس ساؤتھ افریقہ کے وفد نے حکومتی پوزیشن کو نظر انداز کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور نجی کارپوریشن کے ذریعے چلائے جانے والے مس ساؤتھ افریقہ مقابلوں کے منتظمین نے مس ساؤتھ افریقہ کو اسرائیل میں مس یونیورس مقابلے کیلئے بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔