خبریں/تبصرے

منظور پشتین، محسن داوڑ کی جائیداد ہی کوئی نہیں جسے ضبط کر سکیں: پراسیکیوٹر سندھ کی عدالت کو اطلاع

لاہور(جدوجہد رپورٹ)حکومت سندھ کے پراسیکیوٹر نے عدالت میں موقف اختیار کیا ہے کہ پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظور پشتین اور ممبر قومی اسمبلی محسن داوڑ کی کوئی جائیداد ہی نہیں ہے، جسے ضبط کرنے کی کارروائی کی جا سکے۔

بدھ یکم دسمبر کو کراچی جیل کے اندر چلنے والی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے گزشتہ سال دسمبر میں کراچی میں منعقدہ پی ٹی ایم کے جلسہ کے منتظمین اور قائدین کے خلاف درج مقدمہ کی سماعت کی گئی۔

یاد رہے کہ یہ وہی مقدمہ ہے جس میں وزیرستان سے منتخب ممبر قومی اسمبلی اور پی ٹی ایم کے رہنما علی وزیر کو گرفتار کیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ سے ضمانت منظور ہونے کے باوجود ابھی تک علی وزیر رہا نہیں ہو سکے ہیں۔ علی وزیر کو جیل میں ہی انسداد دہشت گردی عدالت میں چلنے والے اس مقدمہ میں پیش کیا گیا۔

مذکورہ مقدمہ میں پی ٹی ایم سربراہ منظور پشتین اور ممبر قومی اسمبلی محسن داوڑ کو مفرور قرار دیا گیا ہے، علی وزیر کی دو روز قبل سپریم کورٹ نے ضمانت منظور کی ہے جبکہ دیگر نامزد افراد بھی ضمانت پر رہا ہیں۔

عدالت نے منظور پشتین اور محسن داوڑ کومفرور قرار دینے کے بعد انکی جائیدادیں ضبط کرنے کاحکم جاری کیا تھا۔ تاہم گزشتہ روز یکم دسمبر کو ہونے والی سماعت میں سندھ حکومت کے وکیل نے عدالت کو جواب دیا کہ منظور پشتین اور محسن داوڑ کی کوئی جائیداد ہی نہیں ہے، جسے ضبط کیاجائے۔

واضح رہے کہ پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنماؤں پرحکومتی ذمہ داران کے علاوہ مختلف حلقوں سے یہ الزامات تواترسے لگائے جاتے رہے ہیں کہ وہ بھارتی یا افغان خفیہ اداروں سے رقوم وصول کر کے مبینہ طور پر ریاست مخالف سرگرمیاں کر رہے ہیں۔ تاہم حکومت سندھ کے وکیل خود اعتراف کر رہے ہیں کہ ان کے پاس کوئی جائیداد ہی موجود نہیں ہے جسے ضبط کیا جا سکے۔